ہر 14 اگست کو دادا ابو ایک پرانا سا ریڈیو نکالتے۔
میں ہنستی تھی: "دادا ابو اب تو ٹی وی اور موبائل ہے، آپ نے یہ کباڑ کیوں سنبھالا ہوا ہے؟"
پچھلے سال 14 اگست کی صبح دادا ابو نے وہ ریڈیو آن کیا۔
اس میں سے قائد اعظم کی وہی تقریر آئی: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ"
دادا ابو کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ بولے: "بیٹا 1947 میں ہمارے پاس گھر نہیں تھا، کھانا نہیں تھا، پر یہ ریڈیو تھا۔ اسی سے پتہ چلا تھا کہ ہم آزاد ہیں۔"
اس دن سمجھ آیا... ہمارے پاس سب کچھ ہے پر وہ "جذبہ" نہیں۔
دادا ابو اس دنیا سے چلے گئے، پر اب وہ ریڈیو میں سنبھالتی ہوں۔ کیونکہ آزادی کی اصل آواز اسی میں ہے۔ اور وہ ریڈیو آج بھی میرے پاس امانت ہے۔
