آزادی کا اعلان سنتے ہی اشرف آنکھوں میں ایک امید لیے گھر پہنچا، لیکن اپنے اکلوتے بیٹے کا خون آلود لاشہ دیکھ کر اوسان باختہ رہ گیا۔ اب ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
وہ رات اپنی بیوی سے بولا: " تم گھر کا خاص خاص سامان سمیٹ لو"، بیوی حیرت سے بولی: "لیکن ہمارا گھر؟ دکان؟ زمینیں؟ وہ بولا:" میں یہ پاکستان پر قربان کرتا ہوں۔
صبح پاکستان جانے والے قافلے میں اشرف بھی موجود تھا، کہ اچانک افراتفری پھیلی، اشرف کی بیٹی غائب تھی، وہ کچھ دیر بعد اپنی عزت کی پامالی کا داغ لے کر لوٹی، تو اشرف علی نے محسوس کیا کہ ہجرت صرف گھر بار چھوڑنے کا ہی نہیں، بلکہ عزتیں، رشتے، اور جانیں قربان کرنے کا بھی نام ہے۔
