نانی اماں نے پرانا صندوق کھولا۔ اندر سے زرد پڑا ہوا خط نکلا۔
تاریخ تھی: 13 اگست 1947
خط میں لکھا تھا: "پیاری بہن، کل ہم آزاد ملک میں سانس لیں گے۔ سامان کم ہے، خوف زیادہ، مگر یقین ہے کہ یہ مٹی ہماری ہے۔ دعا کرنا۔"
نانی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے خط پوتی کو دیا۔ بولی: "بیٹا، یہ کاغذ نہیں، قربانی ہے۔"
پوتی نے خط کو چوما اور کھڑکی پر جھنڈا لگا دیا۔
آزادی ورثے میں ملی ہے، اب اسے سنبھالنا ہماری باری ہے۔
