🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بلا عنوان (88)
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

بلا عنوان (88)

سعدیہ رباب ولد محمد فاروق
14 اگست، 2026۱۴ مرتبہ پڑھی گئی

بلا عنوان (88) سنیں

نانی اماں نے پرانا صندوق کھولا۔ اندر سے زرد پڑا ہوا خط نکلا۔

تاریخ تھی: 13 اگست 1947

خط میں لکھا تھا: "پیاری بہن، کل ہم آزاد ملک میں سانس لیں گے۔ سامان کم ہے، خوف زیادہ، مگر یقین ہے کہ یہ مٹی ہماری ہے۔ دعا کرنا۔"

نانی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے خط پوتی کو دیا۔ بولی: "بیٹا، یہ کاغذ نہیں، قربانی ہے۔"

پوتی نے خط کو چوما اور کھڑکی پر جھنڈا لگا دیا۔

آزادی ورثے میں ملی ہے، اب اسے سنبھالنا ہماری باری ہے۔

لکھاری

سعدیہ رباب ولد محمد فاروق