🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
چودہ اگست (393)
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

چودہ اگست (393)

شمیمہ انوار
14 اگست، 2026۱۰ مرتبہ پڑھی گئی

چودہ اگست (393) سنیں

چودہ اگست کی آمد جہاں آزادی کی خوشیاں دوبالا کرتی ہے وہاں ایک سوچ وفکر کو بھی دعوت دیتی ہے کہ یاد کرو! جب ہمارے بزرگ ہجرت کر کے اس سر زمین پر پہنچے تو ان کے کیا احساسات ہونگے

میرے بزرگ بتاتے ہیں کہ ہم بہت کچھ اپنی زمینوں پر چھوڑ کر آئے مگر جس کی یاد نے ہمیں بے چین رکھا، وہ ہمارا گھوڑا'دلدار' تھا۔اُسے ہمارے دادا نے بڑے پیار سے پالا تھا ۔ دادا کے ایک بچپن کے دوست بنسی لال تھے، وہ ہمارے خاندان کو باڈر تک چھوڑنے آئے تھے۔یہ گھوڑا بھی ساتھ تھا۔ اس پر کھبی کوئی بچہ بیٹھ جاتا کھبی کوئی بچہ۔کئی دن سفر کر کے جب جدائی کا وقت آیا یعنی سرحد آگئی تو دلدار نے منہ پھیر لیا۔وہ خاموشی کا بت سا بن گیا ۔اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دادا نے اُس کی پیٹھ تھپتھپا ئی ، پیار دیا مگر وہ بدستور منہ موڑتا رہا ۔ دادا نے بنسی لال سے کہا کہ میرے لاڈلے کا بہت خیال رکھنا۔اس کی پسند کی گھاس دینا ، اس کے پانی کا خیال رکھنا ۔اُس نے دادا کو یقین دلایا کہ بے فکر رہو۔ خان صاحب ! میں آپ کی طرح اس کا خیال رکھوں گابلکہ اپنے بچوں کی طرح ، اس کی تمام ضرورتیں پوری کروں گا۔ یہ آپ کی نشانی ہے میرے پاس۔اس نے پیار سے دلدار کی باگ پکڑلی۔سر پٹ دوڑنے والا دلدار مرے مرے قدم اُٹھا رہا تھا۔ اب بنسی اور دلدار کا رُخ مشرق کی طرف تھا اور دادا کا مغرب کی طرف ۔ہماری فیملی نے سرحد کی لکیر کراس کی اور پاک سرزمین پر پہنچ کر سجدہ شکر بجا لائے۔ کس چیز کو یاد نہ کیا ، اللہ نے یہاں ہر چیز سے نوازا مگردلدارکو نہ بھلا سکے ۔ کھبی خواب میں اس کی صورت نظر آتی ، کھبی کانوں میں اس کا ہنہنانا سنائی دیتا ۔ اس کی ایک تصویر دادا کے ساتھ تھی۔ وہ ہم نے کافی عرصہ بیٹھک میں سجا کر رکھی ۔ بنسی لال کے خط کا دادا کو انتظار رہتا تھا جس میں صرف دلدار کی باتیں ہوتی تھیں ۔ کئی سال یہ سلسلہ جاری رہا مگر پھر نہ دادا رہے نہ بنسی رہا اور نہ کوئی دلدار کی خیریت بتانے والا... اب جب بھی 14اگست آتی ہے ہمیں ہمیشہ سب کی باتیں ، شکلیں یاد آتی ہیں مگر ہماری نسل کے بعد یہ سب قصہ پارینہ بن جائینگے۔

پاکستان زندہ باد۔۔۔۔

لکھاری

شمیمہ انوار