تیرہ اگست کے دن وہ غریب کام کرتے ہوئے یہی سوچتا رہا کہ میں اور میرے بچے جشنِ آزادی کیسے منائیں گے؟مگر اگلی صبح چودہ اگست اس نے اپنی خوشیوں کو ایک طرف رکھ کر سوچا کہ آج تک کسی نے اس کی عزت پہ ڈاکا نہیں ڈالا، اسے مسجد جانے سے نہیں روکا، عید منانے سے نہیں روکا۔وہ سمجھ گیاکہ آزادی ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔وہ سجدے میں گر پڑا اور بولا:
''اے مالک!سب کی عزتیں محفوظ رکھ اور میرے وطنِ پاک کو کبھی زوال نہ دینا۔''
آمین کہ کر وہ پھر کام کو چل پڑا۔
