🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
یوم آزادی اور ہم ( (111)
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

یوم آزادی اور ہم ( (111)

حافظ امیر حمزہ حیدری
14 اگست، 2026۱۰ مرتبہ پڑھی گئی

یوم آزادی اور ہم ( (111) سنیں

ایک بوڑھا بابا چھت پر بیٹھا پرچم لہراتا دیکھ رہا تھا۔پوتا پاس آیا اور پوچھا:

'' بابا! پرچم دیکھ رہے ہو، آزادی کی یاد تازہ کر رہے ہو؟''

بابا کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ بولے:

''بیٹا! اس پرچم آزادی کے لیے 1947کو ہم نے گھر، عزیز رشتے اور خون دیا تھا۔ تمہاری دادی کا بھائی سرحد پر شہید بھی ہوا تھا۔''

پوتا خاموش ہو گیا۔

بابا نے کہا:

'' آزادی کا شکر کیاکرو۔ روز سچ بولنا، کمزور کی مدد کرنا اور ملک سے وفا کرنا ہی اصل آزادی کا شکر ہے۔''

پوتے کو بات سمجھ آگئی بولا:

' بابا! آج سے میں بھی وطن کا محافظ بنوں گا اور شکر کیا کرو گا۔'

لکھاری

حافظ امیر حمزہ حیدری