14 اگست کاخوبصورت دن تھا۔کالج کے طلبا شہریوں کے ساتھ مل کر جیوے پاکستان ریلی نکال رہے تھے۔اچانک ایک نوجوان نے مذاق میں نعرہ لگایا
''پاکستان سے زندہ بھاگ۔''
ساتھ چلتے ایک بزرگ کے قدم رُک گئے۔اُنھوں نے غصے سے لڑکے کی طرف دیکھ کر کہا:
''تمھیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ ملک کیسے بنا؟ ہزاروں لوگوں نے جانیں قربان کیں،ماں نے بیٹے اور بچوں نے اپنے والدین کھوکر یہ پاکستان حاصل کیا۔''
بزرگ زارو قطار رو رہے تھے۔ لڑکے کو اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا۔اُس نے زور سے نعرہ لگایا:
''پاکستان زندہ باد!''
بزرگ مسکرائے:
''پاکستان ہمیشہ زندہ رہے۔''
