چودہ اگست کا دن پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے اور لوگ آزادی کی خوشیاں منا رہے تھے مگر اگلی صبح منظر بدل چکا تھا۔ سڑکوں اور گلیوں میں جھنڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ علی اسکول سے واپس آ رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر اُسے بہت دُکھ ہوا۔ اس نے بستہ ایک طرف رکھا اور ساری جھنڈیاں اُٹھا کر صاف کرنے لگا۔ ایک شخص نے پوچھا:
''تم اکیلے یہ نظام کیسے بدل سکتے ہو؟''
علی نے کہا:
''میں اکیلا کچھ نہیں بدل سکتا مگر پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ضرور نبھا سکتا ہوں۔''
