ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔مہاجرین کے قافلے پر سکھوں نے حملہ کردیا تھا۔لوگوں میں بھگدڑ مچی ہوی تھی۔جان بچانے کے لیے لوگ سرپٹ دوڑ رہے تھے۔گائوں کی فضا دھوئیں اور لاشوں کے جلنے کی ناگوار سی بو سے آلودہ تھی لیکن اس سے زیادہ بدبو کے بھبھوکے رابعہ کو اپنے آپ سے اُٹھتے محسوس ہو رہے تھے۔کیونکہ اِن مکروہ بلوائیوں نے اُسے ناپاک کر دیا تھا۔ رابعہ نے پاکستان جانے والے ٹرک پر اپنا دوپٹہ باندھا اور کنویں میں چھلانگ لگا دی کیونکہ اس کا ناپاک جسم اب پاکستان کی پاکیزہ مٹی کے قابل نہیں رہا تھا۔

جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰
مقدس سرزمین (103)
عبد الحفیظ شاہد ، واہ کینٹ
14 اگست، 2026۱۰ مرتبہ پڑھی گئیمقدس سرزمین (103) سنیں
لکھاری