14اگست کا دن تھا۔ ہر طرف آزادی کا جشن منایا جا رہا تھا۔ خدیجہ نے پنجرے میں بند طوطے کو دیکھا اور علی سے کہا:
'' بیٹا!آج آزادی کا دن ہے، تم بھی اِسے آزاد کر دو تاکہ یہ کھلی فضا میں سانس لے اور اپنوں کے ساتھ خوشی منائے۔''
ماں کی بات سن کر علی نے لرزتے ہاتھوں سے پنجرے کا دروازہ کھول دیا کیونکہ وہ طوطے سے بہت محبت کرتا تھا۔ طوطے نے کھلے دروازے کو دیکھا، پر پھڑپھڑائے اور اُڑ گیا۔
علی آنکھوں میں آنسو لیے اُسے دُور تک دیکھتا رہا۔ چند گھنٹے بعد وہی طوطا گھر کی منڈیر پر آ بیٹھا۔ خدیجہ نے کہا:
'' بیٹا!آزادی کے بعد واپس آنا، مجبوری نہیں، محبت ہے۔''
علی خوشی سے مسکرا دیا۔
