چودہ اگست کی رات تھی۔ محلے میں ہر طرف چراغاں تھا۔ سب لوگ چودہ اگست کا اسٹیٹس لگا رہے تھے۔ حارث نے سبز ہلالی پرچم کی تصویر لگائی اور لکھا:
'' ہم آزاد ہیں۔''
ابھی فون رکھا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر محلے کا بوڑھا خاکروب کھڑا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں پھٹا ہوا پرچم تھا۔ حارث نے پوچھا:
'' بابا!یہ کہاں سے ملا؟''
وہ بولا:
''کچرے میں پڑا تھا۔سوچا، جس پرچم کے لیے لوگوں نے گھر بار چھوڑے، اُسے یوں کیسے پھینک دوں؟''
حارث خاموش ہوگیا۔ اُس نے موبائل ایک طرف رکھا، پرچم لیا اور دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔
