چودہ اگست کی صبح تھی۔ہر چھت پر پرچم مسکرا رہے تھے مگر ایک پرانی حویلی خاموش تھی۔ دروازے پر ایک بوڑھا سپاہی بیٹھا تھا۔اُس کے ہاتھ میں پھٹا ہوا پرچم تھا۔ ایک بچہ قریب آیا اور بولا::
'' بابا!نیا پرچم لے آئوں؟''
بوڑھے نے نم آنکھوں سے کہا:
'' بیٹا!پرچم نیا نہیں، نیت نئی ہونی چاہیے۔''
بچے نے حیرت سے پوچھا:
'' آپ کی خواہش کیا ہے؟''
بوڑھے نے پرچم اُسے تھماتے ہوئے کہا:
'' بس اِتنا وعدہ کرو، اِس ملک کو کبھی گندا نہیں ہونے دو گے، جھوٹ سے بچو گے، محنت کو اپنا راستا بنائو گے۔''
بچے نے پرچم بلند کیا۔ ہوا چلی، سبز ہلالی پرچم لہرا اُٹھا۔ بوڑھے نے آنکھیں بند کیں، لبوں پر مسکراہٹ آئی اور آزادی کا چراغ ہمیشہ کے لیے روشن ہوگیا۔
