بوڑھے رحیم چچا نے اس بار چودہ اگست پر اپنی جھونپڑی کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا تھا۔ اُن کا دس سالہ پوتا علی، حیرت سے دیکھ رہا تھا:
''دادا ابو!ہمارے پاس تو رات کے کھانے کے پیسے بھی نہیں، پھر یہ سب کیوں؟''علی نے معصومیت سے پوچھا۔رحیم چچا نے مسکرا کر علی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اُنھوں نے اُسے سبز ہلالی پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
''بیٹا!یہ جھنڈا ہمیں اُمید اور آزادی سکھاتا ہے۔ غربت ہمارے حوصلے نہیں توڑ سکتی۔''
رات کو جب پورا ملک روشنیوں سے جگمگا اُٹھا تو رحیم چچا کی جھونپڑی کا وہ چھوٹاسا چراغ سب سے زیادہ روشن دکھائی دے رہا تھا۔
