80سالہ رتن بائی کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ 70سال پہلے تقسیم میں 6 ماہ کا بیٹا پاکستان میں رہ گیا تھا۔ آج ویزے پر'بیٹا'لکھوا کر آئی تھی۔ گائوں کا نام بدل چکا تھا۔ سید والا میں کوئی پرانا جاننے والا نہ ملا۔
شام کو مولوی کے گھر پہنچی۔ بوڑھے بابا چارپائی پر لیٹے تھے۔ رتن بائی نے سارا قصہ سنایا۔
بابا نے کہا:
''کیا تو رتن بائی ہے؟ تیرے جانے کے بعد مجھے چارپائی پر بچہ ملا، میں نے پالا۔''
بابا نے امام کی طرف اشارہ کیا:
''یہ تیرا بیٹا ہے۔''
بیٹے نے ماں کا ہاتھ تھاما۔70سال کا انتظار ختم ہوا۔
رتن بائی نے کہا:
''تقسیم نے گھر توڑے تھے، آج اللہ نے گھر جوڑ دیا۔''
