ملک بھر میں جشن آزادی پورے جوش وجذبے سے منایا جا رہا تھا۔بچوں کے چہروں پر خوشی اور بڑوں کے چہروں پر عزم کی پختگی صاف نظر آ رہی تھی۔یاسر اور اس کے دوست ہر سال کی طرح اس باربھی گلیوںمیں باجے بجاتے اور بغیر سائی لینسر کے موٹرسائیکل بھگاتے لوگوں کو تنگ کر رہے تھے۔
''بیٹا!نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں۔سرمایہ کھرا ہو تو ملک ترقی کرے گا۔کھوٹا ہوگا تو رائیگاں جائے گا۔'' ایک بزرگ نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا تو اُنھوں نے فوراً باجے توڑ دیے اور کھرا سرمایہ بننے کو تیار ہو گئے۔

