چودہ اگست کی صبح زینب نے نئے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھام کر دادا کے پاس جا بیٹھی۔ گلی میں ملی نغمے گونج رہے تھے مگر دادا کی آنکھیں خاموش تھیں۔زینب نے پوچھا:
''دادا!آپ خوش نہیں ہیں؟''
دادا نے مسکرا کر جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔ تصویر میں ایک نوجوان سینے سے جھنڈا لگائے کھڑا تھا۔
''یہ کون ہیں؟'' زینب نے پوچھا۔
دادا کی آواز لرز گئی:
''تمھارے پردادا نے پاکستان بننے کے سفر میں اپنی جان دے دی تھی مگر جھنڈا ہاتھ سے نہیں گرنے دیا۔''
زینب نے پرچم سینے سے لگا لیا۔آج اسے آزادی کی قیمت سمجھ آ گئی تھی۔
OOO
