ریلی میں شرکت کیلئے زبیر مکمل تیار تھا۔ سر پر سبز ہیٹ، پرچم کے مشابہہ سفید شلوار قمیص و سبز واسکٹ اور ہاتھ میں جھنڈا لیے وہ گھر سے نکلا۔چہرے پر خوشی عیاں تھی۔ لبوں پر نعرہ پاکستان تھا۔
اچانک اس کی نظر اپنے ہم عمر محلے دار اویس پر پڑی۔ وہ میلے کچیلے کپڑے پہنے نہایت حسرت سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا:
''تم نہیں جا رہے ریلی میں؟''
''ابو کی دیہاڑی نہیں لگی۔''
اویس نے نم آنکھوں سے کہا۔ زبیر کی آنکھیں بھی اُس کے حسرت زدہ لہجے سے بھیگ گئیں لیکن فوراً اُس نے اپنی جیب پر نظر ڈالی اور چہک کر بولا:
''سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، آ بازار چلیں۔''
