چودہ اگست کی صبح محلہ سبز و سفید جھنڈیوں سے سج گیا۔ ننھی فاطمہ پرچم لیے دادا کے پاس پہنچی۔اُس نے پوچھا:
''دادا جان!پاکستان ہمیں اتنا عزیز کیوں ہے؟''
دادا نے کہا:
'' بیٹی!یہ وطن ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ہمیں اِس کی حفاظت محبت، اتحاد اور ایمانداری سے کرنی ہے۔''
فاطمہ نے پرچم سینے سے لگایا اور بولی:
'' میں وعدہ کرتی ہوں کہ ہمیشہ اپنے وطن کا نام روشن کروں گی۔''
دادا کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دُور سے ملی نغمے کی آواز آئی۔ فاطمہ مسکرائی اور پاکستان کی ترقی کے لیے محنت کا عہد کیا۔
