(آخری حصہ )
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو فلسطین کا قاضی بنایا۔اس زمانے میں فلسطین شام کا صوبہ تھا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں تھا۔ کسی معاملے میں ان دونوں حضرات کا سخت اختلاف ہو گیا۔جھگڑا بڑھا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی سخت بات کہہ دی ۔ اس پر عبادہ رضی اللہ عنہ نے برہم ہوکر کہا:'' آئندہ تم جہاں ہو گے میں وہاں نہیں رہوں گا۔''
یہ کہہ کرفلسطین سے مدینہ منورہ چلے آئے۔ جب عبادہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا:''آپ (رضی اللہ عنہ ) کیوں واپس آئے ہیں ؟''
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے سارا واقعہ سنا دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سن کر فرمایا:''آپ اپنی جگہ پر واپس جائیے۔دنیا آپ ہی جیسے لوگوں کی وجہ سے قائم ہے۔جہاں آپ جیسے لوگ نہ ہوں گے۔ اللہ اس زمین کو خراب کر دے گا۔''
اس کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: ''آئندہ عبادہ تمہارے ماتحت نہیں ہیں...ان سے کوئی سوال جواب نہیں کرنا۔''
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سمجھانے پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ واپس شام آگئے اور آخری عمر تک وہیں رہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے امیرالمومنین کو پیغام بھیجا :''ہمیں سمندری جہاد کر نے کی اجازت دیجیے۔''
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب بھیجا:''آپ اس سے پہلے یہ گزارش عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی کر چکے ہیں اور انہوں نے آپ کو منع کر دیا تھا...اب میں آپ کو اس بات کی اجازت کیوں دے دوں؟''
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب بھجوایا:''سمندر میں جہاد کرنا کافی آسان ہے...اور ہم جس علاقے پر حملہ کرنا چاہتے ہیں وہ قریب ہی ہے۔''
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس جواب پر پیغام بھیجا:''اگر(یہ سفر اتنا ہی آسان ہے جتنا آپ بتا رہے ہیں) تو(کیا) آپ اپنی بیوی کے ساتھ یہ جہاد کا سفر کر سکتے ہیں؟(اگر جواب ہاں میں ہے) تو پھر تو(سمندری جہاد کی) اجازت دے دیتا ہوں...ورنہ(عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح میری طرف سے بھی) اجازت نہیں ہے۔''
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی ہو گئے۔انہوں نے جنگ کے لیے اعلان کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کو بحری جہاد کی دعوت دی...ساتھ میں یہ بھی اعلان فرمایاکہ 'ہر شخص اپنی زوجہ کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو۔''
اس دعوت پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا...ان کی بیوی ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ اس جنگ میں شرکت کی۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کر رہی تھیں، کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں ا س لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا وغیرہ کھلایا کرتی تھیں...وہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی صفائی کر رہی تھیں، ایسے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بعد نیند سے اٹھے تو ہنسنے لگے...ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے پوچھا:''آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟''
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:''میں نے اپنی امت کے لوگوں کو سمندر میں اس طرح جہاد کرتے دیکھا ہے جیسے بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھتے ہیں۔''
ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے گزارش کی:''اللہ میاں سے دعا کیجیے اللہ میاں مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے۔''
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی۔(بخاری ومسلم)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:''میری امت کے اس لشکر کے لیے جنت واجب ہو گئی جو سمندر میں سب سے پہلے جہاد کریں گے۔''(بخاری)
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بحری جہاز پر جنگ کرنے کے اعلان پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنی بیوی ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوئے اور سمندر میں جہاد کر کے اپنا نام ان لوگوں میں لکھوا لیا جن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔
اس جنگ سے واپس آکر کچھ عرصے بعد عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اور ان کا آخری وقت آ گیا۔ مرض وفات میں وفات سے پہلے ان بیٹے نے درخواست کی: ''مجھے وصیت فرمائیں۔''
عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیٹے کی درخواست کے جواب میں اس سے فرمایا:'' مجھے اٹھا کر بٹھاؤ۔''
بیٹے نے بٹھایا توفرمانے لگے :''بیٹا...! تقدیر پر یقین رکھنا، ورنہ ایمان کی خیر نہیں ۔''
اسی حالت میں ایک ہونہار شاگرد صنا بحی پہنچے اور استاد کو اس طرح حالت نزع میں دیکھ کر رونے لگے۔
عبادہ رضی اللہ عنہ نے رونے سے منع کیا اور فرمایا: ''جتنی ضروری حدیثیں(مجھے یاد) تھیں ، سب(کی سب دیانتداری کے ساتھ) تم لوگوں تک پہنچا چکا(ہوں)،البتہ ایک حدیث(بیان کرنی) باقی تھی۔ اب وہ بیان کر دیتا ہوں۔''
اس کے بعد حدیث بیان کرنے لگے۔ حدیث بیان کرتے ہی روح پرواز کر گئی۔
وفات کے وقت عمر ٧٢سال تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:''وہ (عبادہ رضی اللہ عنہ دین کے علم میں) مجھ سے زیاہ(بڑے) فقیہ ہیں۔''
حضرت جنادہ رضی اللہ عنہ سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:''وہ(عبادہ رضی اللہ عنہ) اللہ کے دین کے( بڑے فقیہوں میںسے ایک عمدہ) فقیہ تھے۔''
١(ماخذ:سنن ابن ماجہ ،ج٣،کتاب الطب، باب:بخار کا تعویذ،حدیث٤٠٨) (سیر الصحابہ،ج٣،سیر انصار(حصہ دوم)باب عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ )
