” میں اپنا جالا یہاں بناتی ہوں، اِدھر تو شکار خود چل کر آئے گا۔“
بوڑھی مکڑی نے جنگل میں موجود کھائی کے قریب پھولوں کی کیاریوں پر کئی مکھیوں کو بھنبھناتے دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور منہ میں پانی آ گیا۔
اس کھائی کے اردگرد کئی کیکر کے درخت اور ساتھ ہی ایک چھوٹا سا جوہڑ تھا۔ اس جوہڑ میں طرح طرح کی مچھلیاں رہتی تھیں اور روز ہی جنگل کے پاس والے گاؤں سے بطخیں اس جوہڑ میں نہانے بھی آتی تھیں۔
مکڑی جتنا بوڑھی تھی اتنا ہی موٹی تھی۔ اپنے آپ کو صحت مند رکھنے کے لیے روز کثیر تعداد میں خوراک کی ضرورت پڑتی تھی۔
جالا بنانے کی غرض سے جب مکڑی وہاں پہنچی تو دیکھتی ہے کہ پہلے سے ایک موٹو مینڈک وہی رہتا تھا جو اپنی لمبی زبان کے باعث جھٹ سے مکھیوں کو نگل جاتا تھا۔ مینڈک کو ایسے شکار کرتا دیکھ مکڑی کو بہت غصہ آیا۔
” سب سے پہلے میں اپنا جالا بنا لوں اس مینڈک سے بعد میں نمٹ لوں گی۔“
مکڑی نے خود سے کہا اور کالا بنانے لگ گئی۔
اس نے دن رات محنت کی اور چند ہی دنوں میں کیکر کے ایک درخت سے لے کر دوسرے درخت تک طویل جالا بنا لیا۔ مکڑی نے اپنا بہت بڑا جالا وہی بنا لیا۔
اس دن شام کو مکڑی تھک ہار کر بیٹھی ہی تھی کہ ایک شہید کی مکھی کو اپنی مستی میں مست اُدھر آتے ہوئے دیکھا۔ مکھی مکڑی کے جال میں پھنسے ہیں والی تھی کہ مینڈک نے جھٹ سے اس پر حملہ کیا اور نگل گیا۔ اس دن مکڑی کو بہت غصہ آیا لیکن وہ خاموش ہو گئی۔ ایسے ہی دن گزرتے گئے اور مکڑی کمزور ہوتی گئی۔
اپنے آپ کو دیکھ کر ایک دن مکڑی نے کہا۔
” مینڈک میاں! تم یہاں سے چلے جاؤ۔ تمہاری وجہ سے مجھے خوراک مکمل نہیں مل رہی۔ اگر میرے حصے کی مکھیاں بھی تم ایسے چٹ کرتے جاؤ گے تو میں کہاں جاؤں گی؟“
مکڑی کی بات سن کر مینڈک نے ٹررررر۔۔۔ ٹررررر کیا اور بولا:
” یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ آپ بھی میری طرح پھرتیلی بنو۔۔۔ او۔۔۔ کیسے بنو گی آپ تو بوڑھی ہو چکی ہو۔“
یہ کہتے ہی مینڈک زور زور سے ہنسنے لگا۔
مینڈک کو اپنے اوپر ہنستا دیکھ مکڑی کو شدید غصہ آیا۔
مینڈک اب اتنا ڈھٹ ہو چکا تھا کہ کسی بھی مکھی کو نہیں چھوڑتا تھا بلکہ اپنی لمبی زبان سے جال میں پھنسی مکھی کو بھی نگل جاتا۔
اس دن مکڑی کو شدید غصہ آیا اور وہ غصے سے لال پیلی ہوئی بیٹھی تھی کہ جوہڑ کے پاس بگلا دیکھا۔ اسے دیکھ مکڑی کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آ گئی۔
اس شام مکڑی نے مینڈک سے کہا:
” مینڈک میاں! تم یہاں گرمی میں بیٹھے رہتے ہو۔ وہاں جوہڑ میں تو باقی مینڈک خوشی سے زندگی جی رہے ہیں اور پانی کی نمی سے وہاں مکھیاں بھی بہت ہوتی ہیں۔“
مکڑی کی بات سن کر مینڈک کھائی سے باہر نکلا اور جوہڑ کو دیکھنا لگا، جہاں بہت سی مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔
” ارے نہیں! میں یہیں ٹھیک ہوں۔“
مینڈک پھر سے پھولوں کی کیاری میں گھس گیا۔
اب مکڑی روز کوئی نا کوئی لالچ مینڈک کو دیتی رہتی۔ ایک دن مینڈک اس کی باتوں میں آ گیا۔مینڈک کو بگلے کا پتا نہیں نہیں تھا۔
مکھیوں کی لالچ میں مینڈک نے جوہڑ کا رخ کیا۔
” بی مکڑی! میں شام کو واپس آ جاؤں گا۔“
یہ کہتے ہی مینڈک لمبی لمبی چھلانگ لگاتا جوہڑ کی طرف چل دیا۔
ابھی وہ جوہڑ کے قریب ہی پہنچا تھا کہ بگلا اڑتا ہوا آیا اور مینڈک کو چونچ میں پکڑتا اڑ گیا۔
یہ سب دیکھ بوڑھی مکڑی کو سکون ملا اور وہ خوشی خوشی اپنے شکار کی طرف متوجہ ہو گئی۔
