سچائی کا انعام
جویریہ ارشد عظیمی
کسی گاؤں میں، ایک لڑکا احمد رہتا تھا۔ احمد تھا تو چھوٹا سا لیکن اس کی سادگی اور اچھے اخلاق کے چرچے پورے گاؤں میں تھے۔
ایک دوپہر وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ کھلے میدان میں کرکٹ کھیل رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر گھاس میں چھپے ایک چمکتے ہوئے چمڑے کے بٹوے پر پڑی۔ اس نے لپک کر وہ بٹوہ اٹھالیا ، کھول کر دیکھا تو اس میں اچھے نوٹ اور چند اہم شناختی کاغذات تھے ۔
نوٹ دیکھ کر اس کے دوست نے فوراََ شورکرنے لگے:
"ارے واہ احمد! قسمت کھل گئی تمھاری تو... چلو! ان پیسوں سے ڈھیر سارے کھلونے خریدتے ہیں اور پیزا کھابھی کھائیں گے!"
احمد نے بات ان سنی کر دی۔ وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ اس نے بٹوے کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا اور سنجیدہ لہجے میں بولا:
"نہیں دوستو! یہ پیسے ہمارے نہیں ہیں،یہ کسی کی محنت کی کمائی ہے۔ سوچو، جس کا یہ بٹوہ گم ہوا ہوگا، وہ اس وقت کتنا پریشان ہوگا۔ ہمیں اسے ہر حال میں ڈھونڈ کر یہ بٹوہ لوٹانا ہوگا۔"
اس کی بات سن کر دوستوں نے کندھے اچکا ئے اور اپنے کھیل میں مصروف ہو گئے۔
احمد وہ بٹوہ سنبھالے ، گاؤں کی گلیوں اور بازاروں میں نکل پڑا۔ وہ ہر آنے جانے والے سے پوچھتا تھا کہ کیا کسی کا کچھ گم ہوا ہے؟
کچھ ہی فاصلے پر اسے ایک بزرگ سڑک کے کنارے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے دکھائی دیے۔ وہ اپنا سر پکڑے بار بار ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ احمد دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور محبت سے پوچھنے لگا:
"بابا جان! کیا ہوا !خیریت تو ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں؟"
بزرگ نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا:
"بیٹا! میرا بڑا سا پرس کہیں گر گیا ہے ،اس میں میری مہینے بھر کی دواؤں کے پیسے اور ضروری کاغذات تھے۔ اب میرے پاس گھر واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں ہے۔"
یہ سن کراحمد کے چہرے پر ایک پرسکون سی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے فوراً وہ چمکتا ہوا بڑا سابٹوہ بزرگ کی جھولی میں ڈال دیا اور بولا:
"بابا جان! اللہ کا شکر ہے کہ وہ امانت صحیح سلامت مجھ تک پہنچ گئی۔ ذرا دیکھیے ! کیا یہ وہی پرس ہے؟"
بزرگ نے کپکپاتے ہاتھوں سے بٹوہ کھولا تو ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ انھوں نے بے ساختہ احمد کو اپنے سینے سے لگا لیا اور فرطِ جذبات سے بولے، م:
"بیٹا! تم نے تو مجھے نئی زندگی دے دی ہے، یہ پرس میرے لیے سب کچھ تھا۔"
بزرگ نے اپنی جیب سے کچھ رقم نکال کر انعام کے طور پر احمد کی طرف بڑھانی چاہی مگر احمد نے ادب سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیے اور مسکراتے ہوئے بولے:
"نہیں بابا! آپ کی یہ خوشی اور دعائیں ہی میرے لیے دنیا کا سب سے بڑا انعام ہیں۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔"
بزرگ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور دل کی گہرائیوں سے دعا دینے لگے:
"بیٹا! اللہ تمھیں دنیا اور آخرت کی ہر کامیابی سے نوازے!"
جب یہ خبر گاؤں میں پھیلی تو ہر ایک کی زبان پر احمد کی امانت داری کے تذکرے ہونے لگے۔ اسم
