دار ارقم کی طرح مدینہ منوہ میں بھی مسلمانوں کو تعلیم کے حصول کی ضرورت تھی۔ اس لیے مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد صفہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ مسجد نبوی کے باہر ایک چبوترا تھا۔ اس میں صحابہ کرام تعلیم حاصل کرنے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ صفہ میں تعلیم کے حصول کے لیے تشریف لانے والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی مشغولیت کے باعث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے کرتے تھے۔ یعنی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اصحابہ صفہ کے استاد تھے۔آپ رضی اللہ عنہ صفہ میں پڑھنے والوں کو قرأت قرآن کے ساتھ ساتھ کتابت(یعنی لکھنا) بھی سکھایا کرتے تھے۔
عبادہ رضی اللہ عنہ قرأت قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کے بھی ماہر تھے۔حدیث پھیلانے کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے۔کبھی گرجا میں جاتے تو وہاں بھی رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان مسلمانوں اور عیسائیوں کو سناتے تھے۔ امام بخاری نے کئی احادیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو فقہ میں بھی کمال حاصل تھا۔اس لیے دین کے معاملے میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔اس بات کو ثبوت اس واقعے سے بھی ملتا ہے کہ جب
٢ھ میں غزوہ بدر پیش آیا۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہو کر ان ٣١٣ افراد میں شامل ہو گئے، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان فرمایا تھا۔ غزوہ بدر کے موقع پر بنو قینقاع نے منافقون کے سردار عبداللہ بن ابی کے اشارے پر آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بغاوت کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ہو گئی۔ اس لیے بنو قینقاع کو مدینہ منورہ سے جلاوطن ہونے کا حکم دیا۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بنو قینقاع سے دیرینہ تعلق اور معاہدہ تھا۔وہ چاہتے تھے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خالو ہیں اس لیے وہ اگرہمارے(یعنی بنو قینقاع) کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات مان لیں گے، لیکن عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت میں بنو قینقاع کی اس باغیانہ حرکت پر ان سے ہر قسم کا تعلق ختم کر دیا اور ان کی کوئی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں کی۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیعت رضوان میں بھی شریک ہوئے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے اخیر زمانہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ کا عامل مقرر کرتے ہوئے انھیں نصیحت فرمائی: '' خدا سے ڈرنا ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن جانور تمہاری شکایت لے کر اللہ کے حضور پیش ہوں۔''
یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:'' خدا کی قسم میں دو آدمیوں پر بھی حاکم بننے کا خواہش مند نہیں ہوں۔''
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ مجھے حاکم بننے کی خواہش نہیں ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے یہاں کی نگرانی کر رہا ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کے لوگوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ شام کی بعض لڑائیوں میں شریک ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، ان کے دور میں بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے جہادجاری رکھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر فتح ہونے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مصر پر حملہ کر رہے تھے، انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ:''ہمیں مزید فوج کی ضرورت ہے۔''
اس خط کے جواب میںحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ٤ہزار کی ایک فوج روانہ کی۔ اس فوج میں ہزار سپاہیوں پر ایک افسر تھایعنی ٤ہزار فوجیوں کے چار افسر تھے ۔ ان افسروں میں سے ایک افسر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فوج روانہ کرنے کے ساتھ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: ''ان افسروں میں ہر ایک افسر ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔''
یعنی چار افسر ٤ہزار کے برابر اور ان کے نیچے ٤ہزار فوجی کل ٨ہزار سپاہی بنے۔ یوں عبادہ رضی اللہ عنہ بھی ایک ہزار سپاہیوں کے برابر ہو گئے۔ اس بات سے آپ رضی اللہ عنہ کی جنگی قابلیت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جب مدینہ منورہ سے فوج کی مدد پہنچی تو انہوں نے وہی خوشی محسوس کی جو ایک فوج کو جہاد میں کمک پہنچنے پر ہوتی ہے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بلاکر فرمایا: '' اپنا نیزہ مجھے دیجیے۔''
''یہ لیجیے۔''عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ انہیں دے دیا۔
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنا عمامہ سر سے اتارا اور نیزہ لے کر اس پر اپنا عمامہ لگا کر اس کا علم(جھنڈا) بنا کرعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے کیااور فرمایا: '' یہ سپہ سالار کا علم ہے۔ آج آپ جنگ کے سپہ سالار ہیں۔''
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے علم لے کر لشکر کو ترتیب دیا اور حملہ کر دیا۔اللہ کی شان کے پہلے حملے میں ہی مصر فتح ہو گیا۔
