آج اتوار کی چُھٹی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تبریز میاں اپنے دوست ہاجس کے گھر پہنچ گۓ تھے، جیسے ہی اُنہوں نے اندر قدم رکھا، کیا دیکھتے ہیں کہ ہاجس گھر کے صحن میں کھڑا تھا۔ ہاجس کے آس پاس بہت سی چڑیاں، لالیاں زمین پہ بیٹھی دانا دُنکا چُگنے میں مصروف ہیں اور ہاجس ان سب کو دانا دُنکا ڈال رہا ہے۔ تبریز میاں کےلیے یہ منظر حیرت انگیز تھا۔ اُنہیں یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ حیرت ہوئ کہ چڑیاں، لالیاں بغیر کسی خوف کے بیٹھی ہیں، اُنہیں ہاجس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
”ارے تبریز؟! آؤ بھئی اِدھر آؤ۔“ ہاجس نے دروازے کے پاس رُکے تبریز میاں کو دیکھا تو خوشگوار حیرت کے ساتھ اُسے بُلانے لگا۔ تبریز میاں چہرے پر چھائی حیرت کو مسکراہٹ میں تبدیل کرتے ہوئے ہاجس کے پاس چلے آۓ مگر سارے پرندے اُسے دیکھتے ہی اُڑ گۓ۔
”یہ اُڑ کیوں گۓ؟“ تبریز نے پوچھا۔
”کیونکہ اِنہوں نے تمہیں دیکھ لیا تھا اور تم سے خطرہ محسوس کر کے اُڑ گۓ ہیں۔“ ہاجس نے ہنس کر بتایا۔
”تو تم بھی تو کب سے ان کے پاس ٹھہرے تھے، تمہیں دیکھ کر وہ کیوں نہیں اُڑے؟ تم سے اُنہیں کوئی خطرہ محسوس کیوں نہیں ہوا؟“ تبریز میاں نے بھولپن سے ایک ساتھ کئی سوال کردیے۔
”اِس لیے کہ پرندے میرے دوست ہیں، وہ مجھ سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔“ ہاجس نے کہا۔
”ارے واہ!“ تبریز میاں بولے۔
”خیر، میں تم سے ملنے آیا ہوں، تم نے پرسوں اسکول میں بتایا تھا ناں کہ تمہارے پاس بہت سی کہانیوں کی کتابیں موجود ہیں۔ میں بھی پڑھوں گا، مجھے کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ تبریز میاں خوشی سے بولے۔
”ہاں! آؤ میرے کمرے میں چلتے ہیں۔“ ہاجس نے اس کا ہاتھ تھاما۔
OO
”مجھے بھی ہاجس کی طرح پرندوں سے دوستی کرنی چاہیے۔“ ہاجس کے گھر سے واپس آ کر تبریز میاں گھر کے صحن میں بِچھی چار پائی پہ بیٹھے سوچ رہے تھے۔
”کتنا اچھا لگے گا نا، جب میں پرندوں سے دوستی کروں گا، اُن کے ساتھ کھیلوں گا۔“ تبریز میاں بُڑبڑاۓ۔
”مگر اُن سے میری دوستی ہو گی کیسے؟“ اُنہوں نے سوچتے ہوئے سر کُھجایا۔
”چُوں، چُوں، چُوں“ اُنہوں نے سر اُٹھا کر دیوار پہ بیٹھی اور گیت گاتی چِڑیا کو دیکھا تو اُنہیں بے پناہ مسرت محسوس ہوئی۔
”پیاری چِڑیا!“ وہ چِڑیا کی طرف بڑھے۔
”مجھ سے دوستی کرو گی؟“ اور پھر چڑیا پُھر سے اُڑ گئی اُن کے سوال کا جواب دیۓ بغیر۔
تبریز میاں دیکھتے رہ گۓ۔
اب ایک لالی کہیں سے اُڑتی ہوئی اُسی دیوار پر آ بیٹھی۔
”پیاری لالی! مُجھے تم سے دوستی کرنی ہے۔“ جیسے ہی وہ آگے بڑھے، لالی خطرہ محسوس کرتے ہوئے پرواز کر گئی۔ کوئی پرندہ اُن سے دوستی کرنے پر رضامند نہیں تھا۔
”مجھ سے تو کوئی بھی پرندہ دوستی نہیں کر رہا۔“ تبریز میاں رنجیدہ ہونے لگے۔ خیر، جیسے تیسے اُنہوں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور دُوسرے دِن صبح سویرے ہاجس کے گھر چلتے بنے۔ حسبِ معمول ہاجس اپنے ”دوستوں“ کے آگے دانا دُنکا ڈالنے میں مصروف تھا۔
تبریز کو دیکھتے ہی تمام پرندے دانہ دُنکا چھوڑ کر اُڑتے بنے، تبریز میاں منہ بنانے لگے۔
”لو بھئی! تمہارے یہ دوست تمہارے اِس دوست کو دیکھتے ہی اُڑ گۓ۔“ تبریز میاں نے ہاجس کو دیکھا۔
”ہاہاہا!“ ہاجس سُن کر ہنس دیا اور بولا: ”بھئی، وہ کسی غیر مانوس شخص سے ڈرتے ہیں۔“
تبریز میاں ہنکارہ بھر کر کہنے لگے: ”اچھا میں تمہارے پاس ایک کام سے آیا ہوں۔“
”ہاں، ہاں! بتاؤ۔“
”میں نے کل کوشش کی کہ اُن سے دوستی ہوجائے مگر نہ ہوسکی۔“
”کیسے کوشش کی تھی؟“
تبریز میاں نے کل والی ساری بات بتادی، جِسے سُنتے ہی ہاجس کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔
”ایسے دوستی نہیں کرتے پرندوں سے!“ ہاجس بولا۔
”پھر کِس طرح کرتے ہیں؟“ پوچھا گیا۔
”میں ذرا کچن سے آدھی روٹی لے آؤں۔“ ہاجس کچن کی جانب بڑھنے لگا۔
”کیوں، کیا ابھی ناشتہ نہیں کیا تم نے؟ رُکو پہلے مجھے تم پرندوں سے دوستی کرنا سِکھاؤ، پھر میرے گھر چلیں گے، وہاں تمہیں آدھی نہیں بلکہ پوری روٹی دوں گا، مزے سے کھانا۔“ تبریز میاں ایک سانس میں کہہ گۓ۔
کچن کی جانب بڑھتا ہاجس رُکا، اُسے دیکھا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔
”میں آدھی روٹی اپنے لیے نہیں لینے جا رہا۔“ ہاجس نے بتایا۔
”پھر کس کےلیے؟“
”تم دیکھتے جاؤ۔“
”اچھا!“
اور ہاجس آدھی روٹی لے آیا، پھر اُس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور تبریز سے کہا:
”تم اِس کمرے میں چلے جاؤ اور کمرے کی کھڑکی سے نظارہ کرو۔“ تبریز میاں کمرے میں چلے گۓ اور کھڑکی سے جھانکنے لگے۔
ہاجس اُن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور دانے نیچے ڈال رہا تھا۔ لالیاں آنے لگیں اور اُنہیں چُگنے لگیں۔
”اچھا تو ایسے کرتے ہیں پرندوں سے دوستی۔“ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرتے تبریز میاں کو پتہ چل گیا تھا۔
ہاجس نے مسکراتے ہوئے کھڑکی سے جھانکتے تبریز میاں کو دیکھا اور اشارے سے بُلایا۔ تبریز میاں کے باہر آتے ہی پرندے اُڑ گۓ۔
”پرندوں کو دانا دُنکا کِھلایا کرو، پانی پِلایا کرو تو وہ تمہارے دوست بن جائیں گے۔“ ہاجس کی بات پر تبریز سے سر ہلادیا۔
OO
اگلے اتوار صبح ہوتے ہی ہاجس، تبریز میاں کے گھر اُن سے ملنے چلا آیا۔ دیکھا کہ تبریز میاں صحن میں کھڑے پرندوں کو دانا دُنکا اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال رہے ہیں، پرندے مزے سے چُگ رہے ہیں۔ جیسے ہی ہاجس اُن کے قریب آیا، سب کے سب پرندے اُڑ گۓ۔
”ارے، یہ تو اُڑ گۓ!“ ہاجس بولا۔
”ہاں، کیونکہ یہ میرے دوست ہیں، تمہارے نہیں!“
تبریز میاں اور ہاجس ایک ساتھ قہقہے لگانے لگے۔
OOOO
