🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
سنگ دلی
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

سنگ دلی

جویریہ ارشد عباسی
5 اگست، 2026۱ مرتبہ پڑھی گئی

سنگ دلی سنیں

گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں زینب اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ زینب ایک نہایت نرم دل اور حساس لڑکی تھی، لیکن اس کے اردگرد کے لوگ اکثر سخت مزاج اور بے حس دکھائی دیتے تھے۔ گاؤں میں غربت عام تھی، مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات لوگوں کی سنگ دلی تھی۔

ایک دن زینب نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص سڑک کے کنارے بیٹھا ہے۔ اس کے کپڑے میلے تھے اور چہرے پر شدید تھکن جھلک رہی تھی۔ وہ بار بار آنے جانے والوں سے پانی مانگ رہا تھا، مگر کوئی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا، بلکہ کچھ لوگ تو ہنستے ہوئے پاس سے گزر جاتے تھے۔

زینب یہ منظر دیکھ کر بے چین ہو گئی۔ وہ فوراً گھر گئی، ایک گلاس پانی اور تھوڑی سی روٹی لا کر بوڑھے شخص کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے نہایت محبت سے پانی پیش کیا۔ بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے گلاس تھاما اور کہا: "بیٹی! آج تم نے مجھے انسان ہونے کا احساس دلایا ہے۔"

بوڑھے کے ان الفاظ نے زینب کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ سوچنے لگی کہ آخر لوگ اتنے بے حس کیوں ہو گئے ہیں؟ کیا ان کے دل واقعی پتھر کے ہو چکے ہیں؟

اسی گاؤں میں سلیم نامی ایک رئیس بھی رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی، مگر دل کے معاملے میں وہ انتہائی سنگ دل تھا۔ وہ غریبوں کو حقیر سمجھتا اور کبھی کسی کی مدد نہ کرتا۔ لوگ اس کے دروازے پر امید لے کر آتے، مگر ہمیشہ مایوس ہو کر لوٹتے۔

ایک دن سلیم سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے گھر میں نوکر چاکر تو بہت تھے، مگر کوئی بھی ایسا نہ تھا جو خلوصِ دل سے اس کے پاس بیٹھتا۔ وہ اپنے عالی شان کمرے میں اکیلا لیٹا رہتا، اور زندگی میں پہلی بار اسے احساس ہوا کہ دولت سب کچھ نہیں ہوتی۔

جب زینب کو اس کی بیماری کا علم ہوا، تو وہ بغیر کسی جھجھک کے اس کے گھر پہنچ گئی اور اس کی تیمارداری کرنے لگی۔ سلیم یہ دیکھ کر حیران تھا کہ جس گاؤں والوں سے وہ ہمیشہ بدسلوکی کرتا رہا، انہی میں سے ایک لڑکی اتنے خلوص سے اس کی خدمت کر رہی ہے۔

چند ہی دنوں میں سلیم کی حالت بہتر ہونے لگی، مگر اس کے ساتھ ہی اس کے دل میں بھی ایک عجیب اور مثبت تبدیلی آ چکی تھی۔ اس نے زینب سے پوچھا: "تم نے میری مدد کیوں کی؟ میں تو کبھی کسی کے کام نہیں آیا تھا۔"

زینب نے مسکرا کر جواب دیا: "انسان ہونا ہی مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے کام نہ آئیں تو پھر ہماری انسانیت کا کیا مطلب؟"

یہ الفاظ سلیم کے دل میں اتر گئے۔ اس نے اپنی زندگی کا انداز بدلنے کا سچا عزم کر لیا۔ اس دن کے بعد سے وہ غریبوں کی مدد کرتا، ان کے مسائل سنتا اور سب کے ساتھ نرمی سے پیش آنے لگا۔

گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ ایک سنگ دل انسان اچانک کیسے بدل گیا! مگر حقیقت یہ تھی کہ ایک نرم دل لڑکی کے چھوٹے سے نیک عمل نے ایک پگھلے ہوئے دل کو جگا دیا تھا۔

لکھاری

جویریہ ارشد عباسی

میرا نام جویریہ ارشد عباسی ہے۔ میرا تعلق کراچی سے ہے۔ مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے۔میں نے 2011 میں لکھنے کا آغاز کیا۔ اس وقت میں دورِ طالب علمی میں تھی۔ اس وقت میں نے کئی کہانیاں لکھی تھیں۔