🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اصحاب صفہ کے اُستاد۔۔۔۔۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ    ( پہلا حصہ)
جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اصحاب صفہ کے اُستاد۔۔۔۔۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( پہلا حصہ)

حافظ محمد دانش عارفین حیرت
4 اگست، 2026۰ مرتبہ پڑھی گئی

اصحاب صفہ کے اُستاد۔۔۔۔۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( پہلا حصہ) سنیں

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بیمار ہوگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو شدید بخار نے آ لیا۔انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیماری کا علم ہوا تو بے چین ہو گئے۔ سب کام چھوڑ چھاڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عیادت کے لیے پہنچ گئے۔ رشتے میں آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خالو تھے۔ اس لیے صبح شام عیادت کے لیے جانے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا حال احوال دریافت کرتے اور واپس چلے جاتے۔

ایک روز عیادت کے لیے تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طبیعت میں کچھ بہتری تھی۔انھوں نے حال دریافت کیا ۔''آپ کی طبیعت کیسی ہے؟''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا:'' میرے پاس جبرئیل امین(علیہ السلام) آئے تھے۔انھوں نے (بخار میں) مجھ پر یہ دعا پڑھی(اور دم کیا):

''بِسْمِ اللہ أَرْ قِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئِِ یُوْذِیْکَ مِنْ حَسَدِحَاسِدِِوَمِنْ کُلِّ عَینِِ اللہ ُ یَشْفِیکَ''

(ترجمہ:میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں،ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے اور نظر بد سے اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا کرے۔) ''

اس کے بعد فرمایاکہ :''مجھے جبرئیل نے اس دعا کے پڑھنے کی تلقین کی تھی۔'' ١

حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیماری کا سن کر بے چین ہوجانے والے ان صحابی کا نام عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کا لقب ابو ولید تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان سالم سے تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام صامت بن قیس تھا۔جبکہ والدہ کا نام قراة العین بنت عبادہ بن نضلہ تھا۔ والدہ محترمہ نے اپنے جگر گوشے کا نام اپنے والد کے نام پر رکھا تھا۔

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا قد لمبا، جسم صحت مند(فربہ)اور رنگ سانولا تھا۔ نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دی تو مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دعوت حق پر کان نہ دھرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے گیارہ سال ہو گئے تو ایسے میں کچھ لوگ مدینہ منورہ سے حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان لوگوں کو اپنے پاس بلایا ، ان سے ملاقات کی اور سلام دعا کے بعد پوچھا:

''آپ لوگ یثرب سے آئے ہیں؟''

انھوںنے اثبات میں جواب دیا:'' جی ہاں...!''

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' اگر آپ لوگ بیٹھیں تو میں ایک بات کہوں؟''

ان معزز لوگوں نے جواب دیا:''جی ضرور کہیے۔''

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کو اسلا م کی دعوت دی۔ ان لوگوں نے مدینہ کے یہودی عالموں سے آخری نبی کی نشانیاں سن رکھی تھیں۔انہوں نے یہ تمام نشانیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر دیکھ لیں، اس لیے انھوں نے اسلام کو قبول کر لیا۔یہ کل چھے لوگ تھے۔ ان لوگوں میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے مدینہ جا کر مدینہ کے لوگوں کو آخری نبی کے آنے کی خوش خبری سنائی:''آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لے آئے ہیں۔''

یہ خوش خبری سن کر تمام لوگ ان کے پاس آکر سوالات کرنے لگے۔

اس واقعے کے بعد دوسرے سال گیارہ لوگ مدینہ منورہ سے حج کے لیے آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اسلام کی دعوت دی، اور ان لوگوں نے اسلام قبول کیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے۔ تیسرے سال ٧٢ لوگ اسلام کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حج کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے اور حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ملاقات کی۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان تمام (یعنی تینوں) بیعتوں میں شریک تھے۔ تیسری بیعت کے دوران عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بطور انعام خزرج کے خاندان قواقل کا سردار مقرر فرمایا۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ابتداء سے ہی بہادر اور جوشیلے تھے۔مسلمان ہوکر واپس پلٹے تو والدہ محترمہ قرةالعین رضی اللہ عنہا کو مسلمان کیا۔ ان کے ایک دوست تھے کعب بن عجرہ۔ یہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔کعب بن عجرہ نے اپنے گھر میں ایک بڑا سا بت رکھا تھا۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو فکر تھی کہ کسی طرح دوست کا گھر بھی شرک سے پاک ہو۔ اس کے لیے تگ و دو کرنے لگے، لہذا ایک روزموقع پاکر دوست کے گھر میں گھس گئے اور اندر رکھے بڑے سے بت کو توڑ ڈالا۔ اس معاملے کو دیکھ کر کعب بن عجرہ ٹھٹکے اور سوچنے لگے:''جو بت اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتا وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے؟''

اللہ نے ان کی عقل سے پردہ ہٹا دیا اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے۔

دوسری طرف مکہ مکرمہ میں لوگوںنے آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اس قدر ستایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یثرب کی طرف ہجرت کا حکم دے دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ فرمایا۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا۔

آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بہت محبت تھی۔ ایک مرتبہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم چند انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے خود تشریف لے گئے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ پڑھے لکھے فاضل صحابہ کرام میں شامل تھے۔ قرأت قرآن ان کا خاص فن تھا۔اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ میں ہی مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ میں پانچ انصار صحابہ نے قرآن مجید حفظ کیا تھا۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک تھے۔

لکھاری

حافظ محمد دانش عارفین حیرت

حافظ محمد دانش عارفین حیرت نوجوان لکھاری ہیں ۔ کم مگر معیاری لکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان بھر کے بڑے چھوٹے میگزین و اکبارات میں اپنے قلم کا جادو جگا چکے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھنے لائق ہوتی ہیں۔ دان