🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
ننھا فرشتہ
جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

ننھا فرشتہ

رضوان بھٹی
4 اگست، 2026۱ مرتبہ پڑھی گئی

ننھا فرشتہ سنیں

چھٹی کی گھنٹی بجی تو جبران معمول کے مطابق آہستہ آہستہ اسکول کے دروازے سے نکلا۔ ہمیشہ کی مانند آج بھی جیب میں کچھ نہ تھا۔

یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ ہر طرف مانوس چہرے، سادہ دکانیں، تنگ گلیاں، لیکن لوگوں کے دل بڑے اور جذبات جلدی چھلک جانے والے۔ بازار کے کونے پر بشیر چاچا کی کھلونوں کی دکان تھی۔ شیشے کے شیلفوں میں روئی کے گڈے، پلاسٹک کی کاریں، ٹریکٹر، موٹر سائیکل اور ایک طرف مکس کھلونوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔ بشیر چاچا کی نظر کمزور تھی۔ لیکن وہ نیک صفت اور نمازی پرہیزی انسان تھا۔

جبران اسکول کے بعد روزانہ یہاں آ جاتا۔ صفائی، گاہکوں سے بات چیت، اور سامان ترتیب دینا یہ سب کام وہ سنبھالتاتھا۔ شام کو اجرت کی صورت میں چند روپے بشیر چاچا کی جیب سے نکلا کرتے تھے۔ جنہیں جبران گھر میں اپنے اکلوتے گلک میں ڈال دیتا تھا۔

اسکول میں جبران پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ مگر سادہ زندگی گزارنے کی وجہ سے اکثر بچوں کے مذاق کا نشانہ بھی بن جاتا۔

ایک دن جب کلاس ختم ہوئی تو تیمور نے جبران کو چھیڑتے ہوئے کہا۔

"اے کنجوس میاں۔۔۔ آج کتنے کھلونے بیچ لیے۔۔۔؟"

جبران نے سکون سے جواب دیا: "بس دو کاریں اور ایک مسکراہٹ۔"

تیمور جبران کا ہم جماعت،

اور محلے دار تھا۔ گھریلو حالات کی مناسبت سے وہ تیمور جیسا ہی تھا۔ بہت شوخ اور ہر وقت طنز کرنے والا بچہ تھا۔

اچانک تیمور میں کچھ تبدیلی آئی۔ اب وہ اکثر چپ رہتا، نظر جھکائے بیٹھا رہتا۔ بات کم، سوچیں زیادہ۔ اس کے ہم جماعت دوست پریشان سے تھے کہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے۔۔۔!

ایک شام جب جبران دکان سے واپس آ رہا تھا تو اُس نے تیمور کو اپنی گلی کے موڑ پر پریشانی میں ٹہلتے دیکھا۔ اس کا چہرہ اترا ہوا، آنکھیں لال، اور ہاتھوں میں کاغذ کی ایک پرچی تھی۔

"تیمور۔۔۔! یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟" جبران نے اس کے پاس آکر پوچھا۔

"امی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو دکھایا ہے انہوں نے دوا کی پرچی دی ہے۔ لیکن۔۔۔۔!" وہ کہتے کہتے چپ ہو گیا۔

"لیکن کیا۔۔۔؟" جبران نے جلدی سے پوچھا۔

"دوا لینے کے پیسے نہیں ہیں۔۔۔ اور دوپہر سے ہم نے کچھ کھیا بھی نہیں ہے۔ ابو کام کی تلاش میں تین دن پہلے شہر گئے ہیں۔ اب ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔ گھر میں بس میں اور امی ہیں۔" تیمور نے سر جھکا کر آہستگی سے کہا۔

جبران کچھ لمحے رکا۔ پھر نرم آواز میں مخاطب ہوا۔

"تم گھر جا کر امی کا خیال رکھو۔ یہ پرچی مجھے دو۔۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔" تیمور نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر جبران نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کر دیا۔

وہ تیزی سے اپنے گھر آیا۔ کمرے میں جا کر پلنگ کے نیچے سے اپنی گلک نکالی۔ وہ گلک۔۔۔ جس میں پیسے رکھ کر وہ اکثر اپنی بہن سے کہتا تھا۔

"یہ جمع ہو رہے ہیں۔۔۔ کسی دن بہت کام آئیں گے۔" اور شاید آج وہی دن تھا۔

جبران نے گلک توڑ کر ساری رقم نکال لی۔ روپے تھوڑے تھے لیکن اس سے دوا، پھل اور کھانا آ سکتا تھا۔

اس نے میڈیکل اسٹور سے دوا لی، ٹھیکے سے پھل اور ہوٹل سے روٹی سالن پیک کروا کیا۔ اب اس کا رخ تیمور گھر کی طرف تھا۔

تیمور کی ماں بخار میں تپتی چارپائی پر پڑی تھیں۔ جبران نے دوا دی، پانی دیا اور تیمور کو ہدایت کی کہ کب کون سی دوا دینی ہے۔ اور کھانے کی چیزیں رکھتے ہوئے کہا:

"مزید کچھ ضرورت ہو تو بلا ججھک بتا دینا۔" تیمور کچھ دیر خاموش رہا۔

"جبران۔۔۔ تم بہت الگ ہو۔" اس نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

اگلے دن تیمور تھوڑی دیر سے اسکول پہنچا۔ اور سیدھا پرنسپل کے دفتر گیا اور ساری بات تفصیل سے بتادی۔ پرنسپل صاحب نے غور سے سنا۔ وہ کافی دیر خاموش رہے۔ پھر آہستگی سے کہا۔

"بیٹا۔۔۔ جبران جیسے بچے ہمارے اسکول اور ہمارے معاشرے کی اصل پہچان ہیں۔ یہ ننھے فرشتے دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔"

اگلے دن اسمبلی میں پرنسپل صاحب نے تمام طلباء کو ایک کہانی سنائی۔

"ایک لڑکا... جس کے پاس جیب میں کچھ نہ تھا. لیکن دل میں ہمدردی، احساس اور قربانی کا جذبہ تھا۔۔۔ ہم اکثر ان بچوں کو دیکھتے ہیں جو پڑھائی میں ہمیشہ اول آتے ہیں، مقابلے جیتتے ہیں اور بہت ذہین ہوتے ہیں۔ لیکن اصل فاتح وہ ہی ہے جو کسی اور کا درد اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ایسا ہی ایک بچہ ہمارے اسکول میں بھی ہے۔"

ایک دن اسکول سے واپسی پر، تیمور نے جبران سے پوچھا،

"یار وہ گلک تو خالی ہو گئی ہو گی نا۔۔۔؟"

جبران نے ہنس کر جواب دیا:

"گلک خالی ہوئی تو کیا ہوا۔۔۔ دل تو اور بڑا ہو گیا ہے ناں۔"

لکھاری

رضوان بھٹی

جناب رضوان بھٹی بچوں کی مقبول لکھاری ہیں ، عرصہ دراز سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں لکھ رہے ہیں ، کہانی گھر کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے