بھالو اور لومڑی
تابندہ طارق عکس
ایک گھنے اور خوبصورت جنگل میں بھالو اور ایک لومڑی رہتے تھے۔ ہر طرف چڑیوں کی چہچہاہٹ اور ٹھنڈی ہوا کا راج تھا۔ لومڑی بہت چالاک تھی، جبکہ بھالو بے چارہ بھولا بھالا اور بھلکڑ تھا۔ وہ اکثر باتیں بھول جاتا تھا۔ اسی وجہ سے جنگل کے سب جانور اسے بھلکڑ بھالوکہہ کر پکارتے تھے۔بھالو کو شہد بے حد پسند تھا۔ ایک دن وہ صبح سے جنگل میں شہد تلاش کرتا پھر رہا تھالیکن اُسے کہیں سے بھی شہد نہ ملا۔ تھک ہار کر وہ ایک بڑے سے درخت کے نیچے لیٹ گیا اور چند ہی لمحوں میں گہری نیند سو گیا۔
لومڑی جھاڑیوں کے پیچھے بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ بھالو کو شہد بہت پسند ہے، وہ تو شہد کا سن کر ہی خوش ہو جاتا تھا۔اُس نے دِل ہی دِل میں سوچا:
''اگر میں کوئی ایسی ترکیب سوچوں کہ شہد حاصل کرنے کے لیے ساری کوشش تو بھالو کرے، لیکن مجھے بھی مزے کا شہد کھانے کو مل جائے!''
اِسی دوران ایک خرگوش اچھلتا کودتا وہاں آیا اور بولا:
''لومڑی خالہ!میں آپ کو ایک خبر سنانے آیا ہوں۔''
لومڑی نے چونک کر اُسے دیکھا اور پوچھنے لگی:
''کیسی خبر؟''
خرگوش بولا:
''قریب ہی کچھ انسانوں نے ڈیرہ لگایا ہوا ہے۔ وہ شہد کی مکھیوں کے چھتے رکھنے کے لیے لکڑی کے بڑے بڑے ڈبے لیے ہوئے ہیں اور ان میں شہد جمع کر رہے ہیں۔''
یہ سنتے ہی لومڑی کی آنکھیں چمکنے لگی۔اُس کے ذہن میں فوراً ایک ترکیب آ گئی:
''اگر میں انسانوں کے شہد کا کوئی باکس اُٹھا لاؤں اور اسے بھالو کو دوں تو ڈبہ کھولنے کی مصیبت وہ اُٹھائے گا اور اِس طرح مجھے مفت میں کھانے کے لیے بہت سا شہد مل جائے گا۔''
لومڑی نے خرگوش کو بھگا دیا اور خود انسانوں کے ٹھکانے کی طرف جانے لگی۔اُس نے خرگوش سے راستا پہلے ہی پوچھ لیا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتی ہوئی انسانوں کے ٹھکانے کے قریب پہنچ گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ وہاں ڈبوں سے تھوڑا دُور ایک ٹینٹ لگا ہوا تھا۔لومڑی دُبک کر ٹینٹ کا جائزہ لینے لگی:
''لگتا ہے، اِن ڈبوں کے مالک اُس ٹینٹ میں ہیں۔''
جب اُسے یقین ہو گیا کہ ڈبوں کے آس پاس کوئی نہیں ہے تو اُس نے جلدی سے شہد کا ایک چھوٹاسا ڈبہ اُٹھایا اور وہاں سے بھاگ نکلی۔ وہ بھالو کے پاس پہنچی اور بولی:
''پیارے دوست!ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو!میں تمھارے لیے کیا لائی ہوں۔''
بھالو نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ وہ ڈبہ دیکھ کر حیرت سے بولا:
''ارے!یہ کیا ہے؟''
لومڑی مسکراتے ہوئے بولی:
''یہ وہ ڈبہ ہے جس میں مکھیاں شہد چھپاتی ہیں،میں خاص تمھارے واسطے لائی ہوں۔''
شہد کا سنتے ہی بھالو خوشی سے اچھل پڑا۔ اُس نے ڈبہ کھولا ہی تھا کہ اس میں موجود شہد کی مکھیاں بھنبھناتی ہوئی باہر نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر بھالو گھبرا گیا اور ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ مکھیاں غصے سے اس کے گرد منڈلانے لگی۔ وہ کہہ رہی تھیں:
''ہم آرام کر رہی تھیں، تم نے ہمیں کیوں پریشان کیا ہے؟ ہم بڑی محنت سے شہد بناتی ہیں اور تم چور کے بچے!ہمارا گھر اُٹھا کر یہاں لے آئے ہو!''
مکھیاں کاٹنے کے لیے بھالو کی طرف تیزی سے لپکیں تو وہ خوف سے چیخنے لگا:
''بچاؤ!بچاؤ!''
دُور کھڑی لومڑی یہ منظر دیکھ کر ہنس رہی تھی۔ اُس نے مکھیوں اور بھالو کی نظر بچا کر ڈبے میں سے شہد نکال لیا تھا اور چپکے سے شہد لے کر جھاڑیوں میں چلی گئی۔ خود کو مکھیوں سے بچاتے بچاتے بھالو تھک کر چور ہو گیا۔ آخر وہ دھڑام سے گرا اور بے ہوش ہو گیا۔اُسے گرتے دیکھ کر مکھیاں وہاں سے چلی گئیں ۔تھوڑی دیر بعد ایک شیر وہاں سے گزر رہا تھا۔ اُس نے بھالو کو زمین پر پڑے دیکھا تو وہ اُسے ہوش میں لانے لگا۔ جب بھالو کو ہوش آیا تو شیر نے پوچھا:
''بھالو!تمھیں کیا ہوا تھا؟''
بھالو سر کھجاتے ہوئے کہنے لگا:
''مجھے یاد نہیں شیر بادشاہ...''
اگلے دن لومڑی نے دوبارہ وہی چال چلنے کی کوشش کی۔ وہ ایک بار پھر مکھیوں کا ایک چھوٹا سا ڈبہ اُٹھا لائی ۔ اُس نے پھر بھالو سے ڈبہ کھولنے کے لیے کہا لیکن بھالو کل والی اس کی حرکت بھولا نہیں تھا! وہ انجان بن گیا اور کہنے لگا:
"لائو!میں ڈبہ کھولتا ہوں۔ کل ہمارا شہد کوئی چرا کر لے گیا تھا، ہم آج کسی کو اپنا شہد چرانے نہیں دیں گے۔ اور ہاں!کل میں بے خبری میں مکھیوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا، آج ایسا نہیں ہوگا!''
بھالو نے ہنستے ہوئے کہا۔وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی کل کی طرح مکھیوں والا ڈبہ کھولا، مکھیاں تیزی سے نکل کر اس کے سامنے فضا میں ٹھہر کر اُسے گھورنے لگیں۔ بھالو نے غیر محسوس طور پر اپنی گردن اس موٹے تنے والے درخت کی طرف موڑی جہاں چالاک لومڑی چھپ کر اُنھیں دیکھ رہی تھی۔ایسے میں مکھیوں کی سردار مکھی نے کہا:
''کوئی بھالو پر حملہ نہیں کرے گا، یہ ہمارا مجرم نہیں ہے۔ ہمیں پریشان کرنے والا اس درخت کے پیچھے چھپ کر ہمیں دیکھ رہا ہے۔میں نے اسے کل بھی وہیں، اُس درخت کے پیچھے دیکھا تھا۔''
''اس بات کا خیال بھی رکھنا کہ کل کی طرح وہ آج بھی تمھارا شہد چرا نہ لے جائے!وہ چالاک ہے اور دوسروں کو بیوقوف سمجھتی ہے۔ میں نے کل اسے شہد لے جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا لیکن میں انجان بن گیا تھا جیسے میں نے کچھ نہیں دیکھا۔'' بھالو نے جلدی جلدی کہا۔اُس کے خاموش ہوتے ہی مکھیاں تیزی سے لومڑی کی طرف جانے لگیں۔ ادھر لومڑی بھی جیسے سب سمجھ گئی تھی، وہ بھاگ اٹھی مگر مکھیاں اسے کہاں چھوڑنے والی تھیں۔ لومڑی ادھر ادھر بھاگ رہی تھی اور مکھیاں اس کے پیچھے تھیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر بھالو زور زور سے ہنسنے لگا۔
OOO
