🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
آزادی
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

آزادی

محمد رمضان شاکر
محمد رمضان شاکر
2 اگست، 2026۲ مرتبہ پڑھی گئی

آزادی سنیں

محمد رمضان شاکر

ایان سکول سے واپس آیا تو بہت تھکا ہوا تھا اور اس کو نیند بھی بہت آ رہی تھی۔اس کا ارادہ تھا کہ جلدی سے کھانا کھا کر سو جاتا ہوں ۔پھر اٹھ کر سکول کا کام کر لوں گا ۔

جتنی دیر میں اس نے منہ ہاتھ دھویا ۔اتنی دیر میں اس کی امی جان نے اس کے لیے کھانا دستر خوان پر لگا دیا تھا۔

اس نے دو چار لقمے کھائے اور جماہی لیتا ہوا اپنے کمرے کو چل دیا۔

ارے ایان بیٹا کہاں چل دیئے۔۔

کھانا تو ختم کرتے جاؤ ۔اس کی امی جان نے جو یوں اسے اٹھتے دیکھا تو جلدی سے بولیں۔

امی جان۔۔۔مجھے سخت نیند آ رہی ہے میں اپنے کمرے میں سونے جا رہا ہوں۔

ایان نے جماہی لیتے ہوئے کہا۔تو اس کی امی جان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔تھوڑی ہی دیر میں وہ گہری نیند سو رہا تھا۔

دو گھنٹے بعد جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی سے اپنے کمرے سے نکلا اور صحن میں لگے درخت پر چڑھنے لگا۔ابھی وہ تھوڑا ہی اوپر گیا تھا کہ اسے اپنی امی جان کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔شاید وہ کچن کی طرف ہی آ رہی تھیں۔جو کہ صحن کی طرف ہی تھا۔اور اس کا ایک دروازے صحن کی طرف بھی کھلتا تھا ۔

ایان پھرتی سے نیچے اترا اور جلدی سے کچن میں گھس کر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔اتنے میں اس کی امی جان بھی کچن میں آ گئیں۔

ایان تم کب جاگےاور اس وقت کچن میں کیا کر رہے ہو۔۔

امی جان ابھی ابھی اٹھا ہوں ۔پیاس لگ رہی تھی تو پانی پینے کچن میں چلا آیا۔

ایان جلدی سے بولا۔

اجھا اب جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر سکول کا کام نبٹا لو۔میں ذرا کچن کو دیکھ لوں۔اس کی امی جان نے برتن وغیرہ سمیٹتے ہوئے کہا۔

جی امی جان۔۔۔میں یہی کرنے لگا تھا۔۔ایان نے ادب سے کہا اور اپنے کمرے کو چل دیا۔

ایان بہت ہی ذہین اور ہونہار بچہ تھا۔وہ تیسری کلاس میں پڑھتا تھا۔والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام کرتا تھا اور ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا تھا۔

اسے پرندے پالنے کا بہت شوق تھا مگر اس کے امی ابو اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ معصوم پرندوں کو قید کر کے رکھا جائے۔اس نے کئی بار بولنے والا توتا لانے کی فرمائش کی تھی مگر اس کے امی ابو نہیں مانے تھے۔ لیکن اسے بہت شوق تھا۔

اپنا شوق پورا کرنے کے لیے ایان پچھلے کچھ دنوں سے صحن میں لگے درخت کے ارد گرد منڈلا رہا تھا۔ مگر اسے موقع نہیں مل رہا تھا کہ اس پر چڑھ کر اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔آ

ج اسے موقع ملا تھا ۔مگرعین وقت پر اس کی امی جان آ گئی تھیں اور یوں آج بھی اس کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔

اصل میں اس درخت پر ایک توتا اور توتی کھوہ بنا کر رہتے تھے اور انہوں نے انڈے دیے ہوئے تھے۔ایان کو مالی بابا سے پتہ چلا تھا کہ ان دنوں میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ وہ آج نظر بچا کر یہ دیکھنے درخت پر چڑھا تھا کہ بچے نکلے کہ نہیں۔مگر امی کی آمد نے اس کا منصوبہ چوپٹ کر دیا تھا ۔

آخر کار ایک دن اسے موقع مل ہی گیا درخت پر چڑھنے کا۔اس کی امی جان تھوڑی دیر کے لیے ساتھ والے گھر میں گئی ہوئی تھیں۔ایان کے لیے یہ بہترین موقع تھا اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا۔

ایان نے چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر پھرتی سے صحن میں لگے درخت پر چڑھتا چلا گیا۔ توتا توتی دانے دنکے کی تلاش میں کہیں باہر نکلے ہوئے تھے۔ایان نے کھوہ میں ہاتھ ڈالا اور جلدی سے ایک بچہ باہر نکال لیا۔تین بچے اور بھی تھے مگر اس نے فی الحال ایک ہی اٹھانے پر اکتفا کیا۔

جب وہ نیچے اترا تو توتے کا ایک خوبصورت اور ننھا سا بچہ اس کے ہاتھوں میں تھا۔توتے کا بچہ لیے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور پہلے سے وہاں رکھے ایک پنجرے میں اسے قید کر دیا۔

ایان اسے پا کر بہت خوش تھا۔ جب کہ توتے کا بچہ بہت غمگین تھا۔ کیونکہ وہ اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا تھا۔ایان نے اسے خوش رکھنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اداس ہی رہا اور بے چینی سے ٹیں ٹیں کرتا رہا۔

ایان سے اس کی اداسی دیکھی نہ گئی اور امی کے آنے پر ساری بات انہیں بتا دی ۔

بیٹا بہت اچھی بات ہے کہ تم نے ننھے توتے کے درد اور بے چینی کو محسوس کیا۔آپ ایسا کرو کہ اسے اس کے گھر میں چھوڑ آؤ۔دیکھو تو اس کے ماں باپ بھی کس طرح بے چینی سے چکراتے پھر رہے ہیں۔اس کی امی نے پیار سے اسے سمجھایا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

ایان سمجھ گیا تھا کہ ننھا توتے کا بچہ کیوں اداس ہے۔ایان کی امی جان کہیں جاتیں تو وہ بھی اداس ہو جاتا تھا۔لہذا ایان نے اسے جہاں سے اٹھایا تھا۔وہیں پر رکھ دیا۔ننھا توتا آزادی پا کر اور ایان اچھا کام کر کے بہت خوش تھا۔

محمد رمضان شاکر

لکھاری

محمد رمضان شاکر

جناب محمد رمضان شاکر بچوں کے لیے بے شمار نظمیں لکھ چکے ہیں ، بچوں کے ادیبوں پر سب سے طویل نظم لکھنے کا اعزاز رکھتے ہیں ، بہت معیاری اور با مقصد نظمیں لکھتے ہیں ، کہانی گھر میں ان کی پیاری پیاری نظمیں