شاباش علی!
علی کو بچپن ہی سے پرندے پالنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک دن بازار سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک انتہائی خوبصورت اور رنگ برنگے طوطے پر پڑی۔ طوطا بہت خوبصورت تھا۔ علی نے فوراً اسے خریدا اور گھر لے آیا۔ اس نے اپنے نئے دوست کے لیے بازار سے سب سے قیمتی اور خوبصورت پنجرہ خریدا۔وہ روز صبح سویرے اُٹھتا، پنجرے کی صفائی کرتا، اُسے تازہ دانہ اور صاف پانی دیتا تھا۔ وہ گھنٹوں اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتاتھا۔
طوطا بھی جلد ہی علی سے مانوس ہو گیا اور اپنی مٹھاس بھری آواز میں 'علی...علی' پکارنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طوطے کی آنکھوں کی چمک ماند پڑنے لگی تھی۔ علی کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔ طوطے اس کی شوخی، چہچہاہٹ اور چستی رفتہ رفتہ خاموشی میں بدلنے لگی تھی۔ وہ سارا دن پنجرے کی لوہے کی سلاخیں تھامے باہر کھلے آسمان کو دیکھتا رہتا تھا۔ جب بھی فضا میں پرندوں کا کوئی غول چہچہاتا ہوا گزرتا، وہ بے تاب ہو کر چیختا اور پنجرے سے اپنے پر ٹکرانے لگتا۔ علی یہی سمجھتاتھا کہ شاید وہ بھوکا ہے یا توجہ چاہتا ہے۔ علی اس حقیقت سے واقف نہیں تھاکہ وہ قید کی اذیت سے نڈھال سا رہنے لگا تھا۔ وہ آزاد فضائوں کا مسافر تھا اور علی نے اسے پنجرے میں قید کر لیا تھا۔
ایک دن علی کی دادی نے اسے پنجرے کے پاس افسردہ بیٹھے دیکھا تو شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولیں:
''بیٹا!اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار کو آزاد پیدا کیا ہے۔ تم پنجرے میں چاہے سونے کے دانے اور چاندی کا پانی ہی کیوں نہ رکھ دو، قید بہرحال قید ہی رہتی ہے۔ پرندے کا اصل ٹھکانہ آسمان ہے۔''
علی نے دادی کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اُڑا دیا اور کہنے لگا:
''دادی!میں اس سے شدید محبت کرتا ہوں، اسی لیے تو اسے سنبھال کر، حفاظت سے رکھا ہوا ہے میں نے۔''
دن گزر رہے تھے اور طوطا کمزور سے کمزور ہو رہا تھا۔آخر اُس نے دانہ کھانا اور پانی پینا، تقریباً چھوڑ ہی دیا تھا۔
علی کی پریشانی بڑھی تو وہ اسے پرندوں کے ڈاکٹرکے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے طوطے کی حالت دیکھ کر، پنجرے کو دیکھا اور سنجیدگی سے کہنے لگا:
''اسے کسی دوا کی نہیں، کھلی ہوا اور آزادی کی ضرورت ہے۔ اگر تم نے اِسے آزاد نہ کیا تو یہ چند دن کا مہمان ہے۔''
ڈاکٹر کے الفاظ نے علی کے دل پرچوٹ لگائی۔ وہ پریشان ہوگیا تھا۔اسی پریشانی میں وہ رات کو ٹھیک سے سو بھی نہ پاتا تھا۔ گھر والے علی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے۔علی کو دادی کی کہی ہوئی ایک ایک بات ستاتی تھی۔ وہ دن رات اپنے دوست طوطے کے لیے پریشان اور دُکھی رہنے لگا تھا۔گھر میں عجیب سی صورت حال تھی۔ دادی اس سے بار بار کہہ رہی تھی کہ بیٹا ! چھوڑ دو اس غریب کو۔آخر ایک شام علی وہ فیصلہ کر لیا ، جس کے لیے وہ ذہنی طور پر بالکل تیار نہیں تھا۔وہ بڑا مشکل فیصلہ تھا۔ وہ پنجرہ اُٹھا کر چھت پر چلا گیا ۔
شام کا دلکش منظر تھا اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ علی نے کانپتے ہاتھوں سے پنجرے کا دروازہ کھولا اور اپنی آنکھیں مضبوطی سے بند کرلیں۔چند لمحے خاموشی رہی ، پھر اچانک پروں کی تیز پھڑپھڑاہٹ اُس کے کانوں سے ٹکرائی تو اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ طوطا پنجرے سے نکل کر فضا میں ، چھت کے اُوپر جیسے کھڑا سا ہو گیا تھا۔پھر اس نے ایک چکر کاٹااور علی کو دیکھنے لگا جیسے اُس کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ پھر وہ تیزی سے اوپر اُٹھتا چلا گیا۔ علی کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں اطمینان و سکون اُتر آیا تھا۔اُس نے خاموشی سے پنجرہ اُٹھایا اور خاموشی سے چھت سے نیچے آگیا۔ اب وہ پہلے والا علی نہیں رہ گیا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ آیندہ پرندوں سے محبت ضرور کرے گا لیکن اُنھیں قید نہیں کرے گا ، وہ پرندوں کا دوست بنے گا اور اپنی دوستی کی کہانیاں لکھا کرے گا۔اُس نے جب دادی کو اپنے ارادوں کے بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی اور اُس کی پیشانی چومنے لگیں، پھربولیں:
''شاباش علی ! ہمیںمعصوم پرندوںکے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھنا چاہیے.....''
دادی کی بات سن کر علی مسکرانے لگا۔
OO
