چھٹی کی گھنٹی بجی تو بچے جلدی جلدی بستے سمیٹ کر اسکول سے باہر نکلنے لگے۔ کچھ سائیکلوں پر سوار ہوئے، کچھ پیدل روانہ ہوئے۔ لیکن ایک بچہ برآمدے کے ستون کے پاس اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا آہستہ آہستہ گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی سی کاپی تھی، جس پر پنسل سے بنے کچھ خاکے جھلک رہے تھے۔ اس کا نام حمزہ تھا۔
حمزہ پیدائشی طور پر ٹانگوں سے معذور تھا۔ مگر وہ پڑھائی میں نہایت ذہین، خاموش طبع اور مہذب بچہ تھا۔ اسی اسکول میں اذلان بھی پڑھتا تھا۔ ذہانت میں وہ بھی کم نہ تھا، لیکن اسے اپنی قابلیت پر ناز تھا اور وہ اکثر دوسروں کو کم تر سمجھتا۔ اس کے والد ایک ماہر الیکٹریشن تھے اور گھریلو بجلی کے آلات مرمت کرنے میں خاصے معروف تھے۔
ایک دن اسکول میں سائنس میلے کا اعلان ہوا۔ بچوں کو ہدایت دی گئی کہ تین تین کے گروپ میں سائنسی ماڈل بنائیں۔ کئی گروپ بننے لگے۔ کسی نے پانی صاف کرنے کے ماڈل کا سوچا، کسی نے سولر چارجنگ سسٹم بنانے کی ٹھانی۔ اذلان نے اعلان کیا کہ وہ کم بجلی خرچ کرنے والا آلہ بنائے گا جو لوڈ شیڈنگ میں بھی کام کرے۔
جب گروپس مکمل ہونے لگے، تو حمزہ کا کوئی ساتھی نہ بن سکا۔ اس نے خاموشی سے کلاس ٹیچر کے سامنے درخواست رکھی: "سر، اگر مجھے بھی کسی گروپ میں شامل کر لیا جائے تو میں بھی حصہ لینا چاہتا ہوں۔"
ٹیچر نے اسے دو ایسے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جو پڑھائی میں پیچھے تھے مگر نیک دل اور محنتی تھے۔ حمزہ نے شکر ادا کیا، مگر دل میں ارادہ کر لیا کہ کچھ ایسا کرے گا جو سب کو حیران کر دے گا۔
اس روز گھر آ کر وہ دیر تک اپنی پرانی کاپی کے خاکے دیکھتا رہا۔ پھر ایک نیا خاکہ بنایا۔ ایک وہیل چیئر، جو عام کرسیوں سے ہٹ کر تھی۔ اس میں مقناطیسی بریک، اضافی ہینڈل، اور سیٹ کے نیچے ایک بیگ رکھنے کی جگہ تھی۔
اگلے کچھ دن وہ خاموشی سے پراجیکٹ پر کام کرتا رہا۔ اسکول کے بعد، یا کبھی چھٹی کے دن، اس کے ساتھی اس کے گھر آتے، کچھ لکڑیاں، کچھ پرزے اور کیلیں لے آتے اور سب مل کر کام کرتے۔ ان کے وسائل محدود تھے، لیکن نیت صاف اور جذبہ بلند تھا۔
ایک دن چھٹی کے بعد اذلان سڑک پار کر رہا تھا۔ وہ موبائل میں الجھا ہوا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی: "اذلان! رُک جاؤ!"
اس نے فوراً قدم روکے اور ایک تیز رفتار کار اس کے بالکل قریب سے گزر گئی۔ وہ چونکا، پیچھے دیکھا تو حمزہ وہیل چیئر پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ لمحے وہ خاموش رہا، پھر سر جھکا کر آگے بڑھ گیا۔
گھر پہنچ کر وہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔ والد نے پوچھا: "بیٹا، آج اتنے خاموش کیوں ہو؟"
اذلان نے سارا واقعہ سنا دیا اور کہا: "بابا، اگر حمزہ نہ ہوتا تو آج میں بھی شاید اُس کی طرح ہوتا۔"
والد نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، زندگی میں کسی کو کم تر مت سمجھو۔ کمزوری اکثر نظر کی دھوکہ ہوتی ہے۔ اصل طاقت دل میں ہوتی ہے۔"
اگلے دن اذلان کے والد خود اسکول آئے اور حمزہ سے ملے۔ "بیٹا، سنا ہے تم سائنس میلے کے لیے کوئی ماڈل بنا رہے ہو؟"
حمزہ نے شرماتے ہوئے بتایا: "جی، ایک وہیل چیئر کا ماڈل بنا رہا ہوں جس میں مقناطیسی بریک ہو اور ایک اضافی بیگ رکھنے کی جگہ بھی ہو تاکہ اسکول آنے جانے والے بچوں کو سہولت ہو۔"
اذلان کے والد نے سر ہلایا: "یہ بہت کارآمد خیال ہے۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک بتانا۔"
حمزہ نے صرف شکریہ کہا، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ان کی بات سچی تھی۔ آنے والے دنوں میں، جو بھی پرزہ یا چیز حمزہ کو درکار ہوتی، کسی نہ کسی ذریعے سے مہیا ہو جاتی۔ وہ سمجھ نہ پایا کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے، مگر شکایت بھی نہ کی۔
بالآخر سائنس میلے کا دن آ پہنچا۔ ہر گروپ نے اپنے ماڈلز ترتیب سے رکھے۔ کوئی پانی صاف کرنے والا فلٹر لایا تھا، کسی نے سورج سے چلنے والا پنکھا بنایا تھا۔ اذلان کے گروپ نے ایک چھوٹا سا آلہ پیش کیا جو موبائل، پنکھا اور بلب کو چارج کر سکتا تھا۔
پھر حمزہ کی باری آئی۔ اس نے اپنی وہیل چیئر نمائش میں رکھی اور دھیرے سے ماڈل کے بارے میں بتایا: "یہ وہیل چیئر اُن بچوں کے لیے ہے جو اسکول آتے ہیں لیکن عام کرسیوں سے انھیں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس میں بریک کا نیا نظام ہے، ہینڈل اور بیگ رکھنے کی سہولت بھی ہے۔ اسے بنانے میں کم لاگت آئی ہے لیکن سہولت بہت زیادہ ہے۔"
ماڈل سادہ مگر مؤثر تھا۔ جب جج حضرات نے سب پراجیکٹ دیکھ لیے تو نتائج کا وقت آیا۔
"ہم نے سب ماڈل دیکھے، بچوں کی محنت نمایاں ہے۔ مگر ایک ماڈل ایسا تھا جس میں مسئلے کا حل، سادگی، اور احساس چھپا ہوا تھا۔ یہ ماڈل محض ایک چیز نہیں، بلکہ ایک ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔"
کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی۔
"اس سال کا پہلا انعام دیا جاتا ہے۔۔۔ حمزہ اور اس کی ٹیم کو!"
تالیاں بجنے لگیں۔ حمزہ نے نظریں جھکا لیں، لیکن چہرے پر سکون تھا۔ اسی لمحے جج نے ایک اور اعلان کیا:
"حمزہ کو یہ ماڈل مکمل کرنے میں خاموشی سے مدد دینے والے ہمارے مہمانِ خاص۔۔۔ اذلان کے والد تھے۔"
اذلان آگے بڑھا، حمزہ سے ہاتھ ملایا اور مسکرا کر کہا: "تم نے سکھایا کہ جیتنے کے لیے دوڑنا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔ پہیہ بھی کافی ہے۔"
