پریوں کی ملکہ نے اپنی مملکت میں یہ اعلان کروا دیا:
''آج کے بعد میری اجازت کے بغیر کوئی بھی کوہ قاف کے باغ میں نہیں جائے گا۔''
اس اعلان کی سب نے تائید کی، لیکن گل پری خاموش رہی، وہ تو روزانہ وہاں جاتی تھی کیوں کہ اسے پھول اکھٹے کرنے ہوتے تھے۔ یہ اعلان سن کر وہ پریشان ہوگئی اور پھر خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
کچھ روز تک باغ میں کوئی نہ گیا۔ گل پری دور سے پھولوں کو دیکھ کر آجاتی تھی کیوںکہ ملکہ کی نافرمانی کی سزا بہت سخت تھی۔
ایک دن پریوںکی ملکہ اپنے شاہی تخت اور سات پریوں کے ہمراہ دوسری سلطنت کی دعوت پر وہاں گئی۔ بس پھر کیا تھا، گل پری کو موقع مل گیا اور اس نے جلدی جلدی ڈھیروں پھول اکھٹے کیے اور خوشی خوشی لوٹ آئی۔
شام کو جب ملکہ واپس آئی تو اس نے سب پریوں کو بلالیا۔گل پری بھی آگئی ۔ملکہ بہت غصے میں تھی۔ اس نے کہا:
''آج تک کبھی کسی نے میری نافرمانی نہیں کی، لیکن آج و ہ کام ہوا ہے جسے میں نے منع کیا تھا۔''
یہ سن کر گل پری خوف زدہ ہوگئی کہ ملکہ کو کیسے پتا چل گیا۔
ملکہ نے کہا:
'' میرے گلے میں موتیوں کی مالا ہے جس سے مجھے سب علم ہو جاتا ہے۔''
یہ سن کر گل پری کانپنے لگی۔ ملکہ نے گل پری کی طرف اشارہ کیا اور پھر اپنی چھڑی گھمائی اور اسے چڑیا بنا کر درخت پر بٹھا دیا۔
ملکہ نے گل پری سے کہا:
''اب تم اسی صور ت میں اپنی اصل حالت میں واپس آسکتی ہو جب مجھے کوہ قاف کے باغ سے ایسا پھول لا کر دو جو کبھی نہ مرجھائے۔''
یہ سن کر گل پری سوچ میں پڑ گئی۔ کافی دن گزر گئے۔ اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اب تو وہ مایوس ہونے لگی تھی۔ ایک دن صبح سویرے اس نے اپنی دوست سفید پری کو تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ اس نے آتے ہی گل پری سے کہا:
''میں نے یہ کتاب ملکہ کی الماری سے اٹھائی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ اگر تم اپنے پر سے خون کا ایک قطرہ نکال کر کسی بھی پھول پر ڈالو گی، وہ کبھی نہیں مرجھائے گا۔ بس تم وہ پھول ملکہ کو پیش کردینا، وہ تمہاری سزا ختم کر دے گی۔''یہ سن کر گل پری خوش ہوگئی اور سفید پری کے ساتھ باغ کی طرف روانہ ہوئی۔
باغ میں پہنچ کر گل پری نے چونچ اپنے پر میں چبھوکر خون کا قطرہ نکال کر ایک پھول پر گرادیا اور اسے توڑکر ملکہ کے پاس لے گئی۔ ملکہ گل پری کی کامیابی پر بہت خوش ہوئی اور کہا:
''میں اس پھول کو ایک دن تک اپنے پاس رکھوں گی، اگر یہ نہ مرجھایا تو تمہاری سزا ختم!''
اگلی صبح ملکہ نے پھول کو ویسا ہی تروتازہ پایا تو سب پریوں کو بلا کر ان کے سامنے چھڑی گھمائی اور گل پری چڑیا سے پھر پری بن گئی ۔ اس کے ساتھ ہی ملکہ نے اسے یہ اجازت بھی دی کہ اب وہ جب چاہے باغ کی سیر کرسکتی ہے اور پھول بھی توڑ سکتی ہے۔ گل پری بہت خوش ہوئی اور اپنی اچھی دوست سفید پری کا شکریہ ادا کیا جس نے اس کی مدد کی تھی۔
