گڈو نے ایک نظر اپنے پرَوں میں دُبکے مونو پر ڈالی، پھر سامنے رکھے مٹی کے پیالوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بڑے سے پیالے میںباجرہ جب کہ دوسرے میں پانی بھرا تھا۔ مونو کا ابو چونی تیزی سے باجرے میں چونچیں مار رہا تھا۔ باجرہ اُس کی من پسند خوراک تھی اور آج کافی دنوں بعد اُن کے مالک نے کھانے کے لیے اُن کے ڈربے میں باجرہ رکھا تھا۔گڈو کی نظر گھوم کر ڈربے کی جالی سے ہوتی ہوئی صحن میں گئی تو اُس نے دیکھا۔ عادل پکنک پلان کر رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے۔ قریب ہی اُس کی امی بیٹھی تھیں۔یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے بیٹے کے لاڈ اُٹھا رہی ہوں،اُن کے چہرے پر بار بار مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔یہ سب دیکھ کر وہ باجرے سے دو دو ہاتھ کرتے چونی کی طرف متوجہ ہوئی اور کڑک کر بولی:
'' تم ہمیشہ ایسے ہی باجرے میں چونچیں مارتے رہنا۔کبھی اپنے بچے کی پروا مت کرنا۔''
باجرہ چگتے چونی نے گردن گھما کر گڈو کی طرف دیکھا اورقدرے ناگوار ی سے کہنے لگا:
'' مونو کی اماں! تم ہمیشہ نا شکری ہی کرنا،بھلا ہمارے مونو کو کس چیز کی کمی ہے ؟ کھانے کو اچھا ملتا ہے،ڈربے سے نکل کر کھیل بھی لیتا ہے۔''
چونی کی بات سن کر گڈو نے ہمیشہ کی طرح منہ بنایااور بولی:
''تم تو بس، ایسے ہی کہتے رہتے ہو۔ دیکھو ! وہ مالکن اپنے بیٹے کے کتنے لاڈ اُٹھارہی ہے۔عادل مالک کا بھی لاڈلا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو پارک گھمانے لے جاتے ہیں۔ ایک ہم ہیں سدا کے قیدی۔مجھے اس ڈربے سے آزادی چاہیے۔میں بھی انسانوں کی طرح ، اپنی مرضی سے گھومنا پھرنا چاہتی ہوں۔ یہاں تو ہر دم مالکوں کی مرضی چلتی ہے۔ جب اُن کا دل چاہے ہمیں ڈربے میں بند کر دیتے ہیں اور جب چاہیں باہر نکال دیتے ہیں، ہماری کوئی مرضی نہیں، یہ بھی کوئی زندگی ہے بھلا!'' گڈو بے سدھ سی بیٹھ گئی۔ مونو نے کٹو کی باتیں غور سے سنی تھیں۔
''ابو! مجھے بھی عادل کی طرح سیر کرنی ہے۔میں بھی اُس کی طرح باہر کھیلنا چاہتا ہوں،امی کہتی ہیں، باہر کی دُنیا بہت خوب صورت ہے۔'' وہ چونی کے پروں سے اپنے پر رگڑنے لگا۔
'' مونو!انسانوں اور ہم میں بہت فرق ہے، اسی طرح اُن کے اور ہمارے معاملات میں بھی الگ الگ ہیں۔ جو چیزیں اُن کے لیے ضروری ہیں، وہ ہمارے لیے بھی غیر ضروری ہیں۔ ہم سارا دن ایک بڑے گھر کے وسیع کچے صحن میں جہاں دل کرے، گھومتے پھرتے ہیں، ہمیں کوئی روک ٹوک نہیں، ہمارے مالک ہمیں کھانے کے لیے بھی اچھادیتے ہیں، گرمی سردی کے مطابق ہمارے اس پیارے سے ڈربے کو سیٹ کر دیتے ہیں اور دیکھو! آج انہوں نے ہماری من پسند خوراک باجرے کا بندوبست کر دیا ہے۔ میں کہتا ہوں، فضول باتوں کو ذہن سے دُور کرو اور آئو! میری طرح مزے مزے کا باجرہ کھائو۔'' چونی کہتا چلا گیا اور پھر باجرے میں چونچ مارنے لگا۔ یہ دیکھ کر گڈو جل ہی تو گئی۔ کڑک کر بولی:
''مجھے یہاں نہیں رہنا ہے بس، میں نے کہہ دیا ہے۔ میں باہر جانا چاہتی ہوں اپنے بیٹے کے ساتھ۔ ''
''پاگل نہ بنو ، ہم پالتو جانور ہیں اور ہم گھر وں سے باہر غیر محفوظ ہیں۔'' چونی نے پلٹ کر کٹو کی طرف دیکھا۔
''غیر محفوظ کیوں؟ ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔''
''حفاظت…؟ بلی کو دیکھ کر تو تمہاری جان ہی نکل جاتی ہے اور اس گھر سے باہر تو بڑے خطرناک جانور ہماری تاک میں ہوں گی۔ آرام سے یہیں رہو، ہمیں کہیں نہیں جانا۔ مونو! آؤ باجرہ کھاتے ہیں، آج تو کچہ زیادہ ہی مزے کا ہے۔'' چونی نے آخری الفاظ گم صم کھڑے مونو سے کہے تھے۔
''ابو! امی ٹھیک کہہ رہی ہیں، ہمیں یہاں سے کہیں اور جانا ہوگا۔ جہاں ڈربہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ جہاں ہم اپنی مرضی سے رہ سکیں گے۔''
مونو کی بات سن کر چونی نے چونک کر اُسے دیکھا:
''تم کیا جانو ، تمھارے لیے کیا اچھا ہے اور کیا بُرا… !!''
''تم کچھ بھی کہو، اب مجھے اور میرے مونو کو یہاں نہیں رہنا ہے۔ '' گڈو نے اٹل لہجے میں کہا۔
''دیکھو! یہ لوگ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں، ہمیں کبھی بھوکے پیٹ نہیں رہنے دیا گیا۔ کھانے کو ہر چیز جو ہمیں اچھی لگتی ہے، وہ دیتے ہیں۔ سچی کہوں تو میں یہاں بہت مطمئن ہوں۔'' چونی نے کہا۔
''ہمیں اس گھر سے باہر بھی اچھا کھانا اور پینا ملے گا۔ رزق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے نا !! کٹو نے کہا اور مونو کو اپنے پاس بلا لیا۔ پھر وہ دونوں ناراض ہوکر بڑے سے ڈربے کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر چونی پریشان ہوگیا۔
اُن کے درمیان یہ بحث چلتی رہی۔ آخرایک دن چونی نے ماں بیٹے کے آگے ہتھیار پھینک دیے۔پھر ایک دن دوپہر کے وقت جب اُن کے آس پاس کوئی نہیں تھا، وہ چپکے سے کھلے دروازے سے باہر نکل گئے۔
O
گرمیوں کے دن تھے۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ دُور و نزدیک کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے گلی عبور کی تو سامنے ایک کچی سڑک تھی۔ سڑک کے اطراف میں ہرے بھرے کھیت تھے۔ کھیتوں کو دیکھ کر کٹو اور مونو چہک اُٹھے:
''دیکھا! میں نہ کہتی تھی، گھر سے باہر کی دُنیا بہت خوب صورت ہے۔ ایسی ہریالی گھر میں کہاں؟ آئو! اِن کھیتوں میں چلتے ہیں۔ مزا آئے گا۔''
وہ کھیتوں میں گھس گئے۔ چونی اُن کے ساتھ چل تو رہا تھا لیکن وہ پریشان تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ انھوں نے گھر چھوڑ کر بڑی غلطی کی ہے۔ گھومتے پھرتے وہ تینوں قصبے کی حدود سے باہر نکل گئے۔ شام ہونے کو تھی۔ وہ تھک کر چور ہورہے تھے۔ گڈو اور مونو کی حالت بُری تھی۔ مونوکہنے لگا:
''ابو! ہمیں جانا کہاں ہے؟ میں تھک گیا ہوں اور مجھے بھوک بھی لگ رہی ہے۔''
''مجھ سے کچھ نہ کہو، اپنی امی سے بات کرو۔ یہ اچھا بُرا سب جانتی ہے۔'' چونی نے زور سے کہا تو مونو سہم کر رُک گیا۔ پھر وہ کٹو کی طرف دیکھنے لگا:
''امی! ہماری منزل کب آئے گی۔مجھ سے اَب پیدل نہیں چلا جاتا،پیاس بھی لگ رہی ہے مجھے۔''
اُنھوں نے پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر نگاہیں گھمائیں۔ چاروں طرف سوکھے کھیت ہی کھیت تھے۔پانی کہیں نہیں تھا۔ وہ پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کٹو بالکل خاموش تھی۔ اُس کی حالت تو ایسی تھی جیسے وہ کبھی بولی ہی نہ ہو۔
''تم میری پیٹھ پہ بیٹھ جائو، ہم پانی دھونڈتے ہیں۔''چونی نے پیار سے کہا تو گڈو کی جان میں جان آئی۔ وہ چونی سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔ ساری غلطی اسی کی تھی ۔ اُس نے ہی چونی کو گھر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ چند گھنٹوں کے بعد ہی کٹو کی ساری ہوا نکل گئی تھی۔ اُسے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اُس نے غلط سوچا تھا۔ پالتو جا نور وں کا اصل گھر تو انسانوں کے آس پاس ہی ہوتا ہے۔چونی کی بات سن کر مونو اُچھل کر اپنے ابو کے اُوپر بیٹھ گیا۔ چونی خوب موٹا تازہ با ہمت مرغا تھا۔ عادل کے ابا اُس کی خوراک کا خوب خیال رکھتے تھے۔ مونو اُس کے اوپر بیٹھا تو اُسے چلنے میں ذرا دِقت نہ ہوئی۔ وہ اِدھر اُدھر پانی تلاش کرنے لگے۔ہلکا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا تو ان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ تھا۔پھر اچانک وہ خوش ہوگئے۔ کیوں کہ اُن کے سامنے ایک جوہڑ تھا۔جس میںشاید بارش کا پانی بھرا تھا ۔پانی کی حالت بہت خراب تھی۔ ہلکی ہلکی بُو اُٹھ رہی تھی پانی میں سے۔ یہ دیکھ کر چونی اور گڈو کی خوشی جاتی رہی۔ کیوں کہ ان کا مونو تو صاف شفاف پانی پینے کا عادی تھا۔ خود انہوں نے بھی ہمیشہ صاف پانی پیا تھا۔ گندا اور بدبو والا پانی دیکھ کر مونو منہ بنانے لگا ۔پھر وہ چھلانگ لگا کر چونی کے اوپر سے اُتر آیا:
''یہ پانی تو بہت گندا اور بدبو والا ہے، میں تو نہیں پیئوں گا۔''
''صاف پانی کہاں سے لائوں میں تمھارے لیے۔ اسے چکھ کر دیکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے، یہ بد بو کسی اور چیز سے آ رہی ہو۔ اچھا میں ایک قطرہ پی کر دیکھتا ہوں۔ ٹھیک ہوا تو تم بھی پی لینا۔'' چونی نے کہا اور جوہڑ کے پانی میں چونچ ڈال دی۔ جیسے ہی اُس نے پانی چکھا، وہ یک دم پیچھے ہٹ آیا۔
''پیچھے ہٹو، میں دیکھتی ہوں۔'' گڈو نے کہا اور جلدی سے پانی میں چونچ ڈال تھی۔ پانی کا ذائقہ اچھا نہیں تھا۔ وہ سوچنے لگی ، اگر میں نے پانی پی لیا تو مونو بھی پی لے گا، ورنہ مونو یہ بدبو والا پانی نہیں پیئے گا۔ وہ تھوڑا سا پانی پی کر پیچھے ہٹ گئی۔
''امی! پانی پینے کے قابل ہے؟ شکل سے گندا لگ رہا ہے۔'' مونو اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اُسے دیکھ تو چونی بھی رہا تھا لیکن اُس کی آنکھوں میں غصہ تھا۔
''مونو!چپ چاپ پانی پی لو۔ زندہ رہنے کے لیے کبھی کبھار ایسا پانی بھی پینا پڑتا ہے۔'' چونی نے یہ کہتے ہوئے چونچ میں پانی بھرا اور مونو کو پلادیا۔ اُس نے بڑی مشکل سے پانی کو حلق سے نیچے اُتاراتو ڈربے کا صاف پانی اُس کی نگاہوں میں گھوم گیا۔
''گڈو! تم نے مجھے اور میرے مونو کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ '' چونی نے غصے سے کہا تو گڈو بھی تڑ سے بولی:
''آزادی کی راہ میں مشکلات تو آتی ہی ہیں۔مجھے خوامخواہ پریشان نہ کرو۔''
''ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن تمہاری آزادی کا نام دَر دَر کی ٹھوکریں ہیں۔ کوئی نیا ٹھکانا نہ ہو تو گھرنہیں چھوڑا کرتے گڈوبی بی۔''چونی نے کہا۔اِس سے پہلے کہ کٹو اُسے کوئی جواب دیتی، مونو کی ڈری ڈری آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اُنھوں نے پلٹ کر دیکھا۔ تھوڑی ہی دُور موجود سوکھی جھاڑیوں کے پاس ایک چھوٹا سیاہ کتا بیٹھاتھا۔ وہ بُری طرح ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کتے کو دیکھ کرچونی اور گڈو کی تو جان ہی نکل گئی۔ پھر چونی نے جلدی سے مونو کو پیٹھ پہ بٹھایا اور سرپٹ دوڑ لگا دی ۔گڈو بھی پھولی سانس کے ساتھ اُس کے پیچھے بھاگ اُٹھی۔چھوٹا سیاہ کتا اُن کے پیچھے بھاگا۔ وہ لنگڑا کر بھاگ رہا تھا۔ رفتار ہلکی تھی۔ کتے کی اس کمزوری کا چونی اور گڈو کو فائدہ ہوا۔ وہ جلد ہی اُس سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ گندم کے کھیت میں چھپ گئے تھے۔ سانسیں درست کرکے انھوں نے کھیت سے باہر نکل کر دیکھا۔ وہاں کتا نہیں تھا۔
''امی! مجھے واپس گھر جانا ہے۔'' مونو نے روتے ہوئے کہا تو گڈو تڑپ اُٹھی۔وہ مونی کی چونچ سے چونچ رگڑنے لگی ، پھر بولی:
''میں نادان ہوں،ناشکری بھی۔میری وجہ سے تم مشکل میں ہو۔سچ کہوں تومجھے بھی وہ گھر اوراُس میں رہنے والے پیارے لوگ یاد آ رہے ہیں۔ہم گھر واپس جائیں گے۔''
چونی دونوں کی بات سن رہا تھا۔ وہ آہستہ سے بولا:
''جو ہوا، وہ ہوا۔ اب ہمیں جیسے تیسے کرکے رات گزارنی ہے، صبح ہوتے ہی ہم گھر جائیں گے۔''
''کیا آپ کو گھر کا راستا معلوم ہے؟'' مونو نے چونک کر پوچھا۔
''معلوم تو نہیں ہے لیکن ہم کوشش کریں گے ، مجھے امید ہے، ہم گھر پہنچ جائیں گے۔ بس ہمیں حوصلے اور ہمت سے کام لینا ہوگا۔''
''ٹھیک ہے، ہم کل صبح اپنے گھر کا راستا تلاش کریں گے۔'' گڈو نے کہا۔
انھوں نے وہ رات ایک کھیت میں گزاری اور صبح ہوتے ہی اپنے گھر کا راستا ڈھونڈنے لگے۔ آخر اللہ پاک نے ان کی مدد کی اور وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچ گئے۔ وہ نم آنکھوں سے اپنے گھر کے بندے دروازے کو دیکھ رہے تھے۔
''میں وعدہ کرتی ہوں، آیندہ کبھی اپنے گھر کو چھوڑنے کی کوشش نہیں کروں گی۔ گھر تو اپنا ہی اچھا ہوتا ہے، جیسا بھی ہو۔'' گڈو کہہ رہی تھی کہ اچانک بنددروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اورعادل گھر سے باہر نکل آیا ۔ ان پر نظر پڑتے ہی حیرت و خوشی کے عالم میں اُس کے منھ سے نکلا:
''ارے! یہ تم ہو…؟ابو! دیکھیں، ہمارا مونو واپس آگیا ہے ، ہمارا مونو واپس آگیا ہے۔''
پھر اُس نے جھک کر مونو کو اُٹھا لیا اور گھر میں گھس گیا۔ چونی اور گڈو بھی آنکھوں میں آنسو لیے کھلے دروازے سے اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔یہ سوچتے ہوئے کہ اپنا گھرجیسا بھی ہو، اپنا ہی ہوتا ہے۔ اُس جیسا سکون کہیں نہیں ہوتا۔
OO
