گرمیوں کی تیز دھوپ اپنے عروج پر تھی لیکن اسی گرمی کے ساتھ بچوں کا سب سے پسندیدہ وقت بھی آ پہنچا تھا، گرمیوں کی چھٹیاں!احمد، عائشہ اور ان کے دوستوں نے اس بار پہلے سے طے کر رکھا تھا کہ وہ اپنی چھٹیاں صرف کھیل کود میں ضائع کرنے کے بجائے کچھ نیا اور مفید سیکھیں گے۔چھٹیوں کے پہلے ہی دن تمام بچے محلے کے ایک بڑے درخت کے سائے تلے جمع ہوئے۔ احمد نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
''دوستو!اس بار ہم کچھ ایسا کریں گے کہ ہماری چھٹیاں یادگار بن جائیں۔''
عائشہ نے مسکراتے ہوئے تجویز دی:
''کیوں نہ ہم روزمرہ کا ایک منصوبہ بنا لیں!س طرح وقت بھی ضائع نہیں ہوگا اور ہم روز کچھ نیا بھی سیکھ سکیں گے۔''
سب کو یہ بات بہت پسند آئی۔چنانچہ اُنہوں نے ایک سادہ ساشیڈول تیار کیا۔ صبح کے وقت قرآن پاک کی تلاوت اور دینی تعلیم، پھر کچھ دیر اسکول کی پڑھائی تاکہ نصاب ذہن سے نہ نکلے۔ اس کے بعد کھیل کود تاکہ صحت بھی اچھی رہے۔کچھ دن بعدعائشہ کے مشورے پر بچوں نے طے کیا کہ وہ ایک دوسرے کو سبق آموز کہانیاں بھی سنایا کریں گے۔
اگلے ہی دن سب بچے اپنے اپنے گھروں سے دلچسپ کتابیں لے آئے اور ایک دوسرے کو سچائی اور محنت کی اہمیت پر مبنی کہانیاں سنانے لگے۔
دوپہر کے وقت جب دُھوپ شدید ہوتی توبچے گھروں کے اندر رہ کر اپنی دلچسپی کے مطابق مختلف ہنر سیکھتے۔ عائشہ نے اپنی امی سے سلائی سیکھی۔ احمد نے اپنے ابو سے پودے لگانے کا فن جانا جبکہ دیگر بچوں نے ڈرائنگ اور کھانا پکانے کی مختلف ترکیبیں آزمائیں۔ایک دن انہوں نے محلے کی ایک خالی جگہ کو باغیچے میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ بچوں نے مل کر صفائی کی، مٹی نرم کی اور ننھے پودے لگائے۔ وہ روزانہ انہیں پانی دیتے اور دیکھ بھال کرتے تھے۔ چند ہی دنوں میں جب ہری بھری کونپلیں پھوٹیں تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ اس تجربے نے انہیں صبر اور محنت کا سچا درس دیا۔اس کے علاوہ بچوں نے محلے کی صفائی کی ایک مہم بھی چلائی۔ دستانے پہن کر گلی سے کچرا صاف کیا۔ پہلے تو محلے والے حیران ہوئے مگر پھر اُنھوں نے ان کے اس کام کو بہت سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
شام کے وقت تمام بچے پارک میں کرکٹ، بیڈمنٹن کھیلتے اور دوڑ کا مقابلہ کرتے۔ کھیل کود سے نہ صرف ان کی صحت اچھی ہوئی بلکہ باہمی محبت میں بھی اضافہ ہوا۔ اگر کبھی کھیل میں اَن بن ہو جاتی تو وہ فوراً ایک دوسرے کو معاف کر دیتے کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا تھا کہ دوستی سب سے قیمتی ہوتی ہے۔
چھٹیوں کے آخری دن سب بچے دوبارہ اسی درخت کے نیچے جمع ہوئے۔ احمد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
''دوستو!اِس بار کی چھٹیاں واقعی خاص تھیں۔ ہم نے کھیل کود کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا بھی سیکھا ہے۔'' عائشہ نے مسکرا تے ہوئے کہا۔۔
''ہاں! سب سے بڑی بات یہ کہ ہم نے اپنے وقت کی قدر کی اور اسے اچھے کاموں میں لگایا۔''
تمام بچوں نے عزم کیا کہ وہ آیندہ بھی اپنے وقت کی قدر کریں گے اور ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے رہیں گے۔
اس طرح ان کی یہ چھٹیاں نہ صرف خوشیوں سے بھرپور رہیں بلکہ ان کے کردار کو نکھارنے کا ذریعہ بھی بنیں۔
