خنسا اپنی جماعت کی نہایت ذہین طالبات میں سے ایک تھی۔ ایک دن وہ اسکول سے گھر واپس آئی۔ دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے، اُس کی والدہ نے محسوس کیا کہ وہ کسی گہری سوچ میں گم ہے۔اُنھوں نے پوچھا:
''بیٹی!کیا سوچ رہی ہو؟''
خنسا بولی:
''اماں جان!آج ہماری اُردو کی اُستانی صاحبہ نے ہمیں قائداعظم کے قول کام، کام اور صرف کام پر مضمون لکھنے کے لیے کہا ہے۔ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ انسان ہر وقت کیسے کام کر سکتا ہے؟ جیسے میرا دِل کھیلنے، سونے اور سیر کرنے کو بھی چاہتا ہے۔ہر وقت تو پڑھائی نہیں کی جا سکتی نا! آخر قائداعظم نے ہمیں ایسی نصیحت کیوں کی؟''
اماں جان خنسا کی پیشانی پر فکر مندی کے آثار دیکھ کر مسکرائی اور بولیں:
'' بیٹی!پہلے سکون سے کھانا کھا لو، پھر میں تمھیں سمجھاتی ہوں کہ بانی پاکستان نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کیوں کی تھی۔''
کھانے سے فارغ ہو کر خنسا کمرے میں بیٹھی بے چینی سے اپنی اماں کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔جب اماں جان آئیں تو وہ فوراً بولی:
''اماں جان!اَب بتائیے۔''
اماں جان مسکرا کر بولیں:
''بیٹی!تم نے دیکھا ہے کہ صبح ہوتے ہی چرند، پرند، حشرات بلکہ انسان بھی اپنی خوراک اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں۔ سورج اپنے مقررہ وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ چاند بھی اپنے مقررہ راستے پر سفر کرتا ہے اور زمین مسلسل سورج کے گرد گردش کرتی رہتی ہے، اس وجہ سے دن، رات اور موسم بنتے ہیں۔''
خنسا بڑی توجہ سے امی کی بات سن رہی تھی، اُس نے پوچھا:
''اماں جان!آپ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے زمین اور چاند ہر وقت اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، ویسے ہی ہمیں بھی ہر وقت کام کرتے رہنا چاہیے؟''
اماں جان مسکرائی اور بولیں:
''نہیں بیٹی!میرا مطلب یہ نہیں ہے۔ میں صرف یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو ایک ذمہ داری سونپی ہے۔اِسی طرح انسان بھی اپنی ذمہ داریاں پہچانے اور محنت کرنے سے کبھی نہ گھبرائے۔''
''اماں جان!میں محنت سے نہیں گھبراتی لیکن ہر وقت کام بھی تو نہیں کر سکتی نا۔ مجھے دوستوں کے ساتھ کھیلنا اور پارک جانا بھی اچھا لگتا ہے۔''
''بیٹی!قائداعظم کے اس فرمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان آرام، کھیل یا تفریح چھوڑ دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سستی اور کاہلی سے ہمیشہ بچے، اپنے وقت کی قدر کرے اور اپنے فرائض پوری محنت اور دیانت داری سے انجام دے۔علامہ اقبال کا ایک شعر ہے کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ...''
اماں جان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ خنسا جلدی سے بولی:
'' میں سمجھ گئی اماں جان!''
''کیا سمجھی ! مجھے بتائو ...''
''یہ کہ ہمیں اپنے مقصد کے حصول اور ملک کی ترقی کے لیے بھرپور محنت کرنی چاہیے اور کام سے کبھی بھی جی نہیں چرانا چاہیے۔''
خنسا کی بات سن کر اماں جان کے منہ بے ساختہ نکلا:
''بالکل بیٹی! قائد ہم سے یہی چاہتے تھے۔''
دونوں ماں بیٹی مسکرانے لگیں۔
OOO
