🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بے بس چڑیا
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

بے بس چڑیا

سیدہ الماس فاطمہ
25 جولائی، 2026۱۹ مرتبہ پڑھی گئی

بے بس چڑیا سنیں

ساغر اپنے والدین کا اکلوتا، لاڈلا بیٹا تھا۔ وہ پڑھائی میں تو ذہن تھا لیکن اُسے ایک عجیب اور بری عادت تھی ، وہ تھی پرندوں کا شکار کرنا۔ایک دِن اُس نے ایک ننھی چڑیا کو پکڑ کر اپنے کمرے میں قید کر لیا۔بے چاری چڑیا پنجرے میں پھڑپھڑانے لگی۔اِتنے میں دادی اماں اُسے کھانے کے لیے بلانے، کمرے میں آئیں تو ساغر کو پریشان اور چڑیا کو قید دیکھ کر اُن کا دل بھر آیا۔ اُنھوں نے ساغر کو پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا:

''ساغر بیٹے!اللہ نے پرندوں کو پر آزاد پیدا کیا ہے اور تم نے اِس بے چاری چڑیا کو قید کر دیا ہے۔ یہ معصوم مخلوق انسانوں سے زیادہ اللہ پر توکل کرتی ہے۔ اِن کی چہچہاہٹ اور آسمان پر ان کی قطاریں قائم رہیں تو اچھا ہے۔ تم اِنھیں آزاد رہنے دو، ورنہ ان معصوموں کی بد دُعا بھی لگ سکتی ہے۔''

دادی کی بات سن کر ساغر نے چونک کر اُن کی طرف دیکھا اور پوچھنے لگا:

''دادی اماں! یہ بددُعا کیا ہوتی ہے؟''

دادی اماں نے شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سمجھاتے ہوئے بولیں:

''کسی مظلوم کے دل سے نکلی ہوئی آہ کو بددعا کہتے ہیں۔ جب تم کسی زبان نہ رکھنے والے پرندے کو بھوکا پیاسا قید رکھتے ہو اور دانہ پانی اُس کے سامنے رکھ کر بھی، اُسے کھانے نہیں دیتے تو اُس کا تڑپتا ہوا دِل عرش والے کو پکارتا ہے۔'' دادی خاموش ہو کر ساغر کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگیں، پھر بولیں:

''ایک تھا ظالم بادشاہ، اُسے پرندوں کی تکلیف میں لذت ملتی تھی۔''

''کیا مطلب! کیا آپ مجھے کوئی کہانی سنانے لگی ہیں!'' ساغر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔

''ہاں! ایسا ہی ہے۔'' دادی نے مسکراتے ہوئے کہا:

''ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ شکار پر نکلا۔ راستے میں ایک ویران حویلی دیکھ کر وہ اُس کی چھت پر بیٹھ گیا لگا پرندوں کو تاکنے۔کچھ ہی دیر میں اُس نے ایک چڑیا کا شکار کرلیا۔ اُس سنگ دِل بادشاہ نے چڑیا کو مارنے کے بجائے اُس کی چونچ کو دھاگے سے کس کر باندھ دیا اور اُس کے سامنے چند گندم کے دانے بکھیر دیے۔ بے بس چڑیا تڑپتی رہی، دانوں کو دیکھتی رہی لیکن اپنی بندھی ہوئی چونچ کی وجہ سے ایک دانہ بھی نہ چگ سکی۔ بادشاہ اس کی بے بسی پر قہقہے لگاتا رہا۔ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بادشاہ کا پیر پھسلا اور وہ چھت سے نیچے جا گرا۔ کوئی نوکر قریب نہ تھا کہ اُس کی چیخ و پکار سنتا۔ وہ گھنٹوں وہیں بے یارو مددگار پڑا کراہتا رہا۔ آخر کار ایک راہ گیر نے اُسے تڑپتے دیکھا تو ہسپتال پہنچادیا۔'' دادی یہاں تک کہہ کر چپ ہوئیں تو ساغر نے جلدی سے پوچھا:

''دادی اماں! کیا اس وقت بھی اتنے بڑے بڑے ہسپتال ہوتے تھے؟''

دادی مسکرائی اور اور بولیں:

''بڑے بڑے تو شاید نہیں تھے لیکن حکیموں نے بڑے بڑے مطلب بنا رکھے تھے۔ خیر!حادثہ بہت شدید تھا اِتنا کہ بادشاہ کی ٹانگ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئی تھی۔ جب بادشاہ کو ہوش آیا اور اُس نے اپنی معذوری دیکھی تو اُسے فوراً چھت پر تڑپتی ہوئی اُس چڑیا کا خیال آیا۔اُس کی آنکھوں سے دو موتی نکلے اور گالوں پر چمکنے لگے۔ بادشاہ کو احساس ہو چکا تھا کہ اُس پر پڑنے والی یہ آفت اُسی بے زبان چڑیا کی آہ کا نتیجہ تھی۔''

کہانی ختم ہوئی تو دادی نے دیکھا۔ ساغر بالکل خاموش تھا اور اُس کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے۔ اُس نے فوراً چڑیا کا پنجرہ کھول دیا اور دادی اماں سے وعدہ کیا کہ وہ اب کبھی کسی بے زبان پرندے کو تکلیف نہیں دے گا۔

OOO

لکھاری

سیدہ الماس فاطمہ

سیدہ الماس فاطمہ نے 2022 میں ، طالب نظر رائٹرز فورم سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک ان کی مختلف فورمز ، اخبارات اور میگزینز میں ان کے مضامین ، کالم ، خطوط اور کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی شائع شدہ کہانی