🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
چمچ کی چالاکی
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

چمچ کی چالاکی

سعد علی چھیپا ۔ کراچی
23 جولائی، 2026۳۴ مرتبہ پڑھی گئی

چمچ کی چالاکی سنیں

علی آج پھر کھانے کی میز پر منہ بنائے بیٹھا تھا۔ سامنے گرم گرم دال اور نرم نرم چپاتی رکھی تھی، مگر اس کا دل تو بس چپس اور بسکٹ میں اٹکا ہوا تھا۔

’’امی! مجھے بھوک نہیں ہے‘‘ اس نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا۔

امی ہلکا سا مسکرائیں:

’’اچھا؟ ابھی تو کہہ رہے تھے کہ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں!‘‘

علی نے نظریں چرا لیں۔ سچ تو یہ تھا کہ اسے گھر کا سادہ کھانا بھاتا ہی نہیں تھا۔ کبھی دال میں نقص نکالتا، کبھی سبزی کو بےمزہ کہہ دیتا اور اکثر آدھی پلیٹ چھوڑ کر اٹھ جاتا۔

اسی دن شام کو ابو دفتر سے آئے تو امی نے دھیرے سے کہا:

’’آپ کے صاحب زادے کو کھانے سے خاصی دشمنی ہے۔‘‘

ابو نے علی کو پاس بلایا:

’’آؤ بیٹا! ایک بات سنو۔‘‘

علی فوراً ان کے قریب آبیٹھا۔ کہانی سننے کا نام آتے ہی اس کی دل چسپی جاگ جاتی تھی۔

ابو بولے:

’’ایک کسان تھا۔ وہ سارا سال محنت کرتا، تب کہیں جاکر تھوڑا سا اناج اُگاتا۔ کبھی بارش زیادہ ہوجاتی، کبھی بالکل نہیں ہوتی، مگر وہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا کہ اسے رزق ملا۔‘‘

علی چپ چاپ سنتا رہا۔

ابو نے نرمی سے کہا:

’’اور ایک ہم ہیں، جنھیں بغیر محنت کے سب کچھ مل جاتا ہے، پھر بھی ہم نخرے کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کیا؟‘‘

علی نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔

’’نہیں ابو!‘‘

امی نے بات سنبھالی اور مسکرا کر بولیں:

’’چلو، آج ہم ایک نیا کھیل کھیلتے ہیں، چمچ کی چالاکی!‘‘

علی چونک کر بولا:

’’یہ کیسا کھیل ہے؟‘‘

امی نے چمچ ہاتھ میں لیا اور رازدارانہ لہجے میں کہنے لگیں:

’’یہ چمچ بہت چالاک ہے۔ جو بچہ اس کے ساتھ دوستی کر لے، اسے یہ طاقت بھی دیتا ہے اور سمجھ بھی، مگر شرط یہ ہے کہ ہر نوالہ پورا کھایا جائے۔‘‘

علی کی آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’اچھا! تو میں بھی اس کا دوست بنوں گا!‘‘

امی نے پہلا نوالہ بنایا:

’’یہ طاقت والا نوالہ ہے، اس سے تم تیزی سے دوڑ سکو گے!‘‘

علی نے فوراً منہ کھول دیا۔

دوسرا نوالہ آیا:

’’یہ عقل والا نوالہ ہے، اس سے تم کمہرٔجماعت میں سب سے اچھے جواب دو گے!‘‘

علی ہنس پڑا اور شوق سے کھانے لگا۔

کچھ ہی دیر میں پلیٹ بالکل صاف ہو چکی تھی۔

امی نے حیرت ظاہر کی:

’’ارے واہ! آج تو چمچ نے واقعی کمال کر دیا!‘‘

علی فخر سے بولا:

’’کیوں کہ میں اس کا دوست بن گیا ہوں!‘‘

اگلے دن علی خود ہی وقت پر میز پر آبیٹھا۔ اس نے چمچ اٹھایا اور مسکرا کر بولا:

’’امی! آج بھی چمچ کی چالاکی دیکھتے ہیں!‘‘

امی نے پیار بھری نظر سے اسے دیکھا، مگر اس بار علی نے بغیر کسی بہانے کے خود ہی کھانا شروع کر دیا۔

چند ہی دنوں میں اس کی عادت بدل گئی۔ اب نہ وہ کھانے میں نقص نکالتا، نہ پلیٹ ادھوری چھوڑتا۔ اگر کبھی نوالہ گر بھی جاتا تو فوراً اٹھا کر صاف کر لیتا۔

ایک دن اس نے خود کہا:

’’امی! رزق ضائع کرنا اچھی بات نہیں، ہے نا؟‘‘

امی کی آنکھوں میں خوشی جھلک اٹھی۔

’’بالکل بیٹا! یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔‘‘

علی نے مسکرا کر چمچ کو دیکھا، جیسے دل ہی دل میں اس کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔

اب چمچ کی چالاکی‘‘ صرف ایک کھیل نہیں رہی تھی، بل کہ ایک اچھی عادت بن چکی تھی۔ ایسی عادت جو علی کو یہ سکھا گئی تھی کہ اصل چالاکی شکرگزاری میں ہے۔

لکھاری

سعد علی چھیپا ۔ کراچی