ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاایک مرتبہ کسی کام کے لیے بازار سے گزر رہیں تھیں۔کہ اچانک ان کے کانوں میں ایک خوبصورت آواز پڑی۔آپ رضی اللہ عنہا اس آواز کو سن کر رک گئیں۔ کوئی قاری قرآن بہت ہی خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے قاری کی تلاوت کا کچھ حصہ سنا اور پھر اپنی ضرورت پوری کر کے گھر چلی گئیں:
''عائشہ ...!کیا بات ہے...تمہیں گھر آنے میں دیر کیوں ہو گئی۔'' عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا گھر پہنچیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دیر سے گھر آنے کے متعلق سوال کیا۔
''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم...! باہر ایک قاری قرآن پڑھ رہا ہے۔'' عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ پھر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس قاری کی آواز کی خوبصورتی کو بیان کیا،اور اس قاری قرآن کی تلاوت کی تعریف بیان کی۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زبانی ایک قاری قرآن کی تلاوت کی تعریف سن کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اٹھا کر لپیٹی اور انسانی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ دیکھنے نکلے کہ وہ خوبصورت آواز والا قاری کون ہے، جس کی تلاوت کی تعریف عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کی ہے۔ باہر نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاش کیا تو دیکھا کہ ایک جگہ پر کچھ لوگ کھڑے تلاوت سن رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑ ھ کر دیکھا تو تلاوت کرنے والے قاری قرآن حضرت ابو عبداللہ سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔
سالم رضی اللہ عنہ کی خوبصورت تلاوت سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی خوش ہو گئے اور فرط جذبات سے فرمایا:''تما تعریفیں اس اللہ کے کے لیے ہیں .... جس نے میری امت میں تم جیسے بہترین ( قاری قرآن) کو پیدا کیا۔''
سالم رضی اللہ عنہ کا ان چار چوٹی کے قراء کرام میں شمار ہوتا ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن سیکھنا ہے تو ان سے سیکھو۔
سالم رضی اللہ عنہ کا پورا نام سالم بن عبیدبن ربیعہ بیان کیا جاتا ہے۔طبقات ابن سعد میں آپ کا نام سالم بن عتبہ بن ربیعہ ہے۔ لیکن آپ مشہور سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نام سے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ملک فارس یا ایران کے رہنے والے تھے۔کسی طرح غلام بنا لیے گئے اورایک عورت کے غلام کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں لائے گئے۔اس عورت نے ان کو آزاد کر دیا۔ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔اس لیے وہاں سے مکہ چلے آئے۔یہاں آپ رضی اللہ عنہ کو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا بیٹا بنا لیا، اور اپنے سگے بیٹے کی طرح سے پال پوس کر بڑا کیا۔پھر اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کر دیا۔اس لیے آپ رضی اللہ عنہ کو سالم بن ابو حذیفہ کہا جانے لگا۔پھر سورة الاحزاب کی آیت نمبر پانچ میں اللہ نے حکم دیا :''لے پالکوںکو ان کے باپوں کے نام سے پکارہ...''
اس حکم کے بعد ان کو سالم بن ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بجائے،سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کہا جانے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے پالا تھا ،اس لیے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لاتے ہی سالم رضی اللہ عنہ بھی ایمان لے آئے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے وقت نوجوان تھے۔اسلام لانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے لگے۔پھر اس محنت کا ثمر یہ ملا کہ آپ رضی اللہ عنہ عجمی ہونے کے باوجود قرآن کریم کی تلاوت ایسے کیاکرتے تھے جیسے عربی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کی تلاوت کی تعریف فرمائی۔ فرماتے تھے:''قرآن سالم سے سیکھو۔''
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ کروایا تو انھیں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا۔ مسلمانوں کو جب کفار کے مظالم سے بچنے کے لیے ہجرت کی اجازت دی گئی تو سالم رضی اللہ عنہ نے بھی دوسرے مسلمانو ں کی ساتھ ہجرت کی۔ ہجرت کے سفر کے دوران جب بھی نمازکا وقت ہوتا،تو سالم رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کیا جاتا...کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ قرآن مجید کے جاننے والے تھے۔ اس وقت حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ جیسے جید صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی سالم رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے۔
مسلمانوں نے جب مکے سے مدینہ ہجرت کی تو پہلے عصبہ میں اترے یہ قباء کے کنارے ہے۔قباء میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے قبل حضرت سالم رضی اللہ عنہ ہی امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ ایسے صحابی ہیں جو بیک وقت انصاری بھی تھے اور مہاجر ین میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ صرف قاری قرآن و عالم دین اور سخی ہی نہیں تھے۔ بلکہ میدان جنگ میں بھی بہادری کے جوہر دکھاتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر،غزوہ احد اور غزوہ خندق میں بھی شرکت کی،اور شیر خدا بن کر رفاقت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ادا کیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میںجنگ یمامہ میں اپنے منہ بولے والد ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر شرکت کی اور بہادری کے جوہر دکھائے۔جنگ یمامہ نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی جانے والی جنگ تھی۔ ف ختم نبوت کی حفاظت کرنے والے پروانے جو خالص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین حق کی سربلندی کے لیے آئے تھے...تو دوسری طرف مال و دولت کی لالچ میںمسیلمہ کذاب کو نبی ماننے والے کھڑے تھے۔ مسلمانوں نے اپنا جھنڈا سالم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا:
''سالم رضی اللہ عنہ....!مسلمانوں کے علم(جھنڈے) کی تم حفاظت کرو۔''
''اچھی بات ہے۔''سالم رضی اللہ عنہ نے خوشی سے اس ذمہ داری کو قبول کر لیا۔اور علم کی حفاظت کرتے ہوئے، مسلمانوں کا حوصلہ بڑھانے لگے۔ ایسے میں چند مسلمانوں نے ان کے ہاتھ میں علم دیکھ کر ان سے اعتراض کیا اور ان میں سے ایک شخص نے کہا:''(سالم رضی اللہ عنہ)!...ہمیں تمہاری طرف سے اندیشہ ہے...( تم اس علم کی حفاظت ٹھیک سے نہیں کر سکتے)...اس لیے تم یہ علم کسی دوسرے شخص کو دے دو۔''
سالم رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی بات سن کر جوش سے جواب دیا:''اگر میں نے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں مسلمانوں کا علم بردار(جھنذا اٹھانے والا) ثابت نہیں کیا....تو میں بہت ہی برا حافظ قرآن ہوں گا۔''
اس سے پہلے کے اعتراض کرنے والا کوئی جواب دیتا...مسلمانوں پر مرتدوں کا دبائو بڑھ گیا۔ ان کے قدم ڈگمگانے لگے،کچھ مسلمان اتنے زور دار حملے کے باعث پیچھے ہٹنے لگے۔ایسے میں ایک زور دار آواز میدان جنگ میں گونجی:
''مسلمانوں ..!کہاں بھاگ کر جارہے ہو...نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تو ہم اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ '' لوگوں نے پلٹ کر دیکھا...تو یہ الفاظ کہنے والے کوئی اور نہیں سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔انھوں نے اپنے قدموں کو ڈگمگانے اور پیچھے ہٹنے سے بچانے کے لیے میدان جنگ میں ایک گھڑا کھود کر اپنے پائوں اس گڑھے میں رکھ کر مٹی سے دھنسا دئیے۔ ان کی للکار سن کر اور انھیں اس طرح بغیر خوف وخطر کھڑے دیکھ کر مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہوا.. .اور وہ ہمت کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے واپس مڑے، مرتدوں کا ایک زبردست ریلا سالم رضی اللہ عنہ کو اکیلے زمین میں پائوں دھنسائے کھڑے دیکھ کر ان کی طرف بڑھا ....تاکہ ان کو قتل کر کے مسلمانوں کا علم گرا دیں اور علم کے گرنے سے مسلمانوں کو کھلی شکست ہو جائے... سالم رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی ان سے زبردست جنگ کی...کشتوں کے پشتے لگا دئیے....مگر ریلا کافی بڑا تھا۔سالم رضی اللہ عنہ کا اکیلے اس کو سنبھالنا ناممکن تھا ۔اس کے باوجود وہ ڈٹ کر کھڑے تھے۔
کسی مرتد نے علم کو گرانے کے لیے ان کا ہاتھ کاٹ دیا...ہاتھ کٹ کر گر ہی رہا تھا کہ سالم رضی اللہ عنہ نے اپنے درد کی پرواہ کیے بغیر علم کو دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا...جبکہ پہلے ہاتھ سے خون کے فوارے نکل رہے تھے۔اس بد بخت نے جب ان کی یہ ہمت دیکھی تو بزدلوں کی طرح سالم رضی اللہ عنہ کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دیا....دوسرا ہاتھ نیچے گر ہی رہا تھا کہ سالم رضی اللہ عنہ نے بجلی کی سرعت سے علم کو اپنی گردن اور کندھے سے ملا کر پکڑ لیا....بد بخت نے ان کے دونوں ہاتھ تو کاٹ دئیے تھے مگر وہ ان کی ہمت نہیں کاٹ سکا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت سورة آل عمران کی آیت ١٤٤ تا ١٤٦ تلاوت فرمارہے تھے۔
سالم رضی اللہ عنہ کے پائوں زمین میں دھنسے ہوئے تھے...اس لیے علم کو گرانا بہت ہی مشکل کام تھا۔آخر بزدل مرتدوں نے آپ رضی اللہ عنہ کونیزوں اورتلواروں سے چھلنی کر دیا...خون زیادہ بہ جانے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کمزوری کے باعث گر گئے۔مسلمان انھیں اٹھا کر لے گئے۔
نزع کے عالم میں انھوں نے مسلمانوں سے پوچھا:''ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے۔؟؟؟''
انھیں جواب دیا گیا: ''وہ اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے ہیں۔''
اب انھوں نے پوچھا:''وہ مجاہد کہاں ہے ...جس نے مجھ پر علم کے معاملے میں اعتراض کیا تھا۔''
لوگوں نے جواب دیا:''وہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔''
''مجھے اس مجاہد اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان میں دفن کرنا۔''سالم رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی روح پرواز کر گئی۔ایک روایت میں ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ کا سر ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے قدموں میں تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کا سر آپ رضی اللہ عنہ کے قدموں میں تھا۔(واللہ اعلم)۔
آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت کے وقت جو ترکہ میراث میں چھوڑاتھا۔ اسے ابو بکر
صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کی منہ بولی والدہ کے پاس بھیجا۔انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکا ر کردیا اور واپس بھجوادیا: ''میں اسے قبول نہیں کر سکتی ....یہ ترکہ واپس لے جائو۔''
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی میراث فروخت کر کے اس کی رقم جو کہ دو سو درہم تھی ان کی رضاعی والدہ کو بھیجی اورفرمایا:''(اس میراث پر تمہار حق ہے....اس لیے)اس رقم کو تم خرچ کرو۔''
ان کی والدہ نے وہ میراث قبول کرلی۔
ایک روایت میں ہے کہ ان کی والدہ نے میراث دوباہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور فرمایا تھا:''اس (سالم رضی اللہ عنہ)کو میں نے آزاد نہیں کیا تھا۔''
یعنی میں اس کو پالنے والی والدہ ہوں ...اس کو غلامی سے آزاد کسی اور عورت نے کیاتھا....اس لیے میراث پر میرا حق نہیں ہے....اس آزاد کرنے والی عورت کا حق ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے میراث اس عورت کو بھجوائی:''تم نے سالم رضی اللہ عنہ کو غلام سے آزاد کیا تھا....ا س لیے اس کی میراث تمہارے لیے ہے۔''
اس عورت نے میراث لینے سے انکار کر دیا :''میں نے اس (سالم رضی اللہ عنہ)کو اللہ کے لیے آزاد کیاتھا ۔''(مجھے اس کی میراث کی کوئی لالچ نہیں ہے۔)
اس جواب پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہ میراث بیت المال میں جمع کروادی۔(واللہ اعلم)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اکثر سالم رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کیا کرتے تھے...یہاں تک کے اپنے مرض وفات میں فرمارہے تھے:''آج اگر سالم رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں خلافت کے مسئلے کو مشورہ پر نہیں چھوڑتا۔''
بعض مئورخین لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا یہ مطلب تھا کہ سالم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کردیتے۔
لیکن ابو عمر نے کہا ہے:''اس کا یہ مطلب تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ کی رائے سے خلیفہ مقرر کر دیتے۔''(واللہ اعلم)
وفات کے وقت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی عمر٥٤سال تھی۔
