🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بہتر راستا
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

بہتر راستا

رضوان بھٹی
21 جولائی، 2026۲۰ مرتبہ پڑھی گئی

بہتر راستا سنیں

گہرے جنگل کے ایک خوبصورت حصے میں ننھی گلہری جس کا نام چمکی تھا اور شرارتی خرگوش منّو رہتے تھے۔ دونوں کے گھر بھی ایک درخت کے اوپر نیچے ہی تھے۔ چمکی اسی درخت پر رہتی تھی اور منو اس کی جڑوں میں اپنا بل نما گھر بسائے بیٹھا تھا۔ دونوں میں بہت گہری دوستی تھی۔ چمکی نہایت تیز اور ذہین تھی، جبکہ منّو کی پھرتی اور خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ دونوں کا زیادہ تر وقت کھیلنے، بھاگنے اور مل بیٹھ کرگپ شپ کرنے میں گزرتا۔ ان کی دوستی کافی پرانی تھی۔ چونکہ ان کی خوراک میں بھی کافی مماثلت تھی اسی لیے جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن ان کی زندگی میں ایک بڑا مسئلہ تھا اور وہ تھا کالی بلی جھپٹی!۔

جھپٹی سیاہ رنگت کی نہایت چالاک اور کینہ پرور بلی تھی۔ وہ چمکی اور منّو کا پیچھا کرنے میں خاص دلچسپی لیتی تھی۔ ان دونوں کو رنگ کرنا اسے بہت پسند تھا۔ اسے ان دونوں کی دوستی سے بہت شدید خندق تھی، یوں کہہ لیں کہ جب یہ دونوں ہنستے تھے تو جھپٹی بہت جلتی تھی۔ ان دونوں کی پکی دوستی اور پرسکون رہنا ہی حسد کی بڑی وجہ تھی۔ وہ اکثر موقع کی تلاش میں ہوتی کہ کب ان پر حملہ کرنے کا موقع ملے۔ لیکن تاحال ایسا ممکن نہ سکا تھا۔ کیونکہ چمکی گلہری کا زیادہ وقت منو خرگوش کی بل میں گزرتا تھا۔

ایک دن جب چمکی اپنے نرم و ملائم گھونسلے میں آرام کر رہی تھی تو جھپٹی بلی نے موقع کو غنیمت جانا اور اکیلے پا کر تیزی سے اس پر چھلانگ لگائی اور حملہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر چمکی اپنی پھرتی اور خطرے کو جلد بھانپ لینے کی صلاحیت کی بدولت بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اپنی دم سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ جھپٹی کے پنجے میں صرف دم ہی آسکی تھی۔ چمکی بھاگ کر منو کے بل میں آ گھسی۔

"یہ بلی ہمیں کہیں جینے نہیں دے گی!" چمکی نے گھبراتے ہوئے کہا اور ساری صورتحال منّو کو بتائی۔

"آئے روز ہمیں جھپٹی کا خوف لگا رہتا ہے۔ دیکھنا۔۔۔ایک نہ ایک دن تمہاری دوست کی جان لے لے گی یہ۔" چمکی نے مایوس ہو کر کہا۔

"ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔ ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ !" منو نے پریشانی سے کہا۔

"مگر کیا۔۔۔؟"

"ہجرت۔۔۔ ہمیں یہ جنگل چھوڑ دینا چاہیے!" منو نے کڑک کر کہا۔

"مگر ہم جائیں گے کہاں۔۔۔؟" چمکی کچھ پریشان سی تھی۔

" میرے پڑدادا کے جنگل میں۔۔۔ میری بابا اکثر مجھے بتایا کرتے تھے کہ جنگل کے جنوب کی سمت سیدھے راستے پر ایک ہفتہ کی مسافت کے بعد تمہارے پڑدادا کا جنگل شروع ہوتا ہے۔۔۔ وہاں سب پیار سے رہتے ہیں." منو نے کہا۔ اور سوچ و بچار کے بعد دونوں آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگے۔

اگلے روز وہ خاموشی سے نکل پڑے۔ ان کا مقصد اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ جہاں امن اور سکون کی امید تھی۔ مگر جیسے ہی وہ چلنے لگے، منو کو پیچھے سے آہستہ آہستہ سرسراہٹ سنائی دی۔

"چمکی۔۔۔مجھے لگتا ہے کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے!" منّو نے کانپتی آواز میں کہا۔

چمکی نے پیچھے دیکھا اور اس کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ جھپٹی کو دیکھ چکی تھی۔ !

"وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ جھپٹی ہی ہے۔۔۔ " چمکی نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ دونوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ پڑی۔

"چلتی چلو فی الحال۔۔۔ جھپٹی کے خیال میں ہم لا علم ہیں۔۔۔ لیکن ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا"۔ منو نے کہا اور اپنی رفتار مزید بڑھا دی۔

چلتے چلتے وہ ایک گہری ندی پر پہنچے، جس پر ایک پرانا اور کمزور لکڑی کا پل سا ہوا تھا۔ نیچے تیز پانی بہہ رہا تھا۔

"یہ پل ٹوٹا ہوا لگ رہا ہے، کہیں ہم گر نہ جائیں!" منّو نے پریشانی سے کہا۔

"ہمت رکھو، ہمیں جانا ہی ہوگا!" چمکی نے جواب دیا۔

چمکی پھرتی سے ایک رسی جیسی بیل پکڑ کر دوسری طرف جھول گئی، مگر منّو ابھی تذبذب میں تھا۔ اچانک پیچھے سے جھپٹی کی آواز آئی،

"کہاں جا رہے ہو میرے ننھے نوالو؟" منّو کے جسم میں گویا بجلی دوڑ پڑی ہو۔ اس نے خوف کے مارے پل پر قدم رکھا، مگر جیسے ہی وہ بیچ میں پہنچا جھپٹی نے اس پر حملہ کرنے کی نیت سے زوردار چھلانگ لگا دی۔خستہ حال پل چرچرانے لگا اور لرزنے لگا۔

"منّو، دوڑو!" چمکی نے چیخ کر کہا۔ منّو نے اپنی پوری طاقت لگا کر چھلانگ لگائی اور بمشکل دوسری طرف جا پہنچا۔ جھپٹی کے وزن سے پل نیچے گرنے لگا۔ جھپٹی نے ایک خوفناک چیخ ماری اور بہتی ندی میں گر گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ کچھ ہی دیر میں جھپٹی کے چیخنے کی آوازیں بھی معدوم ہوتی گئیں۔

"آخرکار ہم اس سے بچ نکلے!" منّو نے سکھ کا سانس لیا۔

ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ جنگل کے دوسرے کنارے پر پہنچے۔ یہ جگہ واقعی حیرت انگیز تھی!

یہاں کے جانوروں نے انہیں کھلے دل سے قبول کیا۔ ہرنی نرملا نے انہیں تازہ پانی پلایا، ہاتھی بھولو نے اپنے ساتھ رہنے کی پیشکش کی، چڑیا چہکلی نے چمکی کیلئے ایک خوبصورت درخت پر گھونسلہ بنا دیا۔ اور اسی درخت کے نیچے منو کو بل بنانے کی اجازت دے دی۔ یہاں کوئی کسی کو تنگ نہیں کرتا تھا، سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔

"یہی ہے وہ جگہ جس کی ہمیں تلاش تھی!"چمکی نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا۔ نئے جنگل کے سارے جانور اس کی کہانی دلچسپی سے سن رہے تھے۔

"اگر زندگی میں مشکلات بڑھنے لگیں، تو ہمت نہ ہارو، بلکہ بہتر راستہ تلاش کرو۔ آزمائشوں کا سامنا بہادری، صبر اور عقل سے کیا جائے، تو اللہ بہتر راستے کھول دیتا ہے۔" بھولو ہاتھی نے کہا اور اپنی سونڈھ کو بل دیتے ہوئے منو کو اوپر اٹھا لیا۔ وہ مارے خوف کے چیخنے لگا۔ سب جانور کھلکھلا کر ہنس دیے۔

لکھاری

رضوان بھٹی

جناب رضوان بھٹی بچوں کی مقبول لکھاری ہیں ، عرصہ دراز سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں لکھ رہے ہیں ، کہانی گھر کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے