🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
 مٹر میاں کی مہم
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

مٹر میاں کی مہم

ساجدہ امیر
21 جولائی، 2026۵۳ مرتبہ پڑھی گئی

مٹر میاں کی مہم سنیں

''ہر وقت سبزی بنتی ہے، کبھی نوڈلز، برگر اور پیزا بھی بنا لیا کریں۔'' مانی نے کھانے کی پلیٹ کو ایک طرف کیا اور غصے سے منہ بنا کے بیٹھ گیا۔

وہ آٹھ سال کا بچہ تھا۔ وہ بے حد ضدی اور غصے کا تیز تھا۔ وہ کھانے میں ہر وقت کوئی نا کوئی نقص نکالتا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ برگر ، پیزا اور شوارمے کی فرمائش کرتا لیکن یہ چیزیں اُسے کبھی کبھار ھہی کھانے کو ملتی تھیں۔

مانی کو سبزیوں سے خاصی چڑ تھی۔امی کوئی بھی سبزی بناتیں، وہ اُسے برا بھلا کہہ کر ایک طرف رکھ دیتا تھا۔آج امی نے گاجر، مٹر اور میتھی پالک کامکس سالن بنایا تھا۔ جسے دیکھ کر وہ ہمیشہ کی طرح چڑ گیا۔اس نے پلیٹ کو ایسے دھکیلا کہ سالن بکھر گیا اور مٹر کے کچھ دانے اُچھل کر زمین پر گر گئے۔مانی کی اس حرکت پر بابا شدید برہم ہوئے۔ اُن کی ڈانٹ کی وجہ سے وہ منہ پھلا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہ اپنے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ دن بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے اُسے جلد ہی نیند نے آلیا۔

کچھ دیر بعد اس کے کانوں میں کسی کے رونے کی آواز آئی۔وہ چونک کر اُٹھ بیٹھا۔ اُس نے اِدھر ادھر دیکھا لیکن اسے کوئی نظر نہ آیا۔ وہ پریشان ہو گیا کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟اچانک اس نے دیکھا کہ اس کے تکیے کے پاس کچھ مٹر بیٹھے رو رہے تھے:

''ارے مٹر میاں!آپ کیوں رو رہے ہیں؟''مانی نے حیرت سے پوچھا۔

''مانی!تم نے ہمیں پلیٹ سے باہر گرا کر ہماری توہین کی ہے، جب کہ ہم تو دن رات تمھاری مدد کرتے ہیں۔'' مٹر میاں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔مٹر کی بات سن کر مانی حیران ہوا کہ یہ کیسے میری مدد کرتے ہیں۔اُسے سوچ میں گم دیکھ کر مٹر بولا:

''چلو میرے ساتھ، میں تمھیں دکھاتا ہوں کہ ہم سبزیاں کیسے تمھاری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔''

یہ کہتے ہی مٹر میاں نے مانی کا ہاتھ چھوا تو ایک تیز روشنی اُس کی آنکھوں سے ٹکرائی۔ اُس نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ پھر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ ایک نئی جگہ موجود تھا۔ اُس کا قد کسی موٹے تازے مٹر کے دانے جتنا تھا۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ، ننھے پائوں اور گول مٹول سر ،اپنی حالت دیکھ کر مانی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔اس سبزی ستان میں اُس نے دیکھا کہ سبزیاں بہت اُداس ہیں۔ایک گاجر بی بی روتے ہوئے کہہ رہی تھی:

''میں نے مانی کی آنکھوں کی روشنی تیز کرنے کے لیے زمین کے اندھرے میں اتنے مہینے محنت کی اور اس نے مجھے پھینک دیا۔''پالک خان کڑک آواز میں بولے:

''میں مانی کی ہڈیوں کو طاقتور بنانے کے لیے آئرن جمع کر رہا تھالیکن یہ مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔''

اتنے میں میتھی بی بی اپنی خوشبودار چادر لہراتی ہوئی آگے بڑھی اور پریشانی سے بولیں:

''میں تو مانی کے پیٹ اور اس کے خون کو صاف کرنے کے لیے اتنی محنت کرتی ہوںکہ میری خوشبو سے پورا گھر مہک اُٹھتا ہے، لیکن یہ ہر روز نقصان دہ مایو نیز والے شوارمے کے پیچھے بھاگتا ہے۔''یہ سن کر مانی نے گھبرا کر اپنے رہنما مٹر میاں کی طرف دیکھا۔ وہ افسردہ سے ایک طرف کھڑے تھے۔ مانی نے پوچھا:

''مٹر میاں!کیا آپ مجھ سے غصہ نہیں ہیں؟آپ ہمارے لیے کیا کرتے ہیں؟'' مٹر میاں نے اپنے گول مٹول چہرے پر ہاتھ پھیرا اور بولے:

''مانی!ہم مٹر کے چھوٹے چھوٹے دانے تمھارے جسم کو پروٹین اور طاقت دیتے ہیں۔ ہم تمھیں بیماریوں سے لڑنے کی سپر پاور دیتے ہیں تاکہ تم جلدی بیمار نہ ہو اور خوب دوڑ بھاگ سکو، لیکن تم نے ہمیں پیروں میں گرا دیا۔''

اسی دوران سبزیوں کا راجا بینگن میاں سر پر ہرا تاج سجائے، جامنی چوغہ پہنے وہاں پہنچ گئے۔ اُنھوں نے غصے سے کہا:

'' ہم اپنی اتنی توہین ہرگز برداشت نہیں کریں گے، مانی کو اب یہاں سے مت جانے دو، یہاں ہی اسے قید کر لو۔ جب یہ سبزیوں کے بغیر سوکھا پاپڑ بن جائے گا، تب اِسے ہماری قدر ہو گی۔''

یہ کہتے ہی ساری سبزیاں مانی کے گرد گھیرا بنانے لگیں۔ یہ دیکھ کر وہ ڈر گیا اور مٹر میاں سے لپٹ کر بولا:

'' مجھے بچا لو! مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ سب میری اتنی مدد کرتے ہو، مجھے معاف کر دو۔'' مٹر میاں مانی کی معافی اور ندامت دیکھ کر سبزیوں سے اس کی سفارش کرنے لگے:

''راجاسلامت!مانی نے اپنی غلطی مان لی ہے۔اب اِسے سدھرنے کا ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔''

یہ سن کر مانی خوش ہوگیا۔ اس نے مٹر میاں کو گلے لگانے کے لیے بازو پھیلائے اور اسی پل اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس نے ہڑبڑا کر دیکھا تو وہ اپنے بستر پر تھا۔

اگلی صبح وہ کھانے کی میز پر آیا تو بغیر کسی نخرے کے خوشی خوشی مکس سالن سے ناشتا کرنے لگا۔ مانی کو شوق سے ناشتا کرتے دیکھ کر امی، ابو حیران ہوئے اور خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے۔ ادھرمانی نے دل ہی دل میں مٹر میاں کا شکریہ ادا کیا۔مٹر میاں اُس کی پلیٹ میں پڑے مسکرا رہے تھے۔

لکھاری

ساجدہ امیر

محترمہ اردو ادب کی دُنیا میں ساجدہ امیر کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب سے ہے لیکن کچھ وجوہات کے باعث انہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں بھی رہنا ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے اب تک ان