''کیا ہمیں کوئی ایسا کام کرنا چاہیے جو یاد رہے ،جس سے کسی کی مشکل آسان ہو جائے ۔اس کی زندگی میں خوشیاں بھر جائیں ۔ ؟''
'' ہاں! کرنا توچاہیے ''۔میں نے دھیرے سے کہا اور اُن کی طرف خوف بھری نظروں سے دیکھا ۔مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ نہ جانے بھیا اب کیا کہہ دیں ۔
''یہ لو لفافہ... اِس میں کچھ کاغذات ہیں اور اُوپر ایک فون نمبر لکھا ہوا ہے۔جیسے ہی میں مر جاوں، تم بھاگ کر جانا اور اس نمبر پر فون کرنا ۔ وہاں سے غزنی بھائی آئیں گے، وہ سب سنبھال لیں گے۔مجھے لے جائیں گے پھر مجھے تیار کرکے لے آئیں گے اور تم لوگ... '' وہ کہتے کہتے چپ ہوگئے ۔
میں نے ان کی طرف دیکھا ۔وہ بالکل سامنے گلاب کے پھولوں کو دیکھ رہے تھے۔ پھول ہلکی ہلکی ہوا سے دائیں بائیں ہل رہے تھے جیسے بڑے بھیا کی ہر بات پر ہاں ،ہاں کہہ رہے ہوں ۔
''غزنی بھائی آپ کو کہاں لے جائیں گے اور کیوں ؟''میں نے پوچھا۔ غزنی بھائی کو میں جانتا تھا، وہ بڑے بھیا کے سب سے اچھے دوست تھے اور کسی اسپتال میں کام کرتے تھے لیکن بھلا مرنے کے بعد اسپتال کون جاتا ہے۔ اسپتال سے تو لوگ مر کے آتے ہیں ۔ دادا جان ، وسیم کے ابو ، شبیر چچا یہ سب تو اسپتال زندہ گئے تھے اور مر کے واپس آئے تھے ۔کیا بڑے بھیا مرکے اسپتال جائیں گے اور زندہ ہو کر واپس آئیں گے ۔میں بے یقینی سے بڑے بھیا کو دیکھنے لگا ۔
''میں اپنی آنکھیں مرنے کے بعد اسپتال کو دینا چاہتا ہوں تاکہ کسی کے کام آسکیں۔'' بڑے بھیا نے بڑے سکون سے جواب دیا ۔کیا۔ میں منہ پھاڑے حیرت سے اُنھیں دیکھتا رہا:
'' لیکن آپ کس کو آنکھیں دینا چاہتے ہیں ؟'' میں نے ذرا دیر رُک کے پوچھا ۔
''چھٹکی سائرہ کو دینا چاہتا ہوں۔'' بڑے بھیا نے جیسے دھماکا کردیا۔
'' کک...کیا... چھٹکی کو، تایا ابو کی بیٹی کو! اُنھوں نے تو ہمیں گھر سے باہر نکال دیا تھا ۔ ابا کا حصہ دبا لیاتھا ۔تائی امی تو ہمیں لالچی کتا سمجھتی ہیں ۔'' مجھے غصہ آگیا ۔ میں چلّانے لگا ۔بڑے بھیا مجھے ذرا دیر حیرت سے دیکھتے رہے جیسے اُنھیں مجھ سے ایسے جواب کی توقع نہ ہو ۔وہ تایا ابو کی بیٹی ہے نہ تائی امی کی بیٹی ۔وہ بس ہماری چھٹکی ہے ،ہماری بہن ہے اور بس۔'' بڑے بھیا نے جواب دیا۔ ذرا دیر چپ رہے پھر بولے
''جب اُس کی بینائی کم ہونے لگی تھی اور وہ بار بار کہتی تھی کہ اندھیرے کو ہٹاو ،بتی جلائو اور پھر جب اُس کی بینائی پوری چلی گئی تو وہ کیسے چلّا چلّا کر روتی تھی ۔مجھے ڈرلگتا ہے اندھیرے سے ، گھنٹوں گود سے نہیں اُترتی تھی ۔اُس کا رونا ، تڑپتا مجھ سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا تھا کہ یا اللہ! مجھے چھٹکی کے لیے آنکھیں دلا دے اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دُعا قبول کرلی ہے ۔ مجھے کسی دوسرے سے مانگنے سے بچالیا ہے ۔'' بڑے بھیا چپ ہوگئے ۔میں نے پوچھا :
''کیا اماں اجازت دے دیں گی !کیا تایا ابو مان لیں گے ،یہی تو راز ہے ۔ کسی کو پتا نہیں چلے گا ۔ میں نے آنکھوں کے عطیے کا فارم بھر کے تمام کام مکمل کرلیا ہے اور علیم کو قائل کر لیا تھا کہ وہ آنکھوں والے اسپتال میں سائرہ کا نام لکھوا دے تاکہ جیسے ہی کوئی آنکھوں کا عطیہ ملے تو وہ سائرہ کو آپریشن کے لئے بلا لیں ۔'' بڑے بھیا جیسے سب انتظام کئے، تیاری کرکے بیٹھے تھے ۔علیم بھائی تایا ابو کے تینوں بیٹوں میں سب سے اچھے ملنسار اور ہم سے محبت کرنے والے تھے ۔
''تو کیا علیم بھائی کو پتا ہے کہ...'' آگے مجھ سے نہ کہا گیا۔ میری آواز میں آنسو بھر آئے ۔ میں چپ ہوگیا ۔
''نہیں ... بالکل نہیں ۔'' بڑے بھیا نے جواب دیا :
''بس تمھیں اور غزنی کو معلوم ہے ، اسپتال والے کسی کو نہیں بتاتے کہ آنکھیں کہاں سے ملی ہیں۔'' بڑے بھیا چپ ہوگئے۔
''آ ... آپ کے بغیر میں کیسے رہوں گا؟'' میں اُٹھ کے بڑے بھیا سے چمٹ گیا ۔بڑے بھیا نے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا :
''بس مجھے یہ تسلی ہے کہ میں ہمیشہ چھٹکی کی آنکھوں سے تم سب کو دیکھ سکوں گا ۔مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں کہ کوئی جانے یا نہ جانے۔'' بڑے بھیا کے انداز اور لہجے میں بہت اطمینان اور مضبوطی تھی ۔''
O
اِس گفتگو کے چند دن بعد ہی بڑے بھیا چل بسے ۔جب اُنھوں نے آخری سانسیں لیں تو میں اُن کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا ۔اُن کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا ۔اُنھوں نے پوچھا تھا کہ تمھیں سب یاد ہے نا؟میرے جی کہتے ہی بھیا مسکرائے اور مجھے دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں ۔اماں نے آ کر بھیا کی پیشانی پر ہاتھ رکھا ۔ بڑے بھیا نے آنکھیں کھول کر اماں کی طرف دیکھا :
اماں نے کہا :
''تھوڑی دیر سو جائو ،رات بھر کھانستے رہے ہو، سو جائو تھوڑی دیر ۔'' بڑے بھیا نے آنکھیں بند کرلیں۔اِتنے میں رابعہ کمرے میں داخل ہوئی اور بھیا کے پیروں کے پاس بیٹھ کر اُن کے پائوں دبانے لگی اور بولی :
''بڑے بھیا! پیر تو برف ہورہے ہیں آپ کے۔'' بڑے بھیا نے ذرا سی آنکھیں کھول کے رابعہ کو دیکھا اور پھر اُن کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔میرے ہاتھ میں بھیا کا ہاتھ جیسے ایک دم سے ڈھیلا سا ہوگیا۔میں نے گھبرا کے اُنھیں آواز دی:
''بھیا...بھیا...'' بھیا خاموش ہو چکے تھے ۔راز کی بات شروع ہو چکی تھی ۔
O
بعض پریشانیاں بھی بعض اوقات رحمت بن جاتی ہیں۔ تین دن سے پانی نہیں آرہا تھا اور یہی معاملہ سارے معاملے میں رازداری کا سبب بن گیا ۔غزنی بھائی میرا فون سنتے ہی آگئے ۔اُنھوں نے کہا:
''یہاں تو پانی نہیں ہے، ہم ایدھی سینٹر لے جاتے ہیں اور بڑے بھیا کو تیار کرکے لائیں گے۔'' ابھی غزنی بھائی یہ کہہ ہی رہے تھے کہ باہر ایمبولینس آگئی :
''میں چلوں گا ۔'' میں نے غزنی بھائی سے کہا ۔غزنی بھائی نے ہاں میں سر ہلایا ۔میں نے بھیا کا دیا لفافہ سنبھالا اور ایمبولینس میں بیٹھ گیا ۔باہر لوگ پانی والوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور میں خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اچھا ہوا آج پانی نہیں آیا ۔دو گھنٹوں میں ڈاکٹروں نے اپنا کام مکمل کرلیا ۔یہ آنکھوں کا بہت بڑا اسپتال تھا ۔جب ہم واپس جا رہے تھے تو علیم بھیا رکشے سے، سہارا دے کر چھٹکی سائرہ کو اُتار رہے تھے ۔تب صبح سے پہلی بار میں بڑے بھیا سے چمٹ چمٹ کر، چِلّا چِلّا کر رویا ۔غزنی بھائی میرے سر پر بالکل بڑے بھیا کی طرح ہاتھ پھیرتے رہے ۔آنسو اُن کی بھی آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔
( ختم شدہ)
