🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
کیچو ...تم کر سکتے ہو!
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

کیچو ...تم کر سکتے ہو!

رضوان بھٹی
20 جولائی، 2026۱۵۶ مرتبہ پڑھی گئی

کیچو ...تم کر سکتے ہو! سنیں

"ارے کیچو! تم سارا دن آرام ہی کرتے رہو گے یا کوئی کام بھی کرو گے۔۔۔؟" تالاب کے کنارے کیچو کچھوے کو آرام سے دھوپ سینکتے دیکھ کر فوبی مینڈک نے کہا۔ کیچو کا سخت خول چمک رہا تھا اور وہ خود کو تالاب کا سب سے عقلمند اور دانا کچھوہ سمجھتا تھا۔ فوبی مینڈک خوشی خوشی پانی میں چھلانگیں لگا رہا تھا اور کبھی کسی مچھر کو پکڑ کر کھا لیتا تو کبھی کیچو کو چھیڑنے کی کوشش کرتا۔

"ارے بھئی، میں غور و فکر کر رہا ہوں۔ بڑے لوگ زیادہ محنت مشقت نہیں کرتے بلکہ عقل سے کام لیتے ہیں!" کیچو نے غرور سے جواب دیا۔ اور اپنی گردن خول میں ڈال لی۔

"واہ۔۔۔ بڑا آیا بڑے لوگ۔۔۔ " فوبی نے کہا۔ اور دوبارہ سے اچھل کود کرنے لگا۔ اچانک فوبی کو دور سے ہرنی نرالی تیزی سے دوڑتی آتی دکھائی دی۔ وہ ہانپ رہی تھی، جیسے کوئی بہت اہم خبر لائی ہو۔

"دوستو۔۔۔ دوستو۔۔۔!" اس نے ان دونوں کے پاس پہنچ کر کہنا شروع کیا۔ "میں جنگل کے بادشاہ کا ایک پیغام لائی ہوں۔۔۔جنگل میں تیرنے کاایک مقابلہ ہونے والا ہے، تالاب کے سب سے بہترین، ذہین اور تیز جانوروں کو اس میں شرکت کرنی ہوگی!" نرالی نے اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی تالاب کے دوسرے جانور بھی دیکھا دیکھی اکٹھے ہونے لگے۔ چیچو بطخ، گپو مچھلی، اور کچک جھینگا بھی فوراً آ گئے۔ سب نے بحث شروع کر دی کہ کون سب سے بہتر امیدوار ہوگا۔

"میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے سب سے عقلمند اور پرسکون دوست کو بھیجنا چاہیے، اور وہ ہے کیچو!" چیچو بطخ نے فخریہ انداز میں کہا۔

"ہاں۔۔۔ہاں! کیچو کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟" فوبی نے قلابازی لگاتے ہوئے کہا۔

کیچو جو پہلے سستی میں مبتلا تھا، اور ایسے بیٹھا تھا جیسے اسے ان سب سے کچھ لینا دینا نہ ہو۔ اب فخر سے اکڑ گیا تھا۔ اس نے ایک مغرورانہ نظر سب پر ڈالی اور سوچا۔ 'یہ سب مجھ سے کمتر ہیں، اور میں سب سے زیادہ قابل ہوں!'

"بالکل۔۔۔! میں ہی بہترین انتخاب ہوں۔۔۔!" کیچو نے اپنی چمکتی آنکھوں سے سب کو دیکھتے ہوئے کہا۔"میرے مد مقابل کون ہے۔۔۔؟" اس نے پوچھنا مناسب سمجھا۔

"مگر مچھ گونگو۔۔۔ !" نرالی نے کہا۔ یہ نام سنتے ہی کیچو کی گویا سٹی گم ہو گئی۔ سب حیران رہ گئے۔ ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔

"کیچو کا مقابلہ مگرمچھ گونگو سے ہی ہوگا!" ہرنی نرالی نے دوبارہ کہا۔ تو گویا سب کو ہوش آگئی ہو۔

"گونگو!" سب جانور ایک ساتھ چیخ پڑے۔ گونگو مگرمچھ تالاب اور آس پاس کے باسیوں کیلئے سخت ناپسندیدہ جانور تھا۔ وہ طاقتور، خطرناک، اور تالاب کا سب سے خطرناک شکار کرنے والا جانور تھا۔ عام طور پر وہ چھپ کر رہتا، مگر جب بھی اسے موقع ملتا، چھوٹے جانوروں پر حملہ کر دیتا۔

"میں اپنی بہترین حکمت عملی سے اسے شکست دے دوں گا!" کیچو کا غرور تھوڑا سا ہلا لیکن پھر بھی اس نے خود کو سنبھالا۔ اور اکڑ کر کہا۔

"ہاں ہاں۔۔۔ کیچو تم کر سکتے ہو۔" آس پاس کھڑے تمام دوستوں نے زوردار آواز میں کہا۔ نرالی جس طرح دوڑتی آئی تھی اسی طرح واپس ہو لی۔

اگلی صبح کیچو تیراکی سے فارغ ہو کر تالاب سے باہر نکلا تو ٹھنڈی میٹھی دھوپ میں اس کا دل للچانے لگا۔

"کیچو۔۔۔ تیرنے کی مشق کرلو۔۔۔ تمہارا مقابلہ جلد ہونے ہوالا ہے۔" فوبی نے کہا۔ وہ بدستور مچھروں کا شکار کرنے میں مصروف تھا۔

"بڑے مزے کی دھوپ ہے۔۔۔ کیوں نہ تھوڑی دیر سستا لوں۔ مشق کل کر لیں گے۔" کیچو نے کہا اور اپنے پسندیدہ پتھر کی سمت بڑھ گیا۔

***

مقابلے کا دن آپہنچا تھا اور جنگل کے تمام جانور مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئےتھے۔تالاب کنارے تمام مقابلہ باز تیار تھے۔ مقابلہ تیز تیرنے، مشکلات سے نکلنے، اور جلدی تالاب کو پار کرنے کا تھا کا تھا۔کیچو اور گونگو سب کی نگاہوں کا محور تھے۔

"مقابلہ شروع!" نرالی نے بادشاہ سلامت کا اشارہ پا کر اونچی آواز میں کہا۔ گونگو ایک ہی جھٹکے میں پانی میں کودا، اس کی طاقتور دُم نے پانی کو زور سے اچھالا۔ کیچو نے بھی پانی میں چھلانگ لگا دی مگر اس کی حرکت سست تھی۔ جیسے ہی وہ آگے بڑھنے لگا اسے بھوک لگ گئی۔ اسے راستے میں آبی پودے دکھائی دیے تو وہ انہیں چبانے لگا۔

"ارے! کیچو، تم کیا کر رہے ہو؟ یہ کھانے کا وقت نہیں!" فوبی نے چیخ کر کہا۔

"میں جب بھی پانی میں آتا ہوں، میرا دل پودے اور کائی کھانے کا کرتا ہے!" کیچو نے جواب دیا۔

"ارے بدھو۔۔۔ یہ وقت کھانے کا نہیں۔۔۔ تیرنے کا ہے۔ جلدی کرو ورنہ گونگو تالاب پار کر لے اور تم ہار جاؤ گے۔" فوبی نے فکر مندی سے کہا۔

"کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ میں سب سے ذہین اور تیز رفتار کچھوہ ہوں۔ میں ہی جیت کے دکھاؤں گا۔" کیچو نے کہا۔ اور نا چاہتے ہوئے بھی آگے بڑھ گیا۔

گونگو کیچو سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، اور صحیح وقت پر صحیح کام کرنے والا تھا، وہ آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتا تھا بلکہ اپنے وقت پر ہی کرتا تھا۔ دیکھا دیکھی وہ فوبی اور کیچو کی نظروں سے اوجھل ہوا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ جیت کی لکیر پار کر گیا۔

***

"یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیچو تو سب سے زیادہ عقلمند تھا!" چیچو بطخ نے حیرانی سے کہا۔ تالاب کے سب جانور حیران و پریشان تھے۔

"ہاں، مگر صرف عقل سے سب کچھ نہیں جیتا جا سکتا، سخت محنت، وقت پر کام اور حقیقت پسندی بھی ضروری ہے!" گپو مچھلی نے کہا۔ کیچو کی نظریں شرم سے جھک گئیں۔ اسے احساس ہو گیا کہ صرف آرام، عقل، اور غرور کافی نہیں ہوتے۔ اسے محنت بھی کرنی چاہیے تھی۔اور آج کا کام کل پرنہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

لکھاری

رضوان بھٹی

جناب رضوان بھٹی بچوں کی مقبول لکھاری ہیں ، عرصہ دراز سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں لکھ رہے ہیں ، کہانی گھر کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے