ایک دن علی عباس صحن میں بیٹھا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ ردا فاطمہ کمرے کے دروازے میں کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔ اُس نے بھائی سے پوچھا :
بھائی! آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟
علی عباس نے سر اُٹھا کرردا کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا:
اچھی بہن! میرے پاس کہانیوں کی ایک بہت پیاری کتاب ہے۔ میں وہ پڑھ رہا ہوں۔
اوہ! کہانیاں تو مجھے بھی پسند ہیں ، کیا آپ مجھے اپنی کتاب پڑھنے کے لیے دو گے؟
علی عباس بولا:
کیوں نہیں بہن ، مین پڑھ لوں ، پھر میں آپ کو دے دوں گا۔
ٹھیک ہے بھائی! میں انتظار کرتی ہوں ، آپ پڑھ لیں۔ ردا نے خوش ہو کر کہا اندر کمرے میں ماما کے پاس چلی گئی اور اُنھیں بتانے لگی:
ماما! باہر صحن میں بھیا کہانیوں کی ایک خوبصورت سی کتاب پڑھ رہے ہیں ، میں نے اُن سے کہا کہ میں بھی کہانیاںپڑھنا چاہتی ہوں تو انھوں نے کتاب پڑھ کر مجھے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ماما! کتنا مزہ آئے گا جب میں کہانیوں والی کتاب پڑھوں گی۔
ماما ردا کی بات سن کر خوش ہوگئی کہ میری بیٹی اپنی پسند کی کہانیاں پڑھے گی۔
علی عباس نے شام کو کہانیوں کی کتاب ردا کے حوالے کی تو وہ بہت خوش ہوئی۔ جب وہ کہانیاں پڑھ رہی تھی تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ اُس کی کتنی خواہش تھی کہ وہ کہانیاں پڑھے اور آج اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ کتاب پڑھ کر ردا کے جی میں آئی کہ وہ بھی ایک کہانی لکھے۔ اس نے ماماسے مشورہ کیا اور دو دن بعد ایک کہانی لکھنے میں کامیاب ہوگئی۔ بچو! کیا اپ کو بھی کہانیاں پڑھنے لکھنے کا شوق ہے!
