چَلّانے کی آواز آتی ہے:
کامران: کیا ہوا بیگم؟ کیوں چلا رہی ہو؟ کیا لال بیگ نظر آگیا ہے؟
شہناز : مم...... میرا پودا!
کامران : پودا..... کیسا پودا ؟باورچی خانے میں پودا کہاں سے آگیا؟
شہناز : میں باورچی خانے میں نہیں صحن میں ہوں. میرا پودا مرجھاگیا ہے.
کامران : (قریب آتے ہوئے) یہ تم صبح ہی صبح پودوں میں کیوں گھس گئی ہو! کیا ناشتا نہیں بنانا آج؟
شہناز : بن جائے گا ناشتا بھی، یہ دیکھو! کل تک اچھا بھلا تھا یہ پودا، ایک رات میں ہی سارے پتے
مرجھاگئے ہیں۔
کامران : تو اِس میں رونے والی کون سی بات ہے!
شہناز : (تیز لہجے میں) نہیں ہنسنے والی بات ہے، تم تو جلتے ہو میرے پودوں سے۔
کامران : جلوں نہ تو اور کیا کروں،ہر وقت تمھیں اپنے پودوں ہی کی فکر رہتی ہے، کبھی کبھی میں سوچتا
ہوں کہ کاش میں بھی ایک پودا ہوتا۔
شہنا ز : (منہ بنا کر) شروع ہوگیا مذاق!
کامران : اچھا بابا! میں آج ہی واپسی پر ایسا ہی دوسرا پودا لادوں گا،اب خدا کے لیے ناشتا بنادو مجھے دیر
ہورہی ہے۔
کامران : یا اﷲخیر! آج پھر منہ بنا ہوا ہے. بلکہ مجھے تو یُوں لگتا ہے کہ تمھارا منہ ہے ہی ایسا...
شہناز : (گھور کر) اور اپنے منہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کامران : اب اپنے منہ کیا میاں مٹھو نبوں ،ورنہ میرا منہ تو ایسا ہے... ایسا ہے....
شہناز : جیسے فٹے منہ!
کامران : لینگویج پلیز! آخر میں تمھارا میائوں ہوں۔
شہناز : (حیرانگی سے) میائوں!
کامران : ( جلدی سے) مطلب ہے میاں، جلدی میں زبان پھسل گئی، خیر! اب یہ بتائو کہ کیا مسئلہ ہے؟
شہناز : (افسردگی سے) میرے سارے پودے ایک ایک کر کے ختم ہوتے جارہے ہیں، جو بھی پودا لگاتی ہوں ، کچھ عرصے بعد جل کر ختم ہوجاتا ہے۔
کامران : لا حول ولا قوة! وُہی مرغی کی ایک ٹانگ۔
شہناز : میں کہتی ہوں، اِس معاملے کو سنجیدگی سے لو،آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ میں زمین میں جو بھی
پودا لگاتی ہوں، وہ چلتا ہی نہیں، جبکہ گملے میں جو بیلیں لگی ہیں، وہ اچھی خاصی چل رہی ہیں۔
کامران : ہوسکتا ہے، یہ زمین ہی خراب ہو۔
شہناز : گملوں والوں مٹی بھی اِسی زمین کی ہے، اِس میں پودے خراب کیوں نہیں ہوتے؟
کامران : (جھنجھلا کر) اب مجھے کیا پتہ! میں کوئی نباتات کا ماہر ہوں۔
شہناز : تو کسی ماہر سے مشورہ تو کر سکتے ہو!
کامران : ہاں! یہ تم نے عقلمندی کی بات کی اور اِتفاق سے میرا ایک دوست محکمہ زراعت میں ہے،میں
ایسا کرتا ہوں کہ صحن سے تھوڑی سی مٹی نکالتا ہوں اور اُس سے چیک کروالیتا ہوں۔
شہناز: (خوش ہوکر) ہاں! یہ ٹھیک ہے۔
کامران : کتنی خوش ہو رہی ہو، جیسے میں کروا ہی تو رہا ہوں۔
شہناز : کیا مطلب !
کامران : اچھا بابا! اب گھورو مت، جائو کسی تھیلی میں مٹی بھر لائو۔
شہناز : کیا ہوا! مٹی چیک کروائی؟
کامران : ذرا سانس تو لینے دو ، ابھی دفتر سے آکر بیٹھا ہی ہوں۔
شہناز : افوہ!. جلدی لو سانس۔
کامران : حد ہوگئی! اب سانس بھی جلدی جلدی لو، تم تو لگتا ہے، سانس بند کرواکر رہو گی۔
شہناز : اُلٹی سیدھی باتیں مت کیا کرو۔
کامران : اچھا! اب ذیادہ ناراض ہونے کی ضرورت نہیں، میں نے مٹی کا تجزیہ کروایا تھا، اِس میں کوئی خرابی نہیں ہے، بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔
شہناز : تو پھر پودے کیوں جل جاتے ہیں؟
کامران : یہ میں نے اپنے دوست سے پوچھا تھا، اُس نے کہا ہے کہ وہ خود کسی دِن یہاں آکر چیک
کرے گا۔
شہناز : اچھا! (کچھ سوچ کر) پتہ ہے، آج میں اپنی پڑوسن کے گھر گئی تھی۔
کامران : ہیں! کیا کہا ! تم اپنی پڑوسن کے گھر گئی تھیں، یہ تو حیرت انگیز واقعہ ہے!
شہناز : (جل کر) کبھی سنجیدگی سے بھی بات سن لیا کرو۔
کامران : اب تم بات ہی ایسی کر رہی ہو، اگر پڑوسن کے گھر گئی تھیں تو میں کیا کروں؟
شہناز : پہلے پوری بات سن لو، پڑوسن بتا رہی تھی کہ اس کے گھر میں بھی کوئی پودا نہیں لگتا،اُگنے کے چند دن بعد مرجھا جاتا ہے، پھر میں نے تھوڑی سی جاسوسی کی۔
کامران: (آہ بھر کر) بس اِسی کی کسر رہ گئی تھی۔
شہناز : (گھورتے ہوئے) میں چند اور پڑوسیوں کے گھر گئی، پھر ہر گھر سے مجھے یہی پتہ چلا کہ اِس
پورے علاقے میں کہیں بھی زمین میں پودا لگایا جائے وہ ذیادہ عرصے نہیں چلتا، ہاں! اگر گملے
میں لگا ہو تو خوب چلتا ہے۔
کامران : بات تو واقعی عجیب ہے، آخر یہاں کی زمین میں ایسی کیا بات ہے!
شہناز : (خوش ہوکر) ہے نا، ذرا سوچو ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
کامران : (منہ بنا کر) کیوں؟ میں کیوں سوچوں؟ میں یہ بات اپنے دوست کو بتادوں گا، پھر وہ آکر
دیکھ لے گا کہ یہ کیا چکر ہے!
کامران : لو بھئی! تمھارا پودوں کا مسئلہ تو حل ہوگیا۔
شہناز : کیا واقعی!
کامران : نہیں تو میں کیا جھوٹ بول رہا ہوں!
شہناز : نہیں، تم بالکل سچ بول رہے ہو، جلدی بتائو کیا بات ہے؟
کامران : میرے دوست نے اپنے محکمے کی طرف سے اِس پورے علاقے کا سروے کیا ، یہاں کی
زمین کا جائزہ لیا، کھدائی وغیرہ کر کے دیکھی،پھر اُس نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
شہناز : اوہو! تو وہ رپورٹ بتائو نا صرف...
کامران : آخر اتنی جلدی کیا ہے! پہلے تم ہوا کے گھوڑے سے نیچے اُترو ، پھر بتائوں گا۔
شہناز : (گھورتے ہوئے) کیا مطلب! میں گھوڑے پر کب بیٹھی ہوں،مجھے تو ویسے ہی گھوڑے سے
ڈر لگتا ہے۔
کامران : لاحول ولا قوة! محاورے سمجھنے کی سمجھ تو ذرا نہیں تم میں۔
شہناز : محاوروں کو مارو گولی اور رپورٹ پیش کرو۔
کامران : کہہ تو اِس طرح رہی ہو جیسے اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہو، خیر! اب منہ مت بنائو ، سنو! جیسا کہ
تمھیں پتہ ہے، یہ رہائشی کالونی کچھ عرصہ پہلے ہی بنی ہے۔ پہلے یہ خاصہ نشیبی علاقہ تھا، لوگ
یہاں کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے، پھر جب تعمیراتی کمپنی کو کالونی بنانے کا ٹھیکہ ملا تو اُس نے بھی
کوڑے کرکٹ کو بھرت کے طور پر استعمال کیا ، پھر اُوپر مٹی ڈال کر زمین ہموار کی گئی، مطلب
یہ کہ یہاں کی زمین کے نیچے کوڑے کرکٹ کی ایک تہہ موجود ہے۔
شہناز : پھر اِس سے کیا ہوتا ہے، کوڑا تو گل سڑ کر کھاد بن جاتا ہے، اِس صورت میں تو یہاں کی زمین
اور بھی زرخیز ہونی چاہیے۔
کامران : ہاں! یہ بات تو تمھاری دُرست ہے مگر جو کوڑا ڈالا جاتا رہا، اُس میں پلاسٹک کے شاپر بیگوں
کی بہت بڑی تعداد تھی اور پلاسٹک کی دوسری چیزیں بھی تھیں، پلاسٹک ایسی چیز ہے جو
عرصے تک دَبی رہنے کے باوجود گلتی نہیں، جوں کی توں رہتی ہے۔
شہناز : اوہ ہاں! اِسی لیے تو پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ یہ نہ خراب ہوتی ہیں .نہ
کاغذ کی تھیلیوں کی طرح پھٹتی ہیں۔
کامران : ہاں! یہ اِن کا فائدہ ہے مگر ان کا نہ گلنا اور نہ پھٹنا نقصان دہ بھی ہے، جب اِتنی مقدار میں یہ
تھیلیاں زمین میں دبائی جائیں تو یہ زمین کے نیچے ایک تہ سی بنا لیتی ہیں، اور ایسی زمین پر
جب کوئی پودا لگایا جائے تو اُس پودے کی جڑیں زمین سے نمکیات اور دوسرے اجزا حاصل
نہیں کرسکتیںکیوں کہ زمین کی گہرائی میں موجود نمکیات اور پودے کے درمیان پلاسٹک کی
تہہ آجاتی ہے، نتیجے کے طور پر پودے کو اُس کی خوراک نہیں ملتی اور وہ مرجھا جاتا ہے۔
شہناز : اوہ !پھر تو یہ پلاسٹک کی تھیلیاں واقعی خطرناک ہیں!
کامران : ہاں! اِسی لیے تو اب پلاسٹک کی تھیلیوں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے کیوں کہ یہ آلودگی میں
اضافہ کر رہی ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اِنھیں ضائع کرنے کا کوئی محفوظ طریقہ نہیں،
زمین میں دبا نہیں سکتے ، پانی میں پھینکیں تو نالیوں کے سوراخ بند ہوجائیں . دریا یا سمندر میں
پھینکیں تو مچھلیاں اُنھیں نگل کر ہلاک ہوجائیں، اِس کے علاوہ یہ بازاروں اور سڑکوں پر
اُڑتی پھرتی ہیں، ٹریفک میں خلل ڈالتی ہیں، موٹر سائیکل کے پہیوں میں پھنس جاتی ہیں۔
شہناز : ارے مگر ہم انھیں جلا کر تو ضائع کر سکتے ہیں،جلانے سے تو یہ بالکل چُر مُر ہوجائیں گی۔
کامران : اور اِن کے ساتھ خود ہم بھی چُر مُر ہوجائیں گے.۔
شہناز : کیا مطلب!
کامران : مطلب یہ جناب کہ ان تھیلیوں کو جلانے پر ایک خطرناک گیس خارج ہوتی ہے، جو نہ صرف
انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہے بلکہ اَوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
شہناز : اُف! تو پھر آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
کامران : حل یہی ہے کہ اِن تھیلیوں کا استعمال کم سے کم کر دیا جائے،کاغذ یا کپڑے کی تھیلیاں استعمال
کی جائیں،وہ شرافت سے گل سڑ کر ختم ہوجاتی ہیںاور زمین میں دفن ہوکر کھاد بن جاتی ہیں۔
شہناز : (افسردگی سے) اس کا مطلب ہے کہ اب میں یہاں پودے نہیں لگا سکتی!
کامران : (خوش ہوکر) مجھے اِن تھیلیوں سے واقعی فائدہ پہنچا ہے کہ تمھارے پودوں سے نجات مل گئی!
شہناز : خیر! میں اب گملوں میں پودے لگا لوں گی، کل آتے ہوئے پندرہ بیس کملے لیتے آنا...
کامران : (چِلّا کر) کیا کہا !! پندرہ بیس گملے!!!

