🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بڑے بھیا     ( دوسرا حصہ )
جماعت ۷ تا ۱۰

بڑے بھیا ( دوسرا حصہ )

کاوش صدیقی
17 جولائی، 2026۱۹ مرتبہ پڑھی گئی

بڑے بھیا ( دوسرا حصہ ) سنیں

'' جی ہاں، بہت... بہت...''

'' تو پھر اُن کی خدمت کرو ،دھیان رکھو جیسے کسی مہمان کا خیال رکھتے ہیں اور اُن کی ہر بات ماننا، وہ تمھیں عجیب لگے ،چاہے بری لگے...'' ڈاکٹر صاحب نے گول مول سے انداز میں کہا اور دوسرے مریض کی طرف متوجہ ہوگئے ۔میں پلٹ کر واپس آگیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ڈاکٹر صاحب نے اماں کو بتانے لائق بتایا کیا ہے ؟

O

دو تین دن گزرے تو بڑے بھیا نے ایک دن پوچھا :

''کیا آج اسکول نہیں جاو گے ؟''

'' بھیا!آج ہمارے اسکول میں کرکٹ کا ضلعی میچ ہے، اِس وجہ سے چھٹی ہے ۔ بہت سارے لوگ گئے ہیں، میں نہیں گیا ۔'' میں نے فورا بتایا۔

''چلے جاتے، کرکٹ تو مزے کا کھیل ہے ۔'' اُنھوں نے جواب دیا۔ میں نے اُن کی طرف دیکھا ۔ بڑے بھیا کا چہرہ کملا گیا تھا ۔اُن سے بات مشکل سے ہورہی تھی ۔ اُن کا خیال رکھنے کے لیے میں اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رہنا چاہتا تھا۔میں نے پوچھا:

'' آپ کو کہیں جانا ہے ؟''

'' ہاں!پارک میں گھومنے کا دل چاہ رہا ہے ۔آئو! تھوڑی تازہ ہوا کھالیں۔'' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اُٹھ کھڑا ہوا :

''اماں! ہم پارک جا رہے ہیں ۔''

'' ردّی والے سے کاغذ لیتے آنا، میں رَکھوا آئی تھی۔'' اماں نے جواب دیا اور ساتھ ہی تاکید بھی کردی ۔

''میرے لیے چیز لیتے آئیے گا۔'' رابعہ نے فرمائش داغی ۔

ہم دونوں گھر سے باہر نکل آئے اور سڑک پار پارک میں پہنچ گئے ۔دن کے گیارہ بجے تھے اس لیے پارک میں اِکا دُکا لوگ ہی تھے ۔ موسم بہت اچھا ہو رہا تھا ۔بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔ہم دونوں ایک بنچ پر بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر بڑے بھیا نے کہا :

''تمھاری پانچویں جماعت ختم ہونے والی ہے ۔دو تین مہینوں میں چھٹی میں چلے جائو گے ،پتا ہے، ابھی تم کتنے سال کے ہو ؟''

''میں گیارہویں سال میں ہوں۔'' میں نے فورا جواب دیا ۔

''یعنی سمجھ دار ہوگئے ہو ۔'' بھیا نے ہنس کر کہا ۔

''آپ جتنا تو بالکل بھی نہیں۔'' میں نے بھی ہنس کر کہا ۔

''میرے بعد تمھیں تمام ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی۔'' بڑے بھیا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

''کیوں!آپ کہاں جا رہے ہیں ؟''میں نے فوراً سوال کیا اور اُن کی طرف دیکھنے لگا :

''جب ذمہ داریاں پڑتی ہیں تو خود بخود ذمہ دار بنا دیتی ہیں ۔''بڑے بھیا نے دھیرے سے کہا ۔میں نے بڑے بھیا کی طرف دیکھا، وہ مسکرا رہے تھے ۔ وہ دوبارہ بولے :

''میں مرنے والا ہوں۔'' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

'' کب ؟'' میں نے بے ساختہ حماقت بھرا سوال کیا ۔بڑے بھیا نے میری بات پر اتنی زور کا قہقہہ لگایا کہ اُن کے سارے کے سارے چمکتے ہوئے دانت نمایاں ہوگئے ۔مجھے فوراً ہی اپنی حماقت کا احساس ہوگیا اور میں نے سر جھکا لیا ۔بڑے بھیا نے بڑی مشکل سے ہنسی روک کے کہا :

''یہ مذاق نہیں ہے ۔''

'' یہ نہیں ہوسکتا ، بالکل نہیں، بالکل بھی نہیں ۔'' میں نے سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے چیخ کر کہا :

''آپ بہت بُرا مذاق کر رہے ہیں۔''

بڑے بھیا نے مسکراتے ہوئے کہا :

''محمد قمر الدین! میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔'' اُنھوں نے میرا پورا نام لیتے ہوئے کہا ۔مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بڑے بھیا کوئی بہت بڑی بات ، بہت خوفناک بات کر رہے ہیں لیکن کوئی بھلا اپنی ہی موت کی ،اپنے مرنے کی بات ہنستے ہوئے ، مسکراتے ہوئے کیسے کر سکتا ہے !موت تو بہت ڈرا دینے والی ہوتی ہے ۔جب دادا جان فوت ہوئے تھے تو جیسے گھر بھر میں کہرام مچ گیا تھا ۔سب روتے روتے بے حال ہوگئے تھے اور بڑے بھیا، اپنے مرنے کی بات یوں کر رہے تھے جیسے کہہ رہے ہیںکہ چھوٹو جلدی جلدی لفافے موڑو، نہیں تو لئی سوکھ جائے گی ۔ میں اُنھیں خاموشی سے دیکھے گیا۔میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اب میں بولوں تو کیا بولوں ؟ میں یہ بات نہ اماں سے کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی ابا سے ۔ وہ برداشت نہیں کر پائیں گے اور رابعہ اتنی چھوٹی سی ہے کہ یہ سب اس کی سمجھ سے باہر ہے ۔ بھیا نے دھیرے سے دوبارہ کہنا شروع کیا :

''میرے بعد گھر کے مرد تم ہو، تمھیں سب کو سنبھالنا ہے ،اُن کا خیال رکھنا ہے ۔''

'' لیکن آپ کیوں مریں گے،ہمیں آپ کی ضرورت ہے ! آپ کی جگہ میں کام کروں گا۔ آپ بس ایسی باتیں مت کریں ۔'' میں نے بڑے بھیا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے وہ ابھی موت کے میدان میں بھاگتے ہوئے گھسیں گے اور دَوڑتے دَوڑتے گم ہو جائیں گے :

''تم نے ڈاکٹر صاحب کی باتیں سنی ہیں نا۔اُنھوں نے کہا تھا کہ بھیا کے ساتھ وقت گذارا کرو کیونکہ اُنھیں معلوم ہے کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے ۔'' بھیا اتنا کہہ کے چپ ہوگئے ۔ہر طرف جیسے چپ سی چھا گئی ۔ رکشے ، موٹر سائیکل ، سڑک پر ریڑھی والے کی آوازیں سب کی سب چپ ہوگئیں ۔ بڑے بھیا نے دھیرے سے میرا ہاتھ تھپتھپایا ۔اچانک جیسے مجھے ہوش آگیا اور میں نے چیخ کر کہا :

'' مجھے کیوں بتایا ، مر جاتے چپ چاپ ! میں کیا ہر وقت اب آپ کے مرنے کا انتظار کروں گا ! اس سے پہلے تو میں ہی مر جاوں گا۔'' میں رونے لگا اور اُن کے کندھے پر زور ، زور سے سر مارنے لگا ۔ بڑے بھیا کچھ نہ بولے ، بس چپ رہے ۔ذرا بعد میں چپ ہوگیا ۔پھربڑے بھیا کہنے لگے :

''میں تمھیں اپنی موت کی خبر سنانے نہیں لایا ہوںبلکہ ایک راز بتانے کے لیے لایا ہوں ۔یہ راز ایک کام ہے جو تمھیں فوراًکرنا ہوگا ۔'' بڑے بھیا نے کہا اور میری طرف دیکھنے لگے ۔

'' کون سا کام! کون سا راز ... ؟'' میں نے مری مری آواز میں پوچھا ۔

گلی قسط میں جانیں: وہ راز کیا تھا؟"

( جاری ہے )

OOO

لکھاری

کاوش صدیقی

کاوش صدیقی پاکستان کے سب سے مقبول اور بیسٹ سیلر کہانی کار ہیں ، آپ بڑوں اور بچوں کے لیےبہت معیاری کہانیاں و ناول لکھتے ہیں۔ ملنسار اور میٹھے انسان ہیں ، کہانی گھر میں اِن کی کہانیاں آتی رہیں گی۔

بڑے بھیا ( دوسرا حصہ ) | کہانی گھر