🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
پریوں کی سلطنت
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶

پریوں کی سلطنت

دانیال حسن چغتائی
17 جولائی، 2026۲۳ مرتبہ پڑھی گئی

پریوں کی سلطنت سنیں

پرانے زمانے میں پرستان میں عظیم اور حسین سلطنت تھی، جسے نورنگ کہا جاتا تھا ۔یہ سلطنت اپنی جادوئی طاقتوں ، حیرت انگیز خوبصورتی اور امن و سکون کے لیے مشہور تھی۔ نورنگ میں مختلف قسم کی پریاں رہتی تھیں، اُن پریوں کے پاس قدرتی طاقتیں تھیں۔اُن میں سے کچھ پانی پر حکمرانی کرتی تھیں ، کچھ ہوا پر، کچھ درختوں اور پھولوں پر اور کچھ جانوروں کی مددگار تھیں۔ پریوں کی حکمران نیک دل ملکہ تھی ، اُس کا نام ملکہ زیریں تھا۔ملکہ زیریں خوبصورت اور مضبوط پری تھی ، اُس کے پاس تمام پریوں کی طاقتوں کو یکجا کرنے کا جادوئی ہار تھا۔اسی ہار کی وجہ سے پورے پرستان میں امن اور خوشحالی تھی ۔ پرستان کی سر زمین رنگ برنگے پھولوں، چمکتے ہوئے دریاں اور پرندوں کی خوبصورت چہچہاہٹ سے بھری ہوئی تھی لیکن پرستان کی اس خوبصورت زندگی پر خطرہ منڈلا رہا تھا اور جس کا علم صرف ملکہ زیریں کو تھا ۔ملکہ زیریں کو معلوم تھا کہ کہیں دُور، پرستان کی حدود کے باہر، کالا سحر نامی جادو گر رہتا ہے، وہ ہمیشہ سے پریوں کی سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس تاریک جادوئی طاقتیں تھیں ، لیکن اسے معلوم تھا کہ جب تک ملکہ زیریں کا ہار موجود ہے، وہ نورنگ کی سلطنت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتا تھا جب سلطنت کا جادو کمزور پڑے تاکہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کر سکے ۔ایک دن کالے سحر نے اپنا ایک منصوبہ بنایا ۔ اس نے اپنی تاریک طاقتوں سے خوفناک طوفان برپا کر دیا ، جس سے نورنگ میں ہلچل مچ گئی ۔اس طوفان سے خوفزدہ ہو کر پریاں اپنے گھروں میں چھپنے لگیں اور ملکہ زیریں کو اپنی سلطنت کی حفاظت کے لیے اپنی تمام طاقتیں استعمال کرنا پڑیں لیکن اسی دوران کالا سحر اپنی مکاری سے جادوئی ہار کو چرا کر لے گیا۔ہار کے بغیر نورنگ کی سلطنت کمزور پڑنے لگی۔ جادوئی پھول مرجھانے لگے، دریاں کا پانی خشک ہونے لگا ، پریوں کی طاقتیں مدھم ہونے لگیں ۔پورے پرستان میں خوف اور بے یقینی پھیل گئی ۔ ملکہ زیریں جانتی تھی کہ اگر ہار واپس نہ ملا تو پرستان تباہ ہو جائے گا۔اُس نے بہادر پریوں کو بلایا ۔ ان میں اریبہ نام کی ایک پری تھی ، اُس کے پاس ہوا کی طاقت تھی اور جسے بہادری اور دانائی میں سب سے آگے مانا جاتا تھا۔ ملکہ نے اریبہ سے کہا،یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ تم ہار کو کالے سحر سے واپس لائو۔ یہ سفر خطرناک ہوگا لیکن تمھیں اپنی طاقتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا ۔اریبہ نے ملکہ کی بات مانی اور سفر پر نکل پڑی ۔

اس نے پہاڑوں کو پار کیا ، گھنے جنگوں سے گزری اور آخر کار اس تاریک غار تک پہنچ گئی جہاں کالا سحر رہتا تھا۔ غار میں قدم رکھتے ہی، اریبہ نے اپنی ہوا کی طاقتوں کا استعمال کیا تاکہ وہ کالے جادو سے محفوظ رہ سکے ۔ غار کے اندر وہ کالے سحر سے سامنا کرنے کے لیے تیار تھی ۔کالا سحر ہنستے ہوئے بولا، تم چھوٹی پری مجھے شکست دینے آئی ہو ؟لیکن اریبہ نے حوصلہ نہیں ہارا۔اس نے ہوا کی طاقت سے زبردست طوفان برپا کیا ، جس سے غار کے اندر اندھیرا ہونے لگا۔ کالا سحر کمزور حریف نہیں تھا۔ اس نے اپنے کالے جادو سے اریبہ کو روکنے کی کوشش کی۔طویل لڑائی کے بعد ، اس نے اپنی تمام تر طاقتوں کو اکٹھا کیا اور زبردست ہوا کا جھونکا کالے سحر کی طرف پھینکا۔ کالے سحر کی گرفت کمزور پڑ گئی،آخراریبہ نے جادوئی ہار چھین لیا ۔ ہار ملتے ہی کالے سحر کی طاقتیں ختم ہو گئیں اور وہ بے بس ہو گیا۔اریبہ فورا ًنورنگ کی سلطنت کی طرف پرواز کرنے لگی ۔ جیسے ہی وہ واپس پہنچی اور ہار کو ملکہ زیریں کے گلے میں پہنایاتو پوری سلطنت میں جیسے زندگی لوٹ آئی۔پھول دوبارہ کھل اُٹھے۔ دریائوں کا پانی پوری رفتار سے بہنے لگا۔پریوں کی طاقتیں واپس آگئیں۔ملکہ زیریں نے اریبہ کی بہادری کی تعریف کی اور اسے پرستان کی سب سے عظیم محافظ قرار دیا۔ ہار کی طاقتیں دوبارہ بحال ہو گئیں ، نورنگ کی سلطنت میں ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو گیا۔

OOO

لکھاری

دانیال حسن چغتائی

جناب دانیال حسن چغتائی کا تعلق کہروڑ پکا سے ہے۔ادب اطفال کی دُنیا میں سال دو ہزار انیس سے ہیں ، بچوں کے خوب لکھ رہے ہیں ، پاکستان بھر میں چھپنے والے رسائل میں لکھتے رہتے ہیں ، اِن کی نو کتابیں شائع