علی چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ گھر کے سب افراد اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ روزانہ باقاعدگی سے اسکول جاتا تھا۔ اس کے اسکول کے سامنے ایک خوب صورت باغ تھا۔ اُس میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ جب سورج کی روشنی ان پھولوں پر پڑتی تو وہ اور بھی دل کش دکھائی دینے لگتے تھے۔باغ کی دیکھ بھال حکیم چچا کرتے تھے۔ وہ روز صبح سویرے آکر پودوں کو پانی دیتے تھے۔ وہ بچوں سے ہمیشہ کہتے تھے:
''پیارے بچو!پھول اللہ تعالیٰ کی خوب صورت نعمت ہیں، انھیں توڑا نہ کرو۔''
زیادہ تر بچے ان کی بات مانتے تھے مگر ، ایک بچہ بہت شرارتی تھا۔ اُس کا نام بلال تھا۔ بلال کو پھول بہت پسند تھے۔ وہ پھول توڑ کر گھر لے جاتا اور جب وہ مرجھا جاتے تو انھیں پھینک دیتا۔
ایک دن بلال نے گلاب کا ایک پھول توڑ لیا۔ علی نے اسے دیکھا تو ناراضی سے بولا:
''بلال!تم نے پھول کیوں توڑا ہے؟'' بلال نے ہنستے ہوئے کندھے اچکائے اور کہا:
''ارے !صرف ایک ہی تو پھول توڑا ہے، اِس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟'' علی نے جواب دیا:
''فرق پڑتا ہے، اگر تم روز پھول توڑو گے تو حکیم چچا ناراض ہوں گے اور باغ پہلے کی طرح خوب صورت نہیں لگے گا۔'' بلال نے کوئی جواب نہ دیا اور وہاں سے چلا گیا۔
اگلے دن اُستاد بچوں کو باغ میں لے گئے۔ اُنھوں نے شہد کی مکھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
''دیکھو بچو!یہ مکھیاں پھولوں سے رَس جمع کرتی ہیں اور پھر اُس سے شہد بنتا ہے۔ اگر ہم پھول توڑ دیں گے تو شہد کیسے بنے گا؟''بلال خاموشی سے اُستاد کی بات سنتا رہا۔اُسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگاتھا۔چند دن بعد اسکول میں اعلان ہوا کہ تمام بچے مل کر باغ کی صفائی کریں گے۔ سب بچے خوشی خوشی کام کرنے لگے۔ کسی نے پودوں کو پانی دیا، کسی نے گھاس صاف کی اور کسی نے گملے سیدھے کیے۔کام کرتے ہوئے بلال نے سوچا کہ پودے کتنے نازک اور پیارے ہوتے ہیں۔اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ سوکھ جاتے ہیں۔ اسے حکیم چچا کی محنت بھی نظر آئی۔ وہ روز اتنی محنت اس لیے کرتے تھے کہ باغ خوب صورت دکھائی دے۔اسی دوران ایک چھوٹا بچہ پھول توڑنے لگاتو بلال فوراً اس کے پاس گیا اور بولا:
''ننھے بچے!پھول مت توڑو، پھول توڑنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔'' بچے نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا اور کہنے لگا:
''اچھا بھیا!میں پھول نہیں توڑوں گا، مجھے معاف کر دیں۔'' ننھے بچے کی بات سن کر علی بہت خوش ہوا اور اس نے بلال کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا:
''واہ بلال! تم بہت سمجھ دار ہو گئے ہو۔''
بلال مسکرا کر بولا:
''پہلے میں سوچتا تھا کہ ایک پھول توڑنے سے کیا ہوتا ہے لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ ہر پودا کتنا قیمتی ہوتا ہے۔''
چند ہفتوں بعد اسکول میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ایک ماحولیاتی ٹیم باغ دیکھنے آئی تو رنگ برنگے پھولوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ اُنھوں نے بچوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
''تم سب نے اس باغ کو بہت خوب صورت بنا دیا ہے، ماشاء اللہ۔''
پرنسپل صاحب نے بھی بچوں کی محنت کو خوب سراہا۔اس دن کے بعد بلال نے کبھی کوئی پھول نہیں توڑا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی سمجھانے لگا کہ پھول توڑنے کے بجائے انھیں کھلنے دو، کیوں کہ پھولوں اور پودوں سے ہی ماحول خوب صورت اور خوش گوار بنتا ہے۔اب باغ پہلے سے بھی زیادہ خوب صورت دکھائی دینے لگا تھا۔ حکیم چچا بچوں کو دیکھ کر مسکراتے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے کہ اب سب بچے مل کر باغ کی حفاظت کرتے ہیں۔
O
