''ارے لمبو میاں!آپ تو میلے میں کہیں نظر ہی نہیں آئے، خیر تو تھی؟'' لومڑ نے ہنسی دباتے ہوئے پوچھا۔اس سے پہلے کہ لمبو کچھ کہتا، مورنی بول اُٹھی:
''یہ کیسے آتا! اس کی لمبی گردن ہی کہیں جھاڑیوں میں پھنسی ملتی۔'' مورنی کی بات سن کر قریب ہی موجود جانور اورختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھے پرندے زور زور سے ہنسنے لگے۔اُن کی باتیں سن کر لمبو خاموش ہوگیا اور پھر اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
گائوں کے قریب ہی ایک سرسبز جنگل تھا۔ اس جنگل میں جانوروں کے ساتھ پرندوں اور انسانوں کے لیے بھی ہر نعمت موجود تھی۔وہیں ایک لمبی گردن والا زرافہ رہتا تھا۔ اپنی لمبی گردن کی وجہ سے زرافہ پورے جنگل میں مشہور تھا۔سب اُسے لمبو کہہ کر بلاتے تھے۔جہاں لمبو اپنی لمبی گردن کے باعث پورے جنگل میں مشہور تھا، وہیں کچھ جانور اس کی اس خاصیت پہ مذاق اُڑاتے تھے۔
ایک دن جنگل میں اعلان ہوا کہ ایک میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔میلے میں مور ناچیں گے، کوئل راگ سنائے گی، بندر کرتب دکھائیں گے اور اس طرح بہت سے جانور اپنی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔تمام جانوروں کو یقین دلایا گیا کہ کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہوگا، کوئی بھی جانور یا پرندہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
میلے کا سن کر تمام جانور اور پرندے بہت خوش ہوئے۔میلہ جنگل کے ایسے حصے میں رکھا گیا جس کے راستے میں لمبے درخت، جھاڑیاں اور تنگ راستے تھے۔ پرندے اُڑ کر با آسانی پہنچ گئے۔ بندر درختوں کی ٹہنیوں پر چھلانگیں لگاتے پہنچے اور باقی جانور تنگ راستوں سے ہوتے ہوئے میلے میں شامل ہو گئے، لیکن لمبو اپنی گردن کی وجہ سے میلے میں شامل نہ ہو سکا۔شام کو جب سب پرندے اور جانور واپس آئے تو لمبو کا مذاق اُڑانے لگے۔
اُس رات لمبو روتا رہا۔اُس نے رب العالمین سے اپنی لمبی گردن بنانے پر بہت شکوہ کیا، روتے روتے اُسے کب نیند آ گئی، کچھ پتا ہی نہ چلا۔ دن گزرتے گئے،بہار کے دن ختم ہوئے اور کڑکتی گرمی نے جنگل میں ڈھیرا جما لیا۔ دن بدن گرمی میں اضافہ ہو رہا تھا۔بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھیرے دھیرے جنگل کا سبزہ ختم ہو رہا تھا۔ سب جانور بھوک سے مر رہے تھے۔ درختوں کی ٹہنیاں خشک سالی کا شکار ہو گئیں، بس اُونچی ٹہنیوں پر پھل لگے ہوئے تھے۔ جہاں کچھ جانور بھوک سے تڑپ رہے تھے ،وہیں زرافہ اپنی لمبی گردن کی وجہ سے درختوں کی اونچی اونچی ٹہنیوں سے پھول اور پھل توڑ کر کھاتا تھا۔
ایک دن جنگل کے بہت سے جانور جن میں بکری، بھیڑ اور بھالو شامل تھے، زرافہ کے پاس آئے اور کہنے لگے:
'' زرافہ بھائی!ہماری مدد کرو، ہم بھوک سے مر رہے ہیں۔ درختوں کی نچلی ٹہنیاں سوکھ چکی ہیں اور اُوپری ٹہنیوں پر ہم نہیں پہنچ سکتے۔''
سب کو پریشان دیکھ کر لمبو نے مدد کرنے کی حامی بھرلی ۔ اُس نے سب کے لیے کھانا جمع کیا۔ لمبو کی رحم دلی دیکھ کر سب اپنے کیے پر شرمندہ ہوئے۔ اُنھوں نے باری باری لمبو سے معافی مانگی اور فیصلہ کیا کہ اب کی بار جنگل میں میلہ کھلے میدان میں لگے گا۔سب کو خوش دیکھ کر لمبو نے آسمان کی جانب دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگی کیوں کہ وہ جان چکا تھا کہ اللہ نے کوئی بھی چیز بے کار پیدا نہیں کی۔
OOO
