وہ سردی سے بُری طرح کانپ رہاتھا۔اُس کاگھرایک نالے کے پہلومیں بناہوا تھا۔ ایک حادثے میں وہ اپنی امی سے بچھڑگیاتھا۔اس کے بعد اُس کاکوئی مستقل ٹھکانا نہ رہا۔ جہاں کوئی مناسب جگہ ملتی، وہ وہیںاپنامسکن بنالیتا تھا۔کچھ ہی دن پہلے اسے اِس نالے کے پہلومیں ایک بڑاساسوراخ نظرآیاتھا۔شدید سردی میںجب وہ اس کے اندر گھساتو اسے وہاں بڑاسکون محسوس ہوا۔یہ سوراخ زیادہ کشادہ تھا،نہ زیادہ تنگ۔ سردی سے بچنے کے لیے یہ جگہ اسے بہترین لگی تھی۔اب وہ دن اوررات کااکثرحصہ یہیں بسر کرنے لگا۔
ایک رات اچانک موسم خراب ہوگیا۔آسمان پربادل زورزورسے گرجنے لگے اور بجلیاں چمکنے لگیں۔یہ منظراس نے پہلی بار دیکھا تھا، اس لیے وہ سہم کربیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد بارش شروع ہوگئی، اس سے سردی مزیدبڑھ گئی۔ اگرمعاملہ صرف ٹھنڈ تک محدود رہتا توقابلِ برداشت تھالیکن بارش سے نالے کاپانی اتنا بڑھا کہ بڑھتے بڑھتے سوراخ میں داخل ہونے لگا ۔ اب وہاںٹھہرنا اس کے لیے ممکن نہ رہا ۔اُسے مجبوراً باہر نکلناپڑا۔
اُسے بارش سے محفوظ کسی پناہ گاہ کی تلاش تھی،کہیں بھی جانے کے لیے اسے سب سے پہلے نالے کی چڑھائی عبور کرنی تھی۔ اس نے مشکل سے گرتے پڑتے چڑھائی سر کی۔ سردی سے اس کاجسم بری طرح کانپ رہاتھا۔
اب اس کارخ سامنے بستی کی طرف تھا۔بارش کی شدت تو کم ہورہی تھی لیکن سردی کی تیزی بدستوربرقرار تھی۔وہ چلتے چلتے بستی کے قریب پہنچ گیامگر اس کا ٹھٹھرتا جسم اب اکڑنے لگاتھا۔ مزید چلنا اس کے لیے دشوار ہو رہا تھا۔وہ ہمت کرکے بستی میں داخل ہوااور کئی دروازوں کی طرف منہ کرکے زورزورسے چلایا مگراس کے لیے کوئی دروازہ نہ کھلا ۔اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔آخر وہ سردی سے بے حال ہو کر ایک دروازے کے سامنے گرپڑا۔ موت اسے اپنے قریب آتی محسوس ہونے لگی۔اس کی آنکھوں کے گرد اندھیرا چھا گیا۔
رات کاآخری پہرتھا۔اشرف چاچاآہستہ سے دبے پائوں اُٹھے اور بڑی احتیاط سے قدم اُٹھاتے ہوئے وضوخانے کی طرف چل پڑے۔ وہ ہمیشہ اس وقت اُٹھتے ہوئے اس بات کاخیال رکھتے تھے کہ گھرمیں موجود سوئے ہوئے افراد کی نیند خراب نہ ہو۔سردی شدید تھی، اُنھوں نے اچھی طرح شال اوڑھی اورجاکروضوکیا۔ پھر مصلیٰ بچھاکررب تعالیٰ کے حضور، نیت باندھ کرکھڑے ہوگئے۔ سردی ہویا گرمی، صحت ہو یابیماری،اشرف چاچا کے اس وقت اُٹھ کرتہجد پڑھنے کے معمول میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا۔وہ نماز کے بعد دُعا مانگ رہے تھے کہ انھیں گلی سے کراہنے کی ہلکی سی آوازسنائی دی۔ یہ آواز ایک کتے کے پلے کی تھی۔ آوازسن کروہ فکرمندہوگئے کہ اس شدیدسردی اوربرستی بارش میںیہ بے زباں تکلیف میں ہوگا ۔
وہ فوراًاُٹھے اور دروازہ کھول کرباہر دیکھنے لگے۔ دروازے کے سامنے ہی وہ بے ہوش پڑا نظرآیا۔ ٹھنڈسے اس کا جسم اکڑچکا تھا۔اشرف چاچا اُسے جلدی سے اُٹھاکر اپنے گھرکے اندر برآمدے میںلے آئے۔ پہلے ایک کپڑے سے اس کا بدن پونچھا اور پھر اس کے قریب آگ جلائی۔ آگ کی تپش سے اس کابدن گرم ہونے لگا۔ جلد ہی اس نے اپنی آنکھیں کھول لیں۔ اب اس کے جسم میں جان پڑ چکی تھی۔اشرف چاچانے اس کے سامنے ایک چھوٹے سے برتن میںدودھ رکھا۔وہ جلدی جلدی دودھ چاٹنے لگا۔جب اس کا پیٹ بھرگیااور اس کے بدن سے ٹھنڈ دورہوگئی تو اُنھوںنے اُسے ایک ٹوکرے کے نیچے بند کر دیا۔ ایک گرم بوری بھی ٹوکرے کے اوپرڈال دی تاکہ وہ ٹھنڈ سے محفوظ رہے۔
جب دن چڑھا اور تیزدھوپ ہر طرف پھیل گئی تواشرف چاچانے اُسے گھر سے باہر نکال دیا تاکہ وہ جہاں سے آیا تھا،وہیں چلا جائے۔کافی دیربعد اُن کے بیٹے نواز نے کسی کام کی غرض سے باہرجانے کے لیے دروازہ کھولا۔جونہی اس نے باہر دیکھا تو چونک پڑا۔ کتے کا پلا ابھی تک دروازے کے باہرہی بیٹھاہواتھا۔نوازکو دیکھتے ہی وہ دُم ہلانے لگا۔
نواز نے واپس اندر آکر ابو کواطلاع دی کہ وہ تو ابھی تک باہرہی بیٹھا ہواہے ۔ اشرف چاچا نے اُسے کہیں دُورچھوڑ کرآنے کی ہدایت کی تو نواز اُسے اُٹھاکر ایک دُور مقام پرچھوڑ آیامگر اُن کی یہ ترکیب بھی دھری کی دھری رہ گئی۔پِلاّ شام کو پھراُن کے دروازے پر موجود تھا۔ اب اسے اِس گھرکے دَر و دیوار سے بھی محبت ہوگئی تھی۔ وہ خود ہی اپنے گلے میں اشرف چاچاکے احسان کی زنجیر ڈال چکا تھا۔اس لیے یہ دروازہ چھوڑنا اب اس کے لیے نا ممکن تھا۔ وہ اپنی وفادار فطرت سے مجبورتھا۔ اس نے اپنی زندگی اشرف چاچاکی غلامی میں بسر کرنے کا عزم کرلیاتھا۔
اشرف چاچانیکی کرکے دریامیں ڈال چکے تھے۔ انھیں خبرہی نہیں تھی کہ جسے وہ اپنے گھر سے باہر نکال رہے ہیں،وہ اس ایک رات کے بدلے، اپنی ساری زندگی اُ ن پرنچھاور کرنا چاہتا ہے۔ اُنھوں نے نوازکوبھیج کراپنا ایک دوست بلوایا۔اس کے پاس کثیرتعداد میں بھیڑ اور بکریاں موجودتھیں۔اشرف چاچانے اُسے کہا:
'' یار!اِسے رکھ لو، ذرابڑاہوکرتمھاری بھیڑبکریوں کی حفاظت کرے گا۔ کچھ عرصہ اسے اپنے گھر میں باندھ کر رکھناتاکہ یہ وہاں کاعادی ہوجائے اورمیرے گھر واپس نہ آئے۔''
وہ شخص اس پِلّے کواپنے گھرلے گیااورایک کھونٹے سے باندھ دیا۔ اب اس پلّے کے شب و روزاسی طرح بندھے ہوئے گزرنے لگے۔
پھر گردش ِ ایام نے بہت کچھ بدل دیا۔ موسمِ سرما کی جگہ موسمِ گرمااپناجوبن دکھانے لگا۔ چھے ماہ میںوہ پلا ایک توانا جوان کتابن گیاتھا۔ اتناعرصہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے محسن کو نہیں بھولا تھا، جس کے سبب اُس نے ایک نئی زندگی پائی تھی۔جب بھی اُسے وہ سرد رات یادآتی،وہ شدت سے اشرف چاچاکویادکرتا۔وہ اُنھیں اپنی نئی زندگی کاوسیلہ سمجھتاتھا۔
ایک دن اُس کی رَسّی اور گھر کا دروازہ دونوں کھلے رہ گئے تھے۔موقع دیکھ کروہ فوراً بھاگ نکلا۔اُس کا رخ سیدھا اشرف چاچاکے گھرکی طرف تھا۔ جوں ہی اُسے در وازہ نظرآیاتو وہ خوشی سے پاگل ہونے لگا۔اُس نے دروازہ کھولنے کے لیے ہلکاسا دھکادیا مگروہ اندر سے بندتھا۔پھر اُس نے دروازے کے نیچے سے اندرجانے کی کوشش کی۔اُس کا سرتواندرنہ جا سکا، البتہ اسے صحن کامنظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔صحن میں دوچارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ایک چارپائی پر اشرف چاچااوردوسری پر نوازسورہا تھا۔اسی لمحے اُس نے ایک خوف ناک منظر دیکھا۔وہ دیکھتے ہی زور زور سے بھونکتے ہوئے دروازے کو دھکیلنے لگا۔
شورسے اشرف چاچاکی آنکھ کھل گئی۔وہ کُتّے کی اس حرکت پرسیخ پاہوگئے۔اُسے بھگانے کے لیے اُنھوں نے ایک ڈنڈا اُٹھالیا۔ایک ہاتھ سے دروازہ کھولا اور دوسرے ہاتھ میں موجود ڈنڈا بلند کرلیا ۔ جوں ہی دروازہ کھلاتو اِدھر کتا اندر کی طرف دوڑا،اُدھر اشرف چاچا کاڈنڈا حرکت میں آیامگرڈنڈا کتے کی کمر کی بجائے سیدھا زمین پرجالگا،کیوں کہ وہ ایک ہی چھلانگ میں آگے نکل چکاتھا۔کتے کوبیٹے کی طرف بڑھتا دیکھ کراشرف چاچا اُسے مارنے کے لیے دوڑے۔ شور سے بیٹے کی بھی آنکھ کھل گئی۔اس نے کتے کو اپنی طرف آتے دیکھا توزورسے چیخ اُٹھا۔اُسے لگا کہ کتا اس پرحملہ آور ہونے کوہے۔ اسی لمحے اشرف چاچا کی بھی چیختی ہوئی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی:
'' بیٹا ! بچو...بچو...''
ساتھ ہی اشرف چاچا کاڈنڈا ایک بار پھربلندہوا مگراَب اُس کا رخ بدل چکاتھا۔ایک سانپ چارپائی کے پائے سے لپٹتا ہوا اُوپرچڑھ رہاتھا۔ وہ نواز کے پائوں تک پہنچ چکا تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کاٹ لیتا، کتے نے جھپٹ کر اُسے اپنے دانتوں میں دباکر دُور پھینک دیا۔ اشرف چاچا کا ڈنڈا کتے کے بجائے سانپ کے سر پربرس ر ہا تھا۔
نواز سانپ کودیکھتے ہی ڈرکے مارے دیوارسے چِپک گیا۔ سانپ کومارنے کے بعداشرف چاچا نے بیٹے کو گلے سے لگا لیااور رَب کاشکراداکرنے لگا۔
کتاآہستہ آہستہ رینگتے ہوئے آگے بڑھا اور چاچا اشرف کے قدموں میں سر رکھ کر دُم ہلا ہلاکر اظہارِخوشی کرنے لگا۔ باپ بیٹاپہلی ہی نظرمیں کتے کوپہچان چکے تھے ۔ اشرف چاچا اس سرد رات میں کی گئی ہمدردی کاصلہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی نیکی کا نتیجہ تھاکہ آج ان کابیٹاان کے سامنے صحیح سلامت موجود تھا۔
'' بیٹا!اینٹیں لائو...'' اُنھوں نے نواز کوحکم دیا۔
اشرف چاچاکتے کاگھربنانے میںمشغول ہوگئے کیوں کہ اب اُنھیں اپنی بھیڑ بکریوں کی حفاظت کے لیے ایک کتے کی ضرورت تھی۔دوماہ قبل ہی انھوں نے بھیڑبکریاں پالنا شروع کی تھیں ۔ اتنے میںدروازے پردستک ہوئی۔اُنھوں نے دروازہ کھول کردیکھا تو وہی دوست کھڑاتھاجس کے حوالے اُنھوں نے کتا کیا تھا۔ اُس نے معذرت کرتے ہوئے کہا :
'' مجھے اندازہ نہیں تھاکہ یہ اتنے عرصے بعد بھی آپ کے گھرکارخ کرئے گا۔''
''اب آپ اس سے بے فکرہو جائیں!یہ ہمارے پاس ہی رہے گا۔'' اشرف چاچایہ کہہ کر دوبارہ کتے کا گھر بنانے میں مصروف ہوگئے۔
OOO
