مما کمرے میں داخل ہوئیں تو حیران رہ گئیں۔اُن کے تینوں بچے کمرے کی ناکافی روشنی میں ٹیبلٹ لیے بیٹھے تھے۔
رات کے اِس پہر بچوں کو یوں مصروف دیکھ کر وہ چلائیں:
یہ کیا کر رہے ہو تم؟
مما ! وہ نیند نہیں آ رہی تھی، اِس لیے .....
بیٹا! تم اپنی آنکھیں برباد کرلو گے ایسی حرکتوں سے! ذہنی مریض بن جاؤ گے سب....
مما ! ابھی سوجاتے ہیں۔ بڑے بیٹے نواز نے کہا تو بچوں کی مما واپس اپنے کمرے میں جاکر ، آئی فون اُٹھا کر سکرولنگ کرنے لگتی ہے۔ کمرے میں روشنی بھی ناکافی تھی۔
