🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
نور نگر کا مسافر

نور نگر کا مسافر

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان
12 جولائی، 2026۱۷۴ مرتبہ پڑھی گئی

نور نگر کا مسافر سنیں

​بہت پرانی بات ہے، ایک خوبصورت وادی تھی جس کا نام نور نگر تھا۔ اس وادی کے لوگ اپنے مخلصانہ اخلاق اور محبت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھے۔ اسی وادی کے ایک کونے میں ننھا احسن اپنے دادا جان کے ساتھ ایک چھوٹے سے صاف ستھرے مٹی کے گھر میں رہتا تھا۔ احسن کا دل بالکل صبح کے چاند کی طرح صاف تھا، لیکن وہ زندگی کے ایک بڑے راز کو پانے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا تھا۔

​ایک شام جب سورج اپنی سنہری چادر سمیٹ کر پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا اور مسجد سے مغرب کی دلنشین اذان گونج رہی تھی، احسن نے نماز کے بعد دادا جان کا ہاتھ تھاما اور بولا کہ دادا جان! آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی دولت وہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ دولت کیا ہے؟ اور میں اسے کیسے پا سکتا ہوں؟ دادا جان نے شفقت سے احسن کے سر پر ہاتھ پھیرا ان کی سفید داڑھی میں ایک مسکراہٹ چمک اٹھی۔ انہوں نے جیب سے ایک مخملی تھیلی نکالی اور اس میں سے ایک بے رنگ دھندلا سا پتھر نکال کر احسن کی ہتھیلی پر رکھ دیا اور کہا کہ میرے بچے! یہ 'دلِ بیدار' کا پتھر ہے۔ یہ ابھی مرجھایا ہوا ہے، لیکن اگر تم تین ایسے کام کرو جن سے اللہ راضی ہو اور بندوں کو سکھ پہنچے، تو یہ پتھر قیمتی ترین ہیرا بن جائے گا اور تمہیں تمہاری مطلوبہ دولت مل جائے گی۔

​اگلی صبح احسن پتھر کو جیب میں رکھ کر سفر پر نکل پڑا۔ ابھی وہ وادی کے بازار سے گزر ہی رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا لکڑ ہارا بھاری گٹھڑی اٹھائے چل رہا تھا اور اس کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور لکڑیاں بکھر گئیں۔ پاس سے گزرنے والے لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے، لیکن احسن کو اپنے نبی پاک ﷺ کا وہ فرمان یاد آیا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ احسن دوڑ کر آگے بڑھا، اس نے بوڑھے دادا کو سہارا دیا اور اپنے ننھے ہاتھوں سے ساری لکڑیاں جمع کر کے انہیں بوڑھے کے گھر تک پہنچا کر آیا۔ جب اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، تو وہ حیران رہ گیا کہ پتھر کا ایک حصہ گہرے نیلے رنگ میں بدل چکا تھا اور اس سے عاجزی کی دھیمی سی خوشبو آ رہی تھی۔

​دوپہر کے وقت احسن ایک چشمے کے پاس سستانے کے لیے بیٹھا۔ وہاں اس کی نظر گھاس پر گرے ہوئے ایک چمکیلے بٹوے پر پڑی۔ جب احسن نے اسے کھولا، تو وہ سونے کے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں خیال آیا کہ اس سے وہ کتنے ہی کھلونے خرید سکتا ہے، لیکن فوراً ہی اس کے ضمیر نے دستک دی کہ مسلمان تو امانت دار ہوتا ہے، اور اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ احسن نے بٹوا اٹھایا اور پکارنے لگا کہ یہ بٹوا کس کا ہے؟ کچھ ہی دیر میں ایک تاجر روتا ہوا وہاں پہنچا جو اپنی عمر بھر کی کمائی کھو چکا تھا۔ احسن نے بٹوا پوری دیانت داری سے اس کے حوالے کر دیا۔ تاجر نے خوش ہو کر اسے کچھ سکے دینے چاہے، لیکن احسن نے نرمی سے منع کر دیا اور کہا کہ مجھے اس کا اجر صرف اپنے رب سے چاہیے۔ جب احسن نے پتھر کو دیکھا، تو اس کا دوسرا حصہ بھی سبز زمرد کی طرح چمکنے لگا تھا، جو امانت اور تقویٰ کی چمک تھی۔

​شام ڈھلنے کو تھی، احسن واپس گھر کی طرف لوٹ رہا تھا کہ راستے میں وادی کے ایک شریر لڑکے نے شرارت میں ایک پتھر پھینکا جو سیدھا احسن کے گھٹنے پر لگا۔ احسن کو سخت تکلیف ہوئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ چاہتا تو بدلہ لے سکتا تھا کیونکہ وہ اس لڑکے سے زیادہ طاقتور تھا، لیکن اسے قرآن پاک کی وہ آیت یاد آئی جس میں اللہ فرماتا ہے کہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ احسن نے گہرا سانس لیا، غصے کو پیا اور مسکرا کر کہا کہ کوئی بات نہیں بھائی! اللہ آپ کو خوش رکھے۔ وہ لڑکا شرمندگی سے پانی پانی ہو گیا اور اس نے آگے بڑھ کر احسن کو گلے لگا لیا۔ اسی لمحے احسن کی جیب میں موجود پتھر شدید روشن ہو گیا۔ اس کا آخری حصہ بھی یاقوت کی طرح سرخ ہو چکا تھا اور اب وہ ایک عام پتھر نہیں، بلکہ ایک نایاب چمکتا ہوا ہیرا بن چکا تھا جس کی روشنی سے اندھیرا راستہ بھی جگمگا اٹھا تھا۔

​احسن دوڑتا ہوا گھر پہنچا اور دادا جان کی گود میں سر رکھ کر پتھر دکھایا کہ دادا جان! دیکھیے، یہ پتھر تو مکمل طور پر بدل گیا اور روشن ہو گیا! دادا جان نے احسن کو سینے سے لگایا اور محبت بھرے لہجے میں کہا کہ میرے پیارے بچے! یہ چمک اس پتھر کی نہیں، بلکہ تمہارے اندر کے انسان کی ہے۔ تم نے ایثار، امانت اور عفو و درگزر سے اپنے دل کو روشن کر لیا ہے۔ یہی وہ حقیقی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی یعنی ایمان اور حسنِ اخلاق کی دولت، اور یہی ہمارے پیارے دین اسلام کا خوبصورت چہرہ ہے۔ احسن نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ستارے چمک رہے تھے، اور اس کا دل اپنے رب کے شکر اور ایمان کے نور سے لبریز تھا۔

لکھاری

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان